ماضی کے کھنڈرات پر ماتم سے کیا ہو گا ؟

بیرسٹر حمید باشانی

آج کل وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ زیر بحث ہے۔ دورے کے اثرات و نتائج پر گفتگو ہو رہی ہے۔  پاکستان کی ایک سابق وزیر خارجہ کے الفاظ میں امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کی شدید ضرورت آن پڑی ہے۔ یہ ضرورت ان کو ایک بار پہلے تب پڑی تھی، جب وہ افغانستان میں آئے تھے۔ اور یہ ضرورت ان کو اب پڑی ہے جب وہ افغانستان سے جا رہے ہیں۔ لہذاصدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات کا ایجنڈا افغانستان ہوگا۔  دونوں کی گفتگوہ کا مرکز و محورافغانستان ہی رہے گا۔ نقطہ ماسکہ امریکی انخلا کے دوران اور بعد ازاں  افغانستان میں پاکستان کا کردار ہو گا۔

  مگر ریپبلکن پارٹی کے ایک رہنما جنہیں براہ راست یا بلواسطہ طور پر صدر ٹرمپ کے قریبی لوگوں  تک رسائی کا دعوی ہے ، کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں مئسلہ کشمیر بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ اور صدر ٹرمپ ثالثی کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ثالثی کی یہ پیشکش صدر ٹرمپ نے منتخب ہونے کے فورا بعد کی تھی، مگر کسی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔  

ثالثی کا خیال اچھا ہے۔  مگر عالمی تنازعوں میں اس قسم کی ثالثی تب ہی کارمند ہوتی ہے جب فریقین اپنے روایتی موقف میں تبدیلی کے لیے تیار ہوں۔ لچک دکھانے کا اشارہ دے چکے ہوں۔  مگر پاکستان انڈیا کے باب میں صورت حال مختلف ہے۔ اس وقت دونوں اپے دیرانہ موقف پر بضد ہیں۔  وقتا فوقتا اپنا موقف دہراتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی وازارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا  ہےکہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قرادادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

 دوسری طرف بھارتی وزیرمملکت برائے  خارجہ امور مرلی دھرن  نے  بھارتی راجیہ سبھا میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کی روشنی میں ہو سکتی ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے دو الگ الگ سرکاری موقف ہیں۔ کچھ لوگوں کو ان میں تضاد دکھائی دیتا ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں یا شملہ معائدہ دونوں کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مئسلہ کشمیر کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے پر امن راستہ اختار کیا جائے۔ اور پر امن بقائے باہمی کے اصولون کے تحت ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے گفت و شنید کا راستہ اختیار کیا جائے۔

ایک اہم فرق بہرحال یہ ہے کہ شملہ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ اور اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات اور گفت و شنید قرار دیا گیا۔ مگر اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا کہ یہ حل کن خطوط پر نکالا جائے گا۔  یہ حل کن بنیادوں پر ہو گا۔  اور اس کا روڈ میپ کیا ہوگا۔ اس کے بر عکس اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ایک باقاعدہ روڈ میپ دیا گیا ہے، جس کے تحت کشمیر سے غیر ملکی  افواج  کا انخلااور امن و امان کی بحالی کے بعد کشمیری عوام کی خواہشات کا تعین کیا جائے گا۔ اور اس  کی روشنی میں مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔

 چنانچہ معاہدہ شملہ ہو یا اقوام متحدہ کی قرادادیں ، ان میں دونوں ممالک کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ مانتے ہیں۔ ایک حل طلب مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے۔ اور اس حل کے لیے کون سا طریقہ کار ہے جس پر دونوں کا اتفاق ہو سکتا ہے۔

 اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں تو سب جانتے ہی ہیں،  رہا شملہ معاہدہ تو عرض یہ ہے کہ شملہ معاہدہ صرف ایک امن معاہدہ نہیں تھا۔  اگر اسے اس کے درست تاریخی تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ 1971 کی جنگ کے پیش منظر اور تباہ کن نتائج سے نبرد آزما ہونے کی ایک کوشش تھی۔ 

طویل گفت و شنید کے بعد دو جولائی1972 میں شملہ میں زولفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی نے جس دستاویز پر دستخظ کیے یہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں اچھے تعلقات کے  لیےایک اچھا روڈ میپ تھا۔  معاہدے  میں دونوں ممالک نے  تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کی روشنی میں ہو گا۔  دونوں ممالک کے درمیان تمام تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔   

کشمیر کے حوالے سے اس امر پر رضامندی ظاہر کی گئی کہ دونوں ملکوں کی فوجیں انٹر نیشنل بارڈرز پر اپنی اپنی جگہ  چلی جائیں گی۔  جموں کشمیر میں سترہ دسمبر 1971کی سیز فائر کے نتیجے میں جو لائن آف کنٹرول  معرض وجود میں آئی ہے دونوں ممالک اس کا احترام کریں گے۔ مختلف قانونی تشریح اوراختلاف رائے کے باوجود  کوئی فریق بھی اس لائن میں یک طرفہ طور پر کسی قسم کے رد و بدل کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور مسئلہ کشمیر کا حتمی حل باہمی بات چیت سے نکالا جائے گا۔

 بات یہ ہے کہ شملہ معاہدہ اور اقوام متحدہ کی قرادادیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے دو الگ الگ راستے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اصل بات راستہ نہیں حل ہے۔ اور اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت تنازعے کے کس حل پر اتفاق کر سکتے ہیں۔  اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات باہمی گفت وشنید سے نہین حل کر سکتے۔ اور نہ ہی شملہ معاہدے میں کئی یہ لکھا ہے کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت مئسلے کا حل نہیں ڈھونڈ سکتے۔ یا وہ اقوام متحدہ کی قرادادوں سے دست بردار ہو رہے ہیں۔ اور نہ ہی یہ  لکھا ہےکہ دونوں کسی تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ یا عالمی برادری سے رجوع نہیں کر سکتے۔

اصل مسئلہ راستہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کا کشمیر پرجو موقف ہے وہ ایک مخصوص تاریخی تناظر کی پیداوار ہے۔ یہ موقف گفت و شنید یا دوستانہ مذاکرات نہیں بلکہ جنگ اور خون خرابے کی پیداوار ہے۔ اس کے پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی خونی جنگ اور تقسیم بر صغیر کے درناک واقعات کی نفسیاتی کیفیت ہے۔ اس کیفیت میں ایک فریق نے دوسرے کی پرواہ کیے بغیر ایک سخت گیر اور حتمی موقف اپنانا تھا۔ ان حالات میں دونوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ کشمیر ہر حالت میں لینا ہے،  خواہ جنگ لڑنی پڑے یا عالمی برادری کے پاس جانا پڑے۔  

ان حالات کو  ستر برس بیت چکے۔ اگرچہ یہ المناک واقعات مکمل طور پر لوگوں کے زہنوں سے محو نہیں ہوئے۔  فضا اب بھی زہر آلودہ ہے۔  مگر حالات اکیسویں صدی کی دوسری دھائی میں بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دھائی سے قطعی طور پر مختلف ہیں۔  حالات کے اس واضح فرق کو سمجھنا  اور اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے۔  ماضی کے کھنڈرات پر ماتم سے کیا ہو گا؟  ہم اپنی نسلوں کو تاریخ کے کسی ایک دور یا لمحے میں پھنسا کر نہیں رکھ سکتے۔ ہم ماضی میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہمیں آگے دیکھنا ہو گا۔ نئے حالات میں نئے حل ڈھونڈنے ہوں گے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے۔

ماضی میں اٹل بہاری واجپائی اور جنرل مشرف نے وقت کی اس ضرورت کو محسوس کیا تھا۔  اختلاف رائے اپنی جگہ مگر کسی نے ان کی محب وطنی پر انگلی نہیں اٹھائی تھی۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ مسئلے کا آوٹ آف باکس حل نکالا جا سکتا ہے۔  روایتی پوزیشن سے ہٹ کر بھی کسی نئے  آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی محب الوطنی یا غداری کا سوال نہیں ہے۔  یہ بر صغیر کے کروڑوں لوگوں کو اس خوفناک دلدل سے نکالنے کا سوال ہے، جس میں وہ دن بدن دھنستے جا رہے ہیں۔۔ اور اس سوال کا جواب جتنا جلدی ڈھونڈ لیا جائے اتنا بہتر ہے۔

تاریخی طور پر ثالثی کی کئی کوششیں ہو چکی ہیں۔ امریکی پچاس کی دھائی میں یہ کوشش کر چکے ہیں، جب مئسلہ کشمیر اپنے عروج پر تھا، اور دنیا میں طاقت کا توازن مختلف تھا۔ موجودہ دور میں کسی ایسی کوشش سے  بہتر ہوگا کہ دونوں پڑوسی ملک ایک سے زائد ممکنہ حل پربات چیت کر کے کوئی درمیانی راستہ تلاشنے کی کوشش کریں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *