اظہار رائے ،  آزاد مکالمہ اور ارباب اختیار  

بیرسٹر حمید باشانی

 ہمارے دور میں اظہار کا سب سے موثر زریعہ الیکٹرانک میڈیا ہے۔  اس میں مقبول ترین ٹیلی ویثرن ہے، مگر اس کے پہلو بہ پہلو سوشل میڈیا اپنی جگہ بنا رہا ہے۔  سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا کہ جن ممالک میں مطلق العنانیت کے رحجانات ہیں ، وہاں ارباب اختیار سوشل میڈیا بارے بہت فکر مند رہتےہیں۔   وہ اس بات پر غور کرتے رہتے ہیں کہ اظہار کے دیگر ذرائع کی طرح سوشل میڈیا کو لگام دینے کا کیا بندو بست کیا جائے؟

 اس باب میں کوئی ٹھوس فارمولہ  ان کے پاس نہیں ہے، اس لیے کئی اخلاقیات،  کئی مذہب، اور کئی ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے نام پر سوشل میڈیا کو قابو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔  ان لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جلد ہی سوشل میڈیا پرقابو رکھنے کا کوئی نہ کوئی مناسب طریقہ ڈھونڈ لیں گے۔  چین اس باب میں کامیاب تجربات کر رہا ہے۔ اوردوسرے اس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

   لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر سوشل میڈیا پابند ہو گیا تواظہار کا کوئی نیا زریعہ سامنے آجائے گا۔  حکمران طبقات اور میڈیا کے درمیان یہ آنکھ مچولی صدیوں سے جاری ہے۔  لگتا ہے حکمران طبقات نے تاریخ کے اس لمبے سفر سے کچھ نہیں سیکھا۔   اظہار رائے پر پابندی کی خواہش ان کے اندر ہر دور میں مچلتی رہتی ہے۔  اس باب میں  یورپ کی تاریخ بڑی دلچسب ہے۔

  یورپ میں ارباب اختیار، سماجی و معاشی طور پر غالب اور اجارہ دار قوتوں اور اظہار رائے کی آزادی کی جہدوجہد کی لمبی تاریخ  تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے۔  اس تاریخ میں ہمارے لیے کئی مفید اسباق ہیں ۔ یورپ میں اس پابندی کا بڑے پیمانے کا آغاز پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد کتابوں پر پابندی  لگنےسے  ہوا تھا۔

سولہویں صدی کی ابتدا میں یورپ میں ممنوعہ کتابوں کی فہرست بہت مشہور ہوئی۔  یہ فہرست رومن کتھولک چرچ نے جاری کی۔ رومن کتھولک چرچ کو اس وقت لوگوں کے ذاتی خیالات اور نظریات پر اتھارٹی مانا جاتا تھا۔ اور باور کیا جاتا تھا کہ چرچ کو لوگوں کے زاتی، سیاسی و سماجی خیالات پر حکم صادر کرنے کا حق ہے۔ ان کے خیالات کو درست قرار دینے یا غلط قرار دیکر دبانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

ممنوعہ کتابوں کی فہرست کا کیٹلاگ ترتیب تو چرچ نے دیاتھا، مگر اس کو زمین پر نافذ مقامی اتھارٹی اور مقامی حکومتوں نے کیا۔ چنانچہ اس کیٹالاگ کے تین سو سے زائد ایڈیشن شائع ہوئے۔   اس فہرست میں ان لوگوں کی کتابیں بھی شامل تھِں جو آج  یورپ میں احیائے علوم اور شعور کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ اس طویل فہرست میں رینے ڈسکارٹس، برونو، گلیلو، ڈیوڈ ہیوم، جان لاک، جان جیک روسو اور والٹیر جیسے نابغہ روزگار دانشور شامل تھے۔

یہ پریس پر پابندی کے ابتدائی ایام کی کہانی ہے، جس کی وجہ خود پرنٹنگ پریس تھی۔  چونکہ پرنٹنگ پریس کی وجہ کتابیں چھا پنا ایک آسان عمل بن گیا تھا۔ ان کو بڑی تعداد میں عوام تک پہنچایا جا سکتا تھا۔   اس طرح ایسی ایسی کتابیں چھپنی شروع ہو ئی تھیں، جن سے اہل حکم خوف زدہ تھے۔  خواہ یہ چرچ ہو یا حکومت ہو۔ ان ارباب اختیار کا بس چلتا تو یہ ہمارے ترک حکمرانوں کی طرح پریس پر پابندی لگا دیتے۔ مگر چونکہ پریس میں بڑے پیمانے پر بائبل جیسی کتابیں بھی چھپنی شروع ہو گئی تھی، جس سے مذہبی طبقات  کو فائدہ نظرآتاتھا، چنانچہ انہوں نے پرنٹنگ پریس پر پابندی کے بجائے کتاب چھاپنے  کے عمل کو مشکل بنانے اور مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا۔

   اس سلسلے میں انہوں نے حکم صادر کیا کہ کوئی بھی کتاب چھاپنے کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت یعنی لائسنس لینا ضروری ہے۔   یہ لائسنس عطا کرنے کے لیے درباری اور سرکاری دانشور پوری کتاب کو بار بار پڑھتے تھے۔ اس کی خوب چھان پھٹک کرتے تھے۔ اور صرف ایسی کتاب کو لائسنس عطا کرتے تھے جو چرچ اور ارباب اختیار کے مروجہ خیالات و عقائد سے مطابقت رکھتی ہو۔  یہ علم ، خیالات و سوچ کا قتل عام تھا، جس کے خلاف یورپ میں بڑے پیمانے پر ایک باقاعدہ مزاحمت شروع ہوئی۔۔

بڑے بڑے لکھاری اور دانشور اس مزاحمت میں شامل ہوئے۔  جان ملٹن نے اس وقت حق طلاق پر ایک  مضمون لکھا۔ چرچ نے اس مضمون پر پابندی لگوا دی اور اسے چھاپنے کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا گیا۔ چنانچہ ملٹن آزادی اظہار  رائے کے ایک بڑے مبلغ کے طور پر ابھرا۔ اس سے اظہار رائے  کے اصول، اس کے سکوپ ، نقصانات اور حدود و قیود پر بڑے پیمانے پر مباحثے شروع ہوئے۔  مگر اس مزاحمت کے باوجود ارباب اختیار نے اپنی روش جاری رکھی اور یہ قانون برقرا رہا۔

انقلاب کے بعد جب سن1689میں بل آف رائٹس متعارف ہوا تو یہ کالے قوانین ختم ہوئے۔ مگر اس کے باوجود چھاپنے کا حق چند تنظیموں اور گروہوں تک محدود رہا۔ اس وقت لندن شہر میں پچاس سے زائد چھاپا خانے تھے ، مگر صرف بیس پبلشرز اور دو یونیورسٹیوں کو کتابیں چھاپنے کی اجازت تھی۔ مگر پھر بھی یہاں پبلشرز کے لیے ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ ان کو جلاوطن ہوکر نیدر لینڈ اور دوسرے یورپی میں پناہ لینی  پڑی۔  اس وقت یورپ کے دیگر ممالک میں بھی حالات کوئی زیادہ ساز گار نہ تھے۔ 1789میں  صرف پیرس  شہرمیں آتھ سو  مصنف، پبلشرز اور بک سیلرز قید تھے۔

اٹھارویں صدی کے شروع میں اظہار رائے کی آزادی کا سوال پورے یورپ میں ایک بڑا موضوع بحث بنا۔  یہ موضوع عملی اور نظریاتی سیاست کا حصہ بننا شروع ہوا۔  کسی باقاعدہ ریاست کی طرف سے اظہار رائے کی آزادی کے حق میں پہلا حکم چار دسمبر 1770 میں ڈنمارک ناروے میں جاری ہوا۔

اس دور میں جان سٹیورٹ مل ابھر کر سامنے آیا۔ اس نے کہا کہ علم آزادی سے مشروط ہے۔ اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کے بغیر علم سائنس، قانون یا سیاست میں کوئی ترقی ممکن نہیں ہے۔ اس موضوع پر مل کی کتاب آون لبرٹی سامنے آئی۔ یہ اظہار رائے پر کلاسک کا درجہ حاصل کر گئی۔ اس نے لکھا کہ سچ جھوٹ کو خود شکست دیتا ہے۔ اس لیے سچ یا جھوٹ  کے آزادانہ اظہار سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سچ کوئی ساکت یا جامد چیز نہیں ہے، یہ وقت کے ساتھ نشوونما پاتا ہے۔  ایک وقت میں ہم جو کچھ سچ سمجھتے تھے،  اس کا بڑا حصہ جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔  اس لیے وہ خیالات  ہمیں بظاہر غلط لگتے ہیں،  انہیں ممنوع نہیں قرار دینا چاہیے۔ ایک طے شدہ موقف کے گہرے تاریک اندھیروں سے نکلنے کے لیے آزادانہ مکالمہ ضروری ہے۔

 ایک انسان کی رائے اس کی اصل قدر اور اثاثہ ہوتی ہے۔ لہذا رائے پر پابندی انسان کے بنیادی حق سے نا انصافی ہے۔ رائے پر پابندی کا صرف ایک جواز ہے کہ اس سے کسی دوسرے کو جسمانی نقصان کا احتمال ہوا۔ اس کے کوئی بھی معاشی یا اخلاقی نتائج پابندی کا جواز نہیں بن سکتے۔

اظہار رائے کی آزادی کا مطلب ہی یہ ہے کہ اپ دوسروں کو اس رائے کے اظہار کی آزادی دیں جو اپ کو نا پسند ہے۔  صرف ان خیالات کے اظہار کی اجازت جو آپ کو پسند ہیں یا آپ کے خیالات و نظریات سے مطابقت رکھتے ہیں، اظہارکی آزادی نہیں ہے۔ ورنہ مجرد اظہار کی آزادی تو فاشزم اور مطلق العنان حکومتوں میں بھی رہی ہے۔  ہٹلر نے فاشزم کے پرچار پر پابندی تو نہیں لگائی تھی۔ اس نے ان خیالات پر پابندی لگائی تھی،   جو فاشزم کو خطرناک قرار دیتے تھے۔  سٹالن کمیونزم کے پرچار کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ مگر اس نے ان سائنسدانوں کو قید کر دیا تھا، جو اس کی سماجی، معاشی اور زرعی پالیسیوں کے نقاد تھے۔

اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی اور اہم ترین نقطہ ہی یہ ہے کہ ان خیالات و نظریات کے اظہار کی آزادی ہو جو اراباب اختیار کو نا پسند ہوں۔ ان کے نظریات وخیالات سے متصادم ہوں۔ جو مروجہ نظریات اور اخلاقیات کو چلنج کرتے ہوں۔ ہمارے ہاں جو آئے دن ٹاک شو بند ہوتے ہیں۔ کچھ چینلز کی نشریات معطل ہوتی ہیں۔ ویب سائٹیس پر پابندی لگائی جاتی ہے یا سوشل میڈیا اکاونٹ بند ہوتے ہیں،  ان میں اکثر ان ہی خیالات کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے جو ارباب اختیار یا اجارہ دار قوتوں کے نظریات کے خلاف ہوتے ہیں۔

 ♦

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *