ادب

ٹورونٹو کے ادبی منظر میں ممولے کو شہباز سے لڑانے والے ہنر مندوں کی فنکاریاں

ٹورونٹو کے ادبی منظر میں ممولے کو شہباز سے لڑانے والے ہنر مندوں کی فنکاریاں

آصف جاوید پیارے فیصل عظیم : چونکہ آپ میرے فیس بُک فرینڈ ہیں جو کہ سماجی رابطوں کا ایک دوستانہ فورم ہے ، جس کے ذریعے  دنیا بھر  سے دوست ، جغرافیائی حدود  اور فاصلوں کی پابندی کے بغیر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ فیس بُک  سماجی  رابطوں کا موثّر اور  تیز ترین  ذریعہ ہے جس کے  طفیل […]

· 1 comment · ادب
گوہر گزشت

گوہر گزشت

ڈاکٹر پرویز پروازی جناب الطاف گوہر کا نام نامی ہمارے ملک کی نوکر شاہی کا بڑا نمایاں نام ہے اس لئے ان کی سرگزشت کا ذکر آتے ہی ان کے کارہائے نمایاں آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں اور قاری یہ سوچنے لگتا ہے کہ اتنے اہم عہد میں اتنے اہم عہدوں پر اور لوگوں کے ساتھ رہنے والے شخص […]

· 1 comment · ادب
پُورا سچ

پُورا سچ

ڈاکٹر شہناز شورو۔ٹورانٹو        میرے لیے یہ سوال کبھی اہم نہیں رہا کہ پاکستان میں کتنے لوگ لکھ رہے  ہیں، میرا مقصود و منشا یہی ہے کہ دیکھا جائے کہ کیا اور کیسا لکھا جارہا ہے؟ کس قسم کی سوچ کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی بات کی جارہی ہے یا کس قسم کے رویّے اور سوچ کے خلاف قلم کار […]

· 2 comments · ادب
صدیوں کا کام نصف صدی میں۔ بابائے اردو کا کارنامہ 

صدیوں کا کام نصف صدی میں۔ بابائے اردو کا کارنامہ 

آصف جیلانی  یہ تو اردو سے محبت کرنے والوں کو معلوم ہے کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق 1870کو ریاست اتر پردیش کے قصبہ ہاپوڑ میں پیدا ہوئے اور کراچی میں 16 اگست 1961کوکراچی میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ انہوں نے 1888میں علی گڑھ میں داخلہ لیا اور 1896میں بی اے کیا ، […]

· 1 comment · ادب
انتظار

انتظار

جان خاص خیلی وہ ریل گاڑی کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ کافی دیر ہو گئی ہے۔ ریل گاڑیاں، چیختی دھواں اگلتی آ جا رہی ہیں۔ وہ اداس ہے گویا ریل گاڑی میں اس کا دل رہ گیا ہے۔ اس کے دیکھتے ہی دیکھتے ریل گاڑی اس کی عمر کے لمحوں کے مانند چیختی دھواں اگلتی جا رہی ہے اور وہ […]

· 0 comments · ادب
لال سیب 

لال سیب 

زرک میر  اس نے عجلت سے ادھر ادھر دیکھا اور جلدی سے سیب کو کھانے لگا ۔پھر کچھ نیچے جھک کر درختوں کے نیچے سے دیکھنے لگا کہ کوئی آتو نہیں رہا ۔اس کا گھوڑا باغ کے باہر کھڑا تھا ۔وہ گھاس کاٹنے کیلئے باغ میں گھسا تھا لیکن یہاں لال لال سیبوں کو دیکھ کر دل پسیج گیا اور […]

· 0 comments · ادب
آپ اپنی تماشائی

آپ اپنی تماشائی

ڈاکٹر پرویز پروازی مشہور صحافی، کالم نگار، نفسیات دان اور استاد محترمہ راشدہ نثار کی خودنوشت’’ آپ اپنی تماشائی‘‘ کے عنوان سے گلبن کراچی کی جانب سے 2009ء میں چھپی ہے۔ راشدہ نثار نے اسے ایک بھر پور زندگی کی داستان کہا ہے او ران کی بھر پور زندگی کی داستان واقعتہً بھر پور طریق سے معرض بیان میں آئی […]

· 0 comments · ادب
سحاب قزلباش: اردو شاعری کا روشن چراغ

سحاب قزلباش: اردو شاعری کا روشن چراغ

آصف جیلانی یہ برطانیہ میں رہنے والے اہل اردو کی خوش نصیبی تھی کہ سحاب قزلباش جیسی ممتاز شاعرہ ان کے بیچ رہیں اور مجھ ایسے بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے سحاب کو دیکھا ہے۔  سحاب سے ملاقات اور ان کے ساتھ روزنامہ جنگ لندن اور بی بی سی میں کام […]

· 1 comment · ادب
ایستیبان۔ دنیا کا خوبصورت ترین ڈوبنے والا مرد

ایستیبان۔ دنیا کا خوبصورت ترین ڈوبنے والا مرد

گیبرئیل گارشیا مارکیز سب سے پہلے جن بچوں نے سمندر کی طرف سے بہہ کرآنے والی اس سیاہ پھولی ہوئی چیز کو دیکھا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ کوئی دشمن کا جہا زہے، تب پھرا نہوں نے دیکھا کہ یہ شے تو جھنڈے اورمستول کے بغیر ہے او ریوں وہ سمجھے کہ یہ ایک وہیل مچھلی ہے لیکن […]

· 0 comments · ادب
ایدھی کی کھلی کتاب

ایدھی کی کھلی کتاب

ڈاکٹر پرویز پروازی پاکستان بلکہ دنیا بھر کے انسانیت کے معروف خد مت گذار عبدا لستار ایدھی کی سوانح حیات ’’کھلی کتاب‘‘ کے عنوان سے محترمہ تہمینہ درانی نے تالیف کی ہے۔ پیش لفظ میں ایدھی صاحب نے لکھا ہے کہ’’ میں اگرچہ گجراتی زبان میں لکھنا پڑھنا جانتا ہوں لیکن اردو اور انگریزی میں لکھنے کے لئے تمام حالات […]

· 6 comments · ادب
منٹو کی غلط تعبیر۔آخری حصہ

منٹو کی غلط تعبیر۔آخری حصہ

اجمل کمال ۔(۹) اس کے بعد عسکری اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ منٹو کی سابقہ تحریروں کے تناظر میں اس نئی کتاب کی معنویت کا تعین کیا جائے۔ لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ دو برس پہلے تمام نئے ادب کو دریابُرد کرتے ہوے انھوں نے منٹو کی کسی تحریر کو سنبھال کر نہیں رکھا تھا۔ اس […]

· 0 comments · ادب
منٹو کی غلط تعبیر-2

منٹو کی غلط تعبیر-2

اجمل کمال ۔’’فسادات اور ہمارا ادب‘‘ میں عسکری نے اپنی بنائی ہوئی تعریف کے لحاظ سے منٹو کو پاکستانی ادب کی ایک روشن مثال قرار دیا تھا۔ منٹو نے ان کی بات کو کوئی اہمیت نہ دی کیونکہ وہ یہ معقول رائے رکھتے تھے کہ اردو ادب کا بھلا اس میں ہے کہ نقاد جو کچھ کہیں اس کا الٹ […]

· 3 comments · ادب
منٹو کی غلط تعبیر۔1

منٹو کی غلط تعبیر۔1

اجمل کمال مئی ۱۹۴۶ کے بعد محمد حسن عسکری نے جو سیاسی موقف اختیار کیا اور اسے ادب پر جس طرح منطبق کرنے کی کوشش کی، اس کے سلسلے میں انھیں ایسی تحریروں کی سخت ضرورت تھی جنھیں وہ اپنے نووضع کردہ ادبی نظریے کی مثال کے طور پر پیش کر سکیں۔ منٹو کو ترقی پسندوں سے الگ قراردینا عسکری […]

· 2 comments · ادب
کشف المحجوب: یہ ترجمہ ہے یا دخل در معقولات

کشف المحجوب: یہ ترجمہ ہے یا دخل در معقولات

انتظار حسین اب کے برس داتا صاحب ؒ کے عرس سے ہم آئے تھے کہ ایک بزرگ نے دو ٹوک سوال کیا کہ عرس میں آئے ہو مگر کبھی ’’کشف المحجوب‘‘ بھی پڑھی ہے۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ اس طرح نہیں پڑھی جس طرح پڑھنے کا حق ہے۔ وہ بزرگ ہم پر مہربان تھے بولے کہ لو […]

· 2 comments · ادب
نقادکی خدائی-4:عسکری اور فسادات کا ادب

نقادکی خدائی-4:عسکری اور فسادات کا ادب

اجمل کمال اپنے ایک اور مضمون ’’انسان اور آدمی‘‘ میں عسکری کہتے ہیں:۔ ۔’’آدمی کو سمجھنے کی کوشش دو قسم کے لوگ کرتے ہیں، ایک تو حکمران اور دوسرے فن کار۔۔۔ حکمرانوں سے میری مراد صرف بادشاہ یا آمر نہیں ہیں بلکہ جمہوری رہنما، سماجی مصلحین، اجتماعی زندگی کے متعلق سوچنے والے فلسفی، ان سب کو میں نے حکمرانوں میں […]

· 0 comments · ادب
نقاد کی خدائی۔3:عسکری اور فسادات کا ادب

نقاد کی خدائی۔3:عسکری اور فسادات کا ادب

ااجمل کمال اکتوبر ۱۹۵۵ء کی ’’جھلکیاں‘‘ میں عسکری نے لکھا:۔ ۔”غالباً یہ بات سب سے پہلے انگریزوں کو سوجھی تھی کہ تنقید دوسروں کو غلام بنائے رکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ چنانچہ آج سے چالیس سال پہلے ایک انگریز پروفیسر اور نقاد نے شاعری کے متعلق ایک مقالہ پڑھتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ برطانوی […]

· 2 comments · ادب
نقاد کی خدائی۔2:عسکری اور فسادات کا ادب

نقاد کی خدائی۔2:عسکری اور فسادات کا ادب

ا اجمل کمال کوئی تحریر، خواہ ادب ہو یا تنقید، مصنف کے اختیارکردہ اسلوب پر توجہ دیے بغیر پوری طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ یہ بات عسکری کے سلسلے میں اور بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ان کے اسلوب کی انفرادیت کے سب ہی لوگ قائل معلوم ہوتے ہیں۔ تنقید کا یہ اسلوب ان سے پہلے کسی نے […]

· 2 comments · ادب
نقاد کی خدائی۔۱:عسکری اور فسادات کا ادب

نقاد کی خدائی۔۱:عسکری اور فسادات کا ادب

اجمل کمال افسانوں کو پرچۂ ترکیبِ استعمال کے ساتھ شائع کرنا اردو کے ادبی رسالوں کے مدیروں کا تازہ ترین شعف ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ اس کی بدولت بہت سے پڑھے لکھے لوگ افسانے پڑھنے کی زحمت سے بچ جاتے ہیں۔ پاکستان کے ایک معروف نقاد کے چھوٹے بھائی شمیم احمد نے اس سے بھی ایک قدم […]

· 1 comment · ادب
غالب خستہ کے بغیر

غالب خستہ کے بغیر

ڈاکٹر پرویز پروازی راجہ غالب احمد بھی گئے۔ ان کے ساتھ گورنمنٹ کالج کے قیام پاکستان کے قریب کی ادبی روایت دم توڑ گئی۔ صوفی تبسم مرحوم کی سرپرستی میں گورنمنٹ کالج کے نوجوان دانشوروں کی جس جماعت نے ادبی حلقوں سے اپنا لوہا منوایاتھا۔ ان میں مظفر علی سید تھے، غالب احمد اور انور غالب تھیں۔حنیف رامے اور شاہین […]

· 4 comments · ادب
میری داستان حیات

میری داستان حیات

ڈاکٹر پرویز پروازی خود نوشت کے سلسلہ میں رجال کا حصہ بڑا اہم حصہ ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں اس پہلو کو جاننے یا اس پہلو کا تجزیہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ مصنف جن لوگوں کے ساتھ رہا جن سے اس نے زندگی کرنا سیکھا یا جن کے ساتھ زندگی گذاری وہ اس کی شخصیت کو […]

· 0 comments · ادب