ریکو ڈیک کیس آٹے کی بوری میں سے ایک چٹکی بھر سچائی 

شہزادعرفان 

عالمی بینک نے پاکستان کو ریکوڈک کیس میں تقریباً 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے موجودہ قرضے سے کہیں زیادہ ہے۔افتخار چوہدری سمیت دیگر کرپٹ ججوںاور پالیسی ساز جرنیلوں کو پکڑا جائے جن کے براہ راست اور اندر خانہ چینی کمپنیوں سے مالی مفادات کی حصہ داری تھی۔ ‏چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے بیٹے کی ایڈجسٹمنٹ کی خاطر کمپنی کو سوموٹو کیا تھااور جرنیلوں نے چینیوں کمپنیوں کو نوازنے کی قومی پالیسی بنا کر اپنا حصہ رکھااور ان کمپنیوں کے ساتھ ہاتھ کھیلا۔ اتنی بھاری رقم کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑےگا۔

آج غریب عوام کے پاس کھانے کو روٹی نہیں بجلی نہیں چھت نہیں۔یہ کرپٹ عدلیہ اور لالچی جرنیل مافیا ہمیشہ سیاستدانوں کو مالی بدعنوانی کا موردالزام ٹھہراتے آئے مگر آج بھی ہمیشہ کی طرح مالی بدعنوانی اور کرپشن کاذمہ دار کوئی سیاستدان نہیں بلکہ یہی کرپٹ عدلیہ اور فوجی اسٹبلیشمنٹ ہے۔

یہ سب سونا چاندی بلوچستان کے بےگھر غریب پسماندہ عوام کا مال ہے جسے یہ بے دردی سے لوٹتے ہیں آپس میں بانٹتے ہیں مال غنیمت میں ایک چور دوسرے کو پورا حصہ اگر کبھی نہ دے تویہ آپس میں لڑ پڑتے ہین پھر جسکی لاٹھی اسکی بھینس جو طاقتور وہ جیتا۔

عام بلوچ جسے آج کل ہماری ریاست فراری دھشت گرد وطن دشمن وغیرہ وغیرہ کے نام سے پکارتی ہے اب انکے بچے اور خواتین اسلام آباد کی سڑکوں پر تو کبھی کراچی کی سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آتے ہیں جنکے خاوند بھائی باپ بزرگ سب یا تو مارے جاچکے ہیں یا اغوا کئے جاچکے ہیں کیوں کہ انکا قصور یہی ہے کہ وہ اس بلوچستان کی دھرتی کے مالک و وارث ہیں اور اپنے گھر کو اسلام کے نام پر وطن کے نام پر چوروں کے ہاتھوں غیروں کے ہاتھوں اس طرح لُٹتا نہیں دیکھ سکتے تھے لہذا یا تو اُٹھا لئے گئے یا مار دئے گئے۔

عدلیہ کتنی کرپٹ ہے وہ ایک عام آدمی بلخصوص دیہاتی گاؤں والا جانتا ہے جسکی تین نسلیں اور تمام جائداد بک جانے کے بعد بھی وہ عدالتوں میں ججوں کی کرپشن کو نہیں ہرا سکتا۔ کبھی کوئی یہ نہیں جانتا کہ چند سال پہلے آخر ریاست کے دوستون کیوں اور کیسے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے بظاہر معاملات سٹیل مل کی نیلامی کے بنا کر پیش کئے گئے مگر اندر خانہ کس کے مالی مفادات آپس میں ٹکرا رہے تھے۔

فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویزمشرف اور عدلیہ کے چیف جسٹس افتخارچوہدری کے درمیان اصل کھاڑا تھا کیا ؟۔۔۔۔ مگر وہ تو ایک معاملہ تھا ایسے تو کئی معاملات ہیں جہاں قومی وسائل کو ریاستی اداروں کی آر میں لوٹا جا رہاہے ۔ سیاست دان اور جمہوریت میں ان چوروں پر نظر رکھی جاتی ہے اور یہ دھندہ ان سرکاری اہلکاروں کو نہیں کرنے دیا جاتا یا فورا شور مچا کر عوام کو ہوشیار کردیا جاتا ہے۔

مگر جب سیاسی جماعتوں سیاستدانوں کو عوام کی نظروں میں چور چور کا شور مچا کر گرادیا جائے اور خود کو عدلیہ کا جج یعنی انصاف کا ترازو اور فوج یعنی سرحدوں کا محافط محب وطن کی آڑ میں عوام کے دل دماغ میں حاوی ہوجائیں تو پھر واردات نہایت آسان ہوجاتی ہے کسی کی نظر بھی نہیں پڑتی اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک فوجی جرنیل کا بھلا کیا کام مال و دولت کاروبار یا فراڈ اور قومی دولت وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں بھلا اسکا کیا کام ہوسکتا ہے اور جج جو ہر ایک کو انصاف مہیا کرتا ہے صادق اور امین ہوتا ہے اسکے بارے میں ایسا سوچنا تو خود گناہ کے مترادف ہے۔

دوسری طرف یہ مافیا اپنی بندوق اور قلم کی طاقت کے بل بوتے پر بار بار میڈیا کو کبھی خرید کر کبھی بلیک میل کرکے کبھی نوازشات کے ذریعے مسلسل میڈیا پرعوام کو بیوقوف بنائے رکھتے ہیں کہ سیاستدان کرپٹ ہین یہ ملک کی دولت کھاجاتے ہین یہی ہیں جو عوام کی پسماندگی جہالت اور غربت کی وجہ ہیں۔۔۔۔۔۔ ایسے میں پاکستان کی سادہ لوح عوام کے پاس اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ وہ ایسا ہی سوچیں۔ اس طرح ان اداروں میں بیٹھے طاقتور مافیا جو چاہے جیسے کرے انکی نسل درنسل اس صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ یہ ایک کیس جو بھی سامنے آیا ہے یہ اس آٹے کی بوری میں سے ایک چٹکی کے برابر ہے۔ 

سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان کو دسمبر 2018 اور جنوری2019 میں باقاعدہ دو مختلف اجلاسوں میں اس نازک صورتحال سے تفصیلاً آگاہ کر دیا گیا تھا ۔ کیا اس صورتحال پر فوراً نشئی وزیر اعظم کو تحقیقی کمیٹی یا تحقیقی کمیشن نہیں بنانا چاہئے تھا جو اس کیس کے اصل مجرم اور محرک تک پہنچے ؟۔

یہ ایک بڑا قومی سانحہ ہے کیوں کہ اس کا خمیازہ صرف اور صرف عوام بھگتیں گے اور گالیاں سیاستدانوں کو پڑیں گی ۔ مگر عمران خان جو کہ ایک کٹھ پتلی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کا نمائندہ ہے وہ بھلا کیسے یہ سب کرسکتا ہے ان کے خلاف کیسے جاسکتا ہے جو اسے لائے ہی اسی مقصد کی خاطر ہیں کہ سویلین جمہوری ناٹک کا ڈھونگ بنا کر کرپشن کا سارا ملبہ سیاست دانوں پر ڈالا جائے اور خود مزے سے مال کما کر ریٹائر ہوجائیں ۔

کیا عمران خان عدلیہ بیوروکریسی اور فوجی جرنیلوں کی مالی بدعنوانیوں پر مشتمل ایک لمبی فہرست کو عوام کے سامنے لانے کی جرات رکھتا ہے؟ کیا وہ صرف ایک حالیہ رکوڈک کیس میں ہی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی جراٗت رکھتا ہے جس مین پاکستان کو چھ ارب ڈالڑز کا جرمانہ ہوا اور جسے پاکستان کو ہر حال میں ادا کرنا ہے ؟ ایک کانا جج پورے ملک کو تھوک لگا کر ریٹائر ہوگیا غریب عوام اور انکی اگلی تین نسلوں کو برباد کرگیا مگر سلیکٹڈ وزیراعظم کہتا ہے کہ سب اچھا ہے سب اچھا ہے ۔۔۔۔

 

 

One Comment

  1. Attaullah Nothezai says:

    There must be a judicial inquiry regarding the project mismanagement, signing of a wrong contract with the a foreign company.
    Right from the beginning the federal government officials were hiding the information and documents from the public.
    After the 18th amendment all the responsibility goes towards the Balochistan government whose officials were so corrupt, that they never tried to make a technical and financial solution for the project.
    Meanwhile during the court hearing the Balochistan government officials and mining department people also misused the funds as well as wasted the time.
    They never tried to arrange good technical supported team, even they have been offered to do so.
    If the present government carry out a honest investigation I am sure they can recover the entire compensation amount from the politicians and government officials who are the most responsible for the mishandling the project..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *