غوں غوں

حبیب شیخ

کئی سالوں کے بعد ميں کراچی گيا تو دوست نے خوب خاطر مدارت کی ۔ دن تو حال چال سننے سنانے ، طرح طرح کے کھانے کھانےاورچائےپینے، کچھ اونگھتےکچھ جاگتے گزر گیا ۔ شام ذرا ڈھلی تو سونے کے لئے بیڈ روم ميں چلا گیا ۔ تھکن سے مارے چوُر جسم نے دانتوں کو صاف کرنے سے انکار کر دیا اور بستر میں چھلانگ لگادی۔

آنکھيں سوچنے کی کھڑکی بند کر کے خود بند ہونا چاہتی تھیں لیکن پنکھے کی عجیب و غریب آواز نے انہیں پوری طرح سے جگا دیا ۔ میں بہت بیزاری سے پنکھے کو کوسنے لگ گیا۔ اس غوں غوں کی آواز کے علاوہ پنکھا ہلکے ہلکے ڈول بھی رہاتھا ۔ پہلے تو یہ ڈر حاوی ہوا کہ یہ کہیں گھومتے گھامتے ہلتے ہلاتے سیدھا میرےاوپر ہی نہ آن پڑے ۔ پھر خود کو سمجھا کر یہ خوف دور کیا لیکن اس غوں غوں نے اب نیند کو کوسوں دور بھیج دیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد میں نے نوٹ کیا کہ آواز اور رفتار کچھ ہلکی ہو گئی تھی اور پھر دوبارہ تیزہوگئی ۔ غور سے دیکھا تو اب وہ عجیب طرح سے ہل رہا تھا۔ خیال آیا کہ یہ پنکھا آسیب زدہ ہے ۔ بائيں جانب والی کھڑکی سے گھپ اندھیرے میں ایک دیو قامت درخت کی ہیبت ناک شکل بھی نظر آ رہی تھی ۔ جب اس کے پتے ہوا سےہلتے اور سرسراتے تو ایک کپکپی سی اوپر سے نیچے تک سرایت کر جاتی ۔ بڑوں سے یہ ہميشہ سنا تھا کہ پرانے درختوں پر جِنوں بھوتوں کا ڈیرا ہوتا ہے اور پھر دوست نے یہ بھی تو بتایاتھاکہ یہ کمرہ کافی عرصے سے بند پڑا ہواتھا ۔

اب یقین ہو چلا تھاکہ ان مخلوقات ميں سے کوئی اس پنکھے کو کبھی تیز اور کبھی آہستہ کر رہی تھی اور اس کے ساتھ لٹک کر جھول بھی رہی تھی۔ فوراً آیت الکرسی پڑھ کر پنکھے کی طرف پھونکی جو اس کی طرف سے آنے والی ہوا کے ساتھ واپس آ گئی ۔ اب چاروں قل اور جو کچھ بھی عربی ميں یاد تھا اونچی آواز ميں کہہ دیا لیکن اس غوں غوں کی اونچ نیچ پر اس کا کوئی اثر نہيں ہوا اور نہ ہی اس کا بے جا ہلنا جلنا بند ہؤا۔

را ت کی پہلی پہر کبھی پنکھے کو چلانے ، کبھی بند کرنے ، اسکے ساتھ خاموشی سے لڑنے جھگڑنے یا پچھلے تمام کئے ہوئے اور نہ کئے ہوئے گناہوں کی توبہ کرنے ميں گزر گئی ۔ پھر دوسری پہر ایسی آنکھ لگی کہ صبح بہت دیر سے کھلی ۔ پنکھے کی غوں غوں نے باہر کے ٹریفک اور گھر کے اندر کے شور کو اپنے اندر سمیٹا ہؤا تھا۔

ایک دو راتوں کو پنکھے کی اونچی نیچی آواز نے پریشان تو کیا لیکن اس کے بعدتو یہ حال ہو گیاکہ ادھر غوں غوں کی لوری کو سنا ، پنکھے کے ڈولنے کی ادا کو دیکھا، چنبیلی کی خوشبو بھری ہوا کے ایک دو جھونکے آئے تو طبیعت خمار سے رچ بس گئی اور اس کےبعد ایسی گہری نیند کہ جس کے لئے بادشاہ اپنے تخت و تاج سے سبک دوش ہو جائيں ۔

پہلے تو مجھے یہ گمان تھا کہ شاید اس پنکھے کا تعلق ضرورکسی جن بھوت سے رہا ہو گا لیکن اب مجھے یقین ہو چلاتھاکہ یہاں کسی پری کا بسیرا ہے جو مجھے پسند کرتی ہے اور اپنی آغوش میں لے کر لوری دے کر سلاتی ہے ۔ اور یہ کوئی پنکھا نہيں ڈولتا بلکہ اس کی کمر تھرتھراتی ہے ۔ اب کبھی اگر بجلی چلی جاتی تو بہت بے چینی سے سریلے غوں غوں کے نغمے کی سماعت اور کمر مٹکنے کی دید کا انتظار رہتا ۔

میرے جذبات کچھ ایسے تیزی سے موج میں آئے کہ اب مجھے شام کے گزرنے کا انتظار رہتا ۔ کب گھر والوں کے ساتھ گپ شپ ختم ہو تا کہ ميں بیڈ روم میں پنکھا چلا کر لیٹ جاؤں، اس مافوق الفطرت ہستی سے لوری سنوں ، اس کی تھرتھراہٹ کو دیکھوں، اس کے وجود کی خوشبو سونگھوں، اس کے لمس کی سرسراہٹ کو محسوس کروں اور اس کے بعد کہیں خمار سے بھر پور ایک خوابی دنیا میں اتر جاؤں!

نجانے ہر اچھی چیز یا اچھے حالات کیوں مختصر عرصے کے لئے ہوتے ہيں۔ چند دنوں بعد میں نے گھر واپسی کا سفر کیا۔ مجھے امید تھی کہ میری محبت میں گرفتار یہ پری بھی میرے ساتھ چلی آئے گی اور میرے گھر ميں اپنا پڑاؤ ڈالے گی۔ سفر کے دوران میں یہی محسوس کرتا رہا کہ وہ کہیں میرے آس پاس بیٹھی ہوئی تھی یا پرواز کر رہی تھی۔ ایک دو بار چنبیلی کی ہلکی ہلکی خوشبو آئی تو میرا خیال یقین میں بدل گیا کہ یہ وہی تھی یہ وہی تھی۔

گھر آ تے ہی ميں نے سیدھے بیڈ روم کا رخ کیا اور پنکھا چلاکر لیٹ گیا ۔ لیکن نہ ہی کوئی غوں غوں کے سُر بکھر رہے تھے ، نہ ہی کسی کے تھرتھرانے کا ارتعاش تھا اور نہ ہی چنبیلی کی مہک۔ ساری رات اسی طرح کروٹیں بدلتے انتظار ميں گزر گئی ۔ جُنوں تو باقی تھا مگر پری ہی نہ رہی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *