کشمیر: کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے؟

  بیرسٹر حمیدباشانی

تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی۔ تاریخ صرف آگے کی طرف بڑھتی ہے، اور اپنےجلو میں نئے واقعات و حوادث لے کر چلتی ہے۔ مگر تاریخ کے سفر میں کئی ایسے واقعات ہوتے ہیں،  جو مختلف شکلوں میں بار بار رونما ہوتے ہیں۔ یہی وہ واقعات ہوتے ہیں جن سے کچھ لوگوں نے یہ غلط نتیجہ اخذ کیا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اور یہی وہ واقعات ہوتے ہیں،  جن سے انسان نے سبق سیکھنا ہوتا ہے۔

البتہ تاریخ جو چیز دہراتی ہے، اور بار بار دہراتی ہے وہ مواقع ہوتے ہیں۔تاریخ صرف کسی ایک خاص وقت کے لوگوں یا خاص دور میں مواقع نہیں مہیا کرتی، بلکہ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہوتا ہے۔ وہ کسی موقع سے فائدہ اٹھائے اور کسی نادر و نایاب موقع کو ضائع کر دے۔

کشمیر کی تاریخ میں کئی ایسے نادر و نایاب مواقع آئے۔ ہم نے ان موقعوں کو کھو دیا۔ پوری تاریخ میں جائیں تو داستان بہت طویل ہے، ایسے ہزاروں مواقع نظر آتے ہیں، جو ہماری بے حسی، غفلت یا بصیرت کی کمی کی نظر ہو گئے، مگر اگر جدید تاریخ پر ہی نظر ڈالی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایسے بے شمار مواقع تھے،  جن سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، اوربہترین مواقع کھو دیے گئے۔

ایک نادر موقع وہ تھا،  جب ہندوستان کی شاہی ریاستوں سے تاج برطانیہ کی محدود حکمرانی ختم ہوگئی تھی۔ ایسا پندرہ اگست 1947 میں قانون آزادی ہند کی روشنی میں ہوا تھا۔ اس قانون میں برطانوی پارلیمان نے واضح کیا  تھا کہ 15 اگست کو تاج برطانیہ اور شاہی ریاستوں کے درمیان موجود تمام معائدے اور سمجھوتے ختم ہو جائیں گے، اور ریاستیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوں گی۔ اس دن ریاست جموں کشمیر بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد تھی۔

ریاست کے اس وقت کے حکمران، اور ریاست پر سو سال تک حکومت کرنے والے ڈوگرہ خاندان کے  وارث مہاراجہ ہری سنگھ کے ذہن میں مستقبل کا تصور یہ تھا کہ انگریزی راج کے خاتمے کے بعد یہ ریاست جوں کی توں رہے گی۔ اور ریاست کے ملحقہ علاقے جو اب پاکستان اور ہندوستان بن گئے تھے، ان کے ساتھ کاروبار زندگی حسب سابق رہے گا۔ چنانچہ اس نے معاہدہ قائمہ کی پیش کش کی جسے پاکستان نے فورا قبول کر لیا، اور اس معاہدے کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

بھارت نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ، مگر وہ ریاست کی جوں کی توں حیثیت  میں بھی کوئی قابل ذکر رکاوٹ پیدا نہ کرسکا۔ یہ کشمیر کی جدید تاریخ کا ایک نازک ترین موقع تھا۔ اس موقع پر کشمیریوں میں اتحاد کی ضرورت تھی، مگر اس وقت کشمیری مختلف سیاسی  گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ شیخ عبداللہ جس کے لیے کشمیر کی آزادی  ایک اہم مقصد تھا۔ اس موقع پر اتحاد و اتفاق کی وہ فضا پیدا کرنے میں ناکام رہا، جو وقت کی ضرورت تھی۔ کچھ دوسرے رہنما بھی فرقہ پرستی ، مفادات اور انا پرستی کا شکار ہوکر اتفاق کے بجائے تقسیم در تقسیم کے عمل کا شکار ہو گئے، جس سے ریاست تقسیم ہو کر ٹکڑوں میں بکھر گئی۔

 دوسرا تاریخی موقع1953 میں آیا، جب شیخ عبداللہ کی حکومت برطرف ہوئی۔ اس وقت  بھارت کے خلاف عوام میں سخت غصہ اور ردعمل تھا۔ اس ردعمل  کے دوران ستر سے زیاد لوگ مارے گئے۔  مگر بد قسمتی سے  کچھ  طالع آزماکشمیری لیڈر اس موقع پر متفقہ جہدوجہد کے بجائے بھارت کے ساتھ مل گئے، اور کٹھ پتلی حکمران بن کر بھارت کے چرنوں میں بیٹھ گئے۔  ان سب کو بھارت نے باری باری اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ، اور ہر ایک سے اس کے حصے کا کام لینے کے بعد الیکشن میں دھاندلی کے زریعے اس کو کنارہ کر دیا جاتا رہا۔  یہ سامنے دیکھتے ہوئے بھی کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے، یہ اقتدار کی لالچ میں  کے اس کھیل میں شامل رہے، اور کٹھ پتلی وزیر اعظم کا کردار ادا کرتے رہے۔

چوتھا موقع مئی تیس سن1965 تھا،  جب کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے اور وعدے توڑ کر کشمیر میں وزیر اعظم  کاعہدہ ختم کر کہ اس کی جگہ وزیر اعلی بنا دیاگیا۔  جموںو کشمیرنیشنل کانفرنس کو جعل سازی سے کانگرس میں ضم کر دیا گیا۔ ظالمانہ ہتھکنڈوں سے عوام کی آواز اور مذاحمت کو کچل دیا گیا۔ یہ بھی لوگوں کی سخت ناراضگی اور بے چینی کا وقت تھا، مگر اس وقت بھی کشمیری لیڈر اپنی اپنی ذاتوں کے تعصبات سے اوپر اٹھنے اور کوئی قابل ذکر قدم اٹھانے میں ناکام رہے۔

پانچواں موقع سترہ مارچ1977میں آیا، جب ریاست میں صدارتی نظام  کے نفاذکا اعلان کیاگیا اور شیخ عبداللہ بطور وزیر اعلی مستعفی ہو گئے۔ براہ راست صدارتی نظام کے نفاذ کے خلاف لوگ لڑنے کو تیار تھے، مگر ان کی رہبری کے لیے کوئی موجود نہ تھا۔

چھٹا موقع فروری1984 میں تھا، جب  تہاڑ جیل دلی میں مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تھی۔  تب عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اس وقت ریاست کے دونوں حصوں میں عوام سخت مشتعل تھے۔ اس فضا کو کسی بڑی تحریک میں ڈھالا جا سکتا تھا، مگر صحیح معنوں میں کسی منظم سیاسی پارٹی  اور قیادت کے قحط کی  کی وجہ سے کوئی مستقل  اور موثر تحریک منظم نہ ہو سکی۔  چند ماہ کے بعد عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا ہو گیا، اور حالات سابق ڈگر پر چل پڑے۔ جہاں لاکھوں کے جلوس نکلتے تھے، وہاں چند سو کو باہر نکالنا مشکل ہو گیا۔ لیڈر اپنی ذات مین سکڑتے گئے اور ان کا قد کاتھ چھوٹا ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ بعض منظر سے ہی غائب ہو گئے۔

ساتوں موقع نوے کی دھائی کی تحریک اور بغاوت کے دووران آیا۔ اس تحریک کے دوران چند موقعوں پر تحریک کو بہت بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل تھی۔ کئی موقعے ایسے  بھی آئے کہ بھارت مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا۔ اور ایسے لگتا تھا کہ حالات اس کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ اور بھارت کے کئی ذمہ دار لوگ یہ تسلیم کرنے پر مجبور تھے کہ کشمیر ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔  مگر اس تحریک کو بھی کسی منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد طویل عرصے بعد موجودہ صورت اور تازہ ترین موقع پیدا ہوا ہے۔

پانچ اور چھ اگست کے بھارتی حکومت کے اقدامات، یعنی 370اور 35 اے کے خاتمہ، ریاست کی تقسیم،  اور اس کی حیثیت میں کمی کر کہ اس کو ایک یونین ٹیری ٹوری کا درجہ دینا ریاست کے دونوں حصوں میں عوام کے لیے ایک حیرن کن اور صدمہ پہنچانے والا واقعہ تھا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور سخت سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے فوری کوئی رد عمل نہیں ہوا، لیکن عوام جس صدمے کی حالت میں تھےاس کو دیکھا  اور محسوس کیاجا سکتا تھا۔

البتہ آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں میں عوام نے بڑے پیمانے پر بے ساختہ ردعمل دیا۔ جس میں جلسے جلوس، مارچ اور احتجاج کی کئی شکلیں سامنے آئیں۔  یہ بھی ایک ایسا موقع ہے جب عوام کے جزباتی ہیجان خیزی کا شکا رہیں۔ مگر رہنماوں کو ہیجان نہیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے اور عوامی جذبات کو برقت ایک مثبت اور با مقصد انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ موقع ضائع کر دیا گیا تو وقت یہ زخم بھی بھر دے گا۔ اور آہستہ آہستہ لوگ اس صدمے سے نکل کر معمول کے کام میں لگ جائیں گے۔

اس وقت ابلتے ہوئے عوامی جذبات، اور وسیع پیمانے پر عوام کا خود رو طریقے سے سڑکوں پر آنا بھارت دشمنی کا اظہار ہے، مگر اسے کچھ کشمیری لیڈر اپنی مقبولیت کا اعجاز قرار دینے کی کوشش میں ہیں۔ یہ ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھنے اور غلطیاں دہرانے کا طرز عمل ہے۔ اس طرز عمل سے بچ کر لوہے کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے پوری قوت سے ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *