باچا خان کا فلسفہ عدم تشدد

رزاق شاہد

ارے یہ کیا

غفار خان قرآن بھی تلاوت کرتے تھے؟ 
عبدالمجید آہستہ سے پوچھتا ہے۔ 
اخباروں میں تو۔۔۔۔۔ 
اس سے پہلے کہ وہ مطالعہ پاکستان سناتا۔

۔قاضی شوکت سلطان بولے۔

پھر تو تجھے یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ پچھلی صدی کا ایک فلسفی، ایک بت تراش ایک مصور اور ایک شاعر، غنی خان بھی اسی غفار خان کا بیٹا تھا۔ 
تیرے اخبارات میں یہ بھی نہیں لکھا ہو گا کہ باچا خان کی بیوی بیت المقدس میں دفن ہے اور اس سے پہلے وہ فریضہ حج بھی ادا کر چکے تھے۔

احمد نے کہا
ابو
مجھے 23 اپریل 1930 کے قتل عام کے بارے میں بتائیں۔ 
جس کی یادگار پنساریوں اور عظمتِ صحابہ کے اشتہارات میں گم سی ہو گئی ہے

جی جی وہی

قصہ خوانی بازار پشاور میں غفار خان کی گرفتاری کے خلاف مولانا عبدالرحیم پوپلزئی کی قیادت میں خدائی خدمت گار اکٹھے ہوئے۔
نہتے، کمزور عدم تشدد کا کلمہ پڑھتے۔۔۔۔ گورے نے فائر کھول دیا 700 سے زائد آزادی کے متوالے راہ حق میں قربان ہوئے۔ ایک گورا اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے کہ سینہ کھولے نعرہ تکبیر لگاتے گرتے رہے،۔۔۔ مرتے رہے۔۔۔ لیکن ایک پتھر تک نہیں مارا غنیم کو۔۔۔

ابو!۔
کورس کی کتابوں میں پنجاب کے جلیانوالہ کے قتل عام تو ذکر ملتا ہے قصہ خوانی کا کہیں تذکرہ نہیں سنا۔

میرے چاند!۔ 
پنجاب کی ولدیت مضبوط ہے پختون خواہ کی ذرا کمزور سی ہے

اچھا۔۔۔ تو یہ ہے وہ کلام پاک جو خان بابا تلاوت کرتے تھے۔۔۔
قریب سے دیکھا تو پشتو ترجمہ بھی لکھا ہوا تھا، 1928 سے قائم پختون رسالہ کے مدیر حیات روغانے ہمیں بتا رہے تھے باچا خان مرکز جو پُشکن کے قول سے سجا ہمیں گلے لگا رہا تھا 
ایک دیوار پر پشتو میں عدم تشدد کے فلسفہ کا خلاصہ ایک چوکھٹے میں

(جس طرح تشدد کی ایک سوچ اور مسلک ہوتا ہے اسی طرح عدم تشدد کی ایک سوچ اور مسلک ہوتا ہے۔ جس طرح تشدد کی ایک فوج ہوتی ہے اسی طرح عدم تشدد کا بھی ایک لشکر ہوتا ہے۔ تشدد سے نفرت جبکہ عدم تشدد سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ تشدد ہمیشہ ہارتا ہے عدم تشدد نہیں۔
تشدد کا سب بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہوتا)

آویزاں اور دوسری طرف غفار خان کی تصویر کے نیچے انقلاب کا درس موجود پایا۔

انقلاب جلد بازی اور جذباتیت کا کام نہیں۔ یہ ٹھنڈے دل و دماغ اور مستقل مزاجی کا نام ہے۔ اور انقلاب کے لئے باشعور لوگوں کا ہونا ضروری ہے)۔

یہ کیا ہے؟

یہ بشیر خان بلور کا بوقت شہادت لباس۔ 
اسی حالت میں یہاں رکھا گیا ہے۔

مجید نے بے اختیار کہا قصہ خوانی کا قصہ ختم نہیں ہوا ابھی۔۔۔۔۔
لگتا ہے دشمن کی بندوق میں ابھی گولیاں موجود ہیں۔

حیات روغنائی بولے 
ہمارے سینے بھی حاضر ہیں۔

باچا خان مرکز جو اے این پی کا صدر دفتر بھی ہے کا میوزیم دیکھتے آگے بڑھے 
اور یہ ہے خان بابا کی دستار اور عصا۔۔۔

ہم نے اٹھائی تو حیات کہنے لگے وہ ایسے کندھے پر ڈالتے تھے اور لاٹھی یوں ہاتھ میں پکڑتے۔ 
یہ لائبریری ہم ابھی ترتیب دے رہے ہیں اور ٹی وی چینل کے ساتھ میٹنگ روم اور عہدیداروں کے دفاتر سے ہوتے جب نیچے آئے تو ایک نیلے رنگ کی سوزوکی کیری کھڑی دیکھی یہ باچا خان کی وہ گاڑی ہے جس میں وہ اکثر سفر کرتے۔

بڑھاپے میں ایسی تکلیف دہ سواری۔۔۔

وہ فولادی اعصاب کے مالک تھے اپنے نظریے سے مخلص لوگ تعیشات سے پرہیز کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *