سوال  بستی

حبیب  شیخ

کیا یہی سوال نامی بستی ہے؟‘

 ’آ جاؤ  آ جاؤ  کیا تمہیں بھی نکال دیا ہے؟‘

ہاں،  انہوں نے مجھے شہر بدر کر دیا ہے۔‘

یہاں کچھ شہر سے نکالے ہوئے باسی رہتے ہیں ۔  لیکن تم تو ابھی بالکل نوجوان ہو تمہيں کیوں نکال دیا؟‘

میں نے اسکول میں ایک سوال پوچھا تھا۔‘

پھر؟‘

جب  میرے استاد نے اور میرے گھر والوں نے اس کا جواب نہيں دیا تو ميں نے بھرے بازار ميں ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کروہ سوال پوچھ لیا۔‘

کیا تمہيں اپنے سوال کا جواب مل گیا؟‘

نہيں پہلےتو کچھ لوگ مجھے گھورنے لگ گئے ۔  پھر چند جیالے آگے بڑھے اور مجھ پر آوازیں کسنے لگے ۔ کسی نے کہا کہ ميں ان کے مذہب کے خلاف ہوں،  کوئی چلایا کہ میں ان کی روایات کا مذاق بنا رہا ہوں،  ایک نے مجھے غدار قرار دے دیا ،  ایک دوسرا میرے کان کے پاس آ کر چنگھاڑا کہ  میں ملک دشمن ہوں۔‘

پھر تم نے کچھ کہا؟‘

جی ،  ميں نے وضاحت کی کہ ميں نے کسی مذہب مسلک روایت یا قانون کے خلاف کچھ نہيں کہا ہے ۔  صرف ایک سوال پوچھا ہے  تو مجمع میں ایک جیالا چیخاکہ سوال کا پوچھنا قانون کے خلاف ہے ۔  میں نے پوچھا کہ کون سا قانون۔‘

کیا تمہيں انہوں نے کسی قانون کا حوالہ دیا؟‘

وہی لوگ جو مجھ پر الزامات عائد کر رہے تھے پنچائیت  لگاکر بیٹھ گئے اور منصف بن گئے ،  مجھے  شہر بدر کی سزا سنا دی۔‘

کیا کوئی تمہاری حمایت میں بولا؟‘

دوچارلوگوں کی آنکھوں ميں ہمدردی ضرور تھی ۔  اُس شہر کے لوگ صرف وہی کہتے ہيں جو دن رات ان کو سنایا جاتاہے  اور اسی ميں مست  رہتے ہیں۔  نہ وہ اپنی سوچ سے بولتے ہیں ،  دیکھتے ہيں  یا سنتے ہيں ۔‘

چلو کوئی فکر کی بات نہيں تم صحيح جگہ پہنچ گئے ہو۔‘

لیکن اس بستی ميں کون کون سے لوگ رہتےہيں ؟  کیا آپ سب لوگوںنے  بھی کوئی سوال پوچھا تھا؟‘

یہاں کے بیشتر لوگ ادیب ،  شاعر ،  فلسفی ،  مصور،  موسيقار ،  گلوکار  ہيں ان کے فن یا سوچ ميں کوئی سوال تھا یا کوئی ایسا پیغام جو  اُن شہر کے لوگوں کو پسند نہيں آیا۔  یہاں یہ سب  اب  بہت سادہ زندگی گزارتے ہيں ۔  فضاؤں ميں موسیقی کی دھنیں بکھیرتے ہيں ۔  جو چاہے کہتے ہیں ،  لکھتے ہيں ،  ظلم کو بیان کرتےہيں ،  مصوِّ ر  نت نئے شاہکار تراشتےہيں ،  یہاں کسی فکر یا سوال پر پابندی نہيں ہے ۔‘

تو کیا میں بھی اس طرح کی زندگی یہاں گزار سکتا ہوں؟‘

 ’ہاں! لیکن تمہیں پتا ہونا چاہئے کہ شہر کے لوگ اس بستی پر پھر ایک نہ ایک دن حملہ کریں گے۔‘

تو پھر یہ ہميں مار ڈالیں گے؟‘

کچھ کو ضرور ماریں گے ۔  باقیوں کو یہاں سے بھگا دیں گے۔  لیکن کچھ لوگ یہاں مستقل رہتے ہیں۔‘

مستقل رہتے ہیںوہ کیونکر ان حملوں کا شکار نہیں بنتے؟‘

ابھی تمہیں یہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔‘

پھر لوگ  یہاں اتنے پر سکون کیوں نظر آ رہےہیں؟‘

یہ سکون نہيں ہے بلکہ ہمارا جنون ہے ۔  ہم اپنے  فن یا دھن کے عشق میں مگن ہيں ۔  ہما رے اندر اضطراب ہے، ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے ،  ہمار ی روحیں بے چین ہیں ۔  ہم ان لوگوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہيں جو جنگ و جدل اور ظلم اور نفرت کا شکار ہیں ۔ ہم  ان کے ساتھ چلتے ہیں ،  ان کے ساتھ سوتے ہيں ،  ان کے ساتھ ساتھ ہنستے اور روتے ہيں۔‘

مجھے اس طرح کی زندگی منظور ہے ۔  ميں ہميشہ آپ لوگوں کے  ساتھ رہوں گا جب تک کہ یہ شہر والے مجھے زندہ رہنےدیتےہيں۔  یہاں کوئی بجلی نہيں ہے ، کوئی بلب نظرنہيں آرہا پھر بھی اتنا  سندر اجالاہے ۔  اُس شہر ميں ہر طرف سجی روشنیوں کے با وجود اندھیرا تھا ۔  وہاں کتنا شور تھا ،  بات چیت کم اور شور زیادہ ۔  یہ ،  یہ ،  یہ آوازیں کیوں آرہی ہيں ؟  گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں۔‘

میرا خیال ہے کہ یہ لوگ تمہیں تلاش کررہےہیں۔  تمہيں توانہوں نےشہر بدر کر دیا تھا تو پھر یہ لوگ تمہارے پیچھے کیوں آ رہے  ہيں؟‘

ميں نے آپ سےجھوٹ بولا تھا ۔  پنجائیت  نے مجھے موت کی سزا سنائی تھی لیکن ميں ایک دوست کی مدد سے قید خانےسے بھاگ نکلا۔‘

تم اس درخت کے پیچھے غار ميں چھپ جاؤ  وہ تمہيں نہيں ڈھونڈپائیں گے۔‘

انہيں سو فیصد یقين ہے کہ ميں آپ لوگوں کے پاس آ گيا ہوں۔  مجھے واپس جانے دیں ورنہ وہ سوال بستی کو تباہ و برباد کر دیں گے۔‘

یہ تو تبا ہ ہوتی رہتی ہے لیکن پھر دوبارہ بس جاتی ہے ۔  کچھ لوگ مار د ئے جاتے ہيں ،  آہستہ آہستہ نئے لوگ ان کی جگہ لے لیتے ہيں۔‘

نہيں ،  ميں ضرور واپس جاؤں گا اب مجھے ان کا کوئی ڈر نہيں ۔  ميں نے یہاں آزادی کی ہوا ميں کچھ سانس لے لئے ہيں اور یہ ہمیشہ کےلئے میرے اندر رچ بس گئے ہیں ۔  میں نے درد بھرے اور سرکش نغموں کو سن لیا ہے ۔  یہاں کی موسیقی کی دھنیں ،  شاعروں اور ادیبوں کی تحریریں  جن کو سنے اور پڑھے بغیر ہی میں نے محسوس کر لیا ہے،  میرے من ميں سما گئی  ہيں ۔  اب میری  زبان پر کوئی پہرےنہيں ہيں ۔  اوراب میں  بغیر زبان  اور بغیر قلم کے بھی سوال پوچھ سکتاہوں۔  وہ میرے جسم کو سزا دے سکتے ہيں لیکن میرے من کو نہيں۔‘

یہ باتیں بعد ميں کر لیں گے۔ یہ لوگ بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔  اب تم  فوراً اس غار ميں چھپ جاؤ  ورنہ یہ لوگ تمہارے ساتھ وہی کریں گے جو میرے ساتھ  ہو چکا ہے۔‘

 ’اور آپ کيا یہی کھڑے رہيں گے ؟  وہ آپ کو قتل کر دیں گے ۔  آپ بھی  میرے ساتھ غار ميں چھپنے کے لئے آئیں۔‘

نہيں مجھے چھپنے کی ضرورت نہيں ہے ۔  وہ میرا کچھ نہيں بگاڑ سکتے۔‘

وہ کیوں ؟  میری سمجھ ميں کچھ نہیں آرہا۔‘

وہ میرےجسم کو بہت پہلے قتل کر چکے ہيں ۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *