کیا مغرب ہم سے نا امید ہو چکا ہے؟


بیرسٹر حمید باشانی

اتوار کے روزلندن سے ٹورانٹو کے درمیان بحر اوقیانوس پرلمبی پرواز کے دوران میں نے کئی باتوں پر غور کیا۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ کیا اہل مغرب ہم جنوب ایشیائی تارکین وطن سے  مکمل نا امید ہو چکے۔ اور  ہم سے مایوس ہو کر انہوں نے ہمیں  ان کے شہروں میں اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ اور اس بات پر پختہ یقین کر لیا ہے کہ ہم لوگ اپنی عادات وا طوار اور رہن سہن کے حوالے سے بے لچک ہیں، اور بدلنے والے لوگ نہیں ہیں۔  چنانچہ ہم لوگوں کے انداز ا و اطوار اور طرز زندگی میں تبدیلی یا اصلاحکے چکر میں  ملکی وسائل، ٹیکس ادا کرنے والوں  کا پیسہ اوروقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔  مغرب کی اس تازہ ترین پالیسی کے کچھ مظاہر یا جھلکیاں  میں لندن اور بر منگھم میں دیکھ چکا تھا۔  اور تفصیلات کچھ دوستوں سے سن چکا تھا۔

روایتی اعتبار سے مغربی ممالک میں ایشیائی تارکین وطن کو اپنی الگ بستی بسانے کا بہت شوق رہا ہے۔ اس شوق کی کئی وجوہات ہیں۔  ایک بڑی وجہ ظاہر ہے زبان، مذہب، ثقافت، رنگ نسل، بود و باش ، خاص قسم کا طعام اور  قیام ہے۔ لوگ اپنی مذہبی عبادت گاہوں، سکولوں، اور کھانے پینے کی مخصوص اشیا کی دوکانوں کی وجہ سے ایک ہی علاقے میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی روز مرہ کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے ہمسائے میں قائم مسجد، مندر یا گردوارے میں جا سکتے ہیں۔ بچوں کو ایسے نجی سکولوں یا درس گاہوں میں داخل کروا سکتے ہیں، جہاں ان کی زبان یا مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ہمسائے میں قائم گروسری  سٹورزسے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق  حلال گوشت، سبزی اور مرچ مصالحے خرید سکتے ہیں۔ ان سہولیات یا مقاصد کے لیے کوئی  ایک مخصوص علاقہ تارکین وطن کے ارتکاز کی وجہ بنتا ہے، جو بنتے بنتے ایک بستی بن جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس بستی پر ان لوگوں کی جنم بھومیکا رنگ چڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔

 جوں جوں یہ رنگ گہرا ہوتا جاتا ہے دوسری زبانوں ، ثقافتوں اور مذاہب کے لوگ اس علاقے سے نقل مکانی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقل مکانی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ویران ہوتے ہوئے چرچ بھی فروخت کر جاتے ہیں، جن میں تارکین وطن کی مساجد یا مندر قائم ہو جاتے ہیں۔  اس طرح جنوبی ایشیائی بڑی کامیابی سے مختصر مدت میں اپنی جنم بھومی کی تخلیق نو کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

  اب بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی زندگی ان کی پسندیدہ ڈگر پر چل نکلتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس کامیابی کے دامن میں کئِ مسائل اور مشکلات ہوتی ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔ جب یہ آفات و مشکلات ایک ایک کر کے سر اٹھانا شروع کرتی ہیں تو لوگوں کو احساس ہونے لگتا ہے کہ جن مشکلات و مسائل سے گھبرا کر ہم نے ترک وطن کیا تھا ، ہم یہاں دوبارہ  ان ہی مصائب و مشکلات کا شکار ہونے لگے ہیں۔

ان  مسائل میں ایک مسئلہ میعار زندگی ہے۔ یہ جو نئی نئی دیسی بستیاں بسائی جاتی ہیں ، ان میں معیار زندگی  بہتر ہونے کے بجائےبہت تیزی سے روبہ زوال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور ایک طویل مدت بعد یہ علاقہ یا بستی کچھ ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ تیسری دنیا کے کسی آفت زدہ شہر کی نقل لگنے لگتی ہے۔  ایسی بستی دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ یہ واضح شناخت محض کھانے پینے  کی خوشبو یا بود وباش سے ہی نہیں ہوتی بلکہ کئی دوسرے حوالوں سے یہ ایک مصیبت زدہ اور پچھڑی ہوئی بستی لگتی ہے۔

معیار زندگی یہاں اچانک نہیں گرتا۔ ایسا ایک طویل اور پیچیدہ عمل کے دوران ہوتا ہے۔ اس کی پہلی جھلک گلیوں میں کوڑا کرکٹ کی شکل میں  ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں اگرچہ گھروں کے سامنے گند بلا کے اس طرح ڈھیر نہیں ہوتے جس طرح بیک ھوم میں دکھائی دیتے ہیں۔  مگر پھر بھی  گلیوں اور بازاروں کودیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں زندگی باقی شہر سے کافی مختلف ہے۔  مقامی بستیوں کے بر عکس یہاں سڑکوں پر گند بلا پھینکنے کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ مقامی شہر یا میونسپل کارپوریشن شروع شروع میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔

بے شک میونسپل کارپوریشن کے کچھ کارندوں کے دل میں  ایشیائی تارکین وطن کے لیےبغض یا نسل پرستی پر مبنی نفرت بھی ہو،  لیکن اس طرح کوڑا کرکٹ کا سڑکوں پر دکھائی دینا ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ایک سوالیہ نشان تو لگاتا ہے۔  چنانچہ شروع شروع میں وہ اس علاقے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ کوڑا کرکٹ اٹھانے کے دن اور وقت میں تبدلی کرتے ہیں۔  کوڑا کرکٹ  پھینکنے یا مقررہ معیار کے مطابق صفائی نہ کرنے پر کئی نوٹس جاری کرنے ،جرمانے کرنے اور تجارت کا لائسنس منسوخ کرنے جیسے اقدامات کرتے ہیں۔

جب اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو وہ صورت حال سے سمجھوتا کرنا شروع ہو جاتے ہیں    آہستہ آہستہ ان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ سعی بے کار ہے، اور مرض بڑھتا جاتا ہے جوں جوں دوا کی والی بات ہے ، ۔ اس طرح یہ بستی اور اس کے انداز و اطوار زندگی کی ایک ایسی حقیقت بن جاتے ہیں، جن کو برداشت کیے بغیر ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔  میونسپل کارپوریشن یا شہری انتظامیہ کےاس سمجھوتے کے بعد یہاں معیار زندگی مزید گرنے لگتا ہے۔  صفائی کا معیار اس حد تک گر جاتا ہے کہ یہاں ریستورانوں میں مکھیاں منڈلانے لگتی ہیں۔ اکا دکا چوہا بھی کبھی کبھار اپنا درشن کرا لیتا ہے۔

ان علاقوں میں رہنے سہنے یا کام کاج کرنے والے لوگ اب یہ اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں کہ کوڑا کرکٹ جب اور جہاں چائیں پھنکیں، ریستوران کتنا صاف یا گندہ ہویہ طے کرنا ان بستیوں میں رہنے والے لوگوں کا حق ہے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اب وہ بہت ساری پابندیوں سے آزاد ہیں۔  یہآزادیاںانہوں نے بہت بڑی محنت اور جہدو جہد کے بعد مقامی لوگوں اور میونسپل کارپوریشن سے حاصل کیں ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کبھی مذہب کا سہارا لیا۔ کئی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی آڑ لی۔ کئی اپنی ثقافت یا زبان کو ہتھیار بنایا اس طرح وہ ایسی بستیاں بنانے میں کامیاب ہو گئے، جس میں ان کی اپنی حکومت اور اپنی چلن ہے۔ سول سروس اور میونسپل کارپوریشن والوں نے ان کی الگ حیثیت اور شناخت کو قبول کر لیا ہے۔

رہے سیاست دان تو وہ ان کے نزدیک موم کے پتلے ہیں۔ بس ان کو یہ ضمانت چاہیے ہوتی ہے کہ ووٹ ان کو باقاعدگی سے ملتے رہیں۔ اور اگر بدلے میں یہ لوگ اپنے لیے  گندی بستی یا معیار سے گرا ہوا باڑا بنا ہی لیتے ہیں، تو اس سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ خود تو وہ رہائش اختیار کرنے سے پہلے خوب جانچ پڑتال کر لیتے ہیں کہ جس علاقے میں وہ رہنا چاہتے ہیں اس علاقے میں کوئی دیسی نہ آباد ہو۔ بلکہ وہ یہودیوں کی ہمسائگی میں رہنے پر ترجیح دیتے ہیں پھر یہاں سے ہو کر وہپرولرازماور کثیر الثقافتی سماج کا درس دیتے ہیں۔ اور بستیوں کے درمیان  خلیج پاٹنے اور پل بننے کی سیاست کرتے  ہیں۔

اس بندوبست کے فائدے صرف ان لوگوں کو نظر آتے ہیں، جن کاروزگار اس طرح کی بستیوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ خواہ وہ دھاگہ تعویز کرنے والے لوگ ہوں، یا نام نہاد مذہبی پیشوا، نجومی یا قمست کا حال بتانے والے ہوں۔ حلال گوشت بیچنے والے ہوں یا کمیونیٹی لیڈر، مگر اگر اس کا نقصان کسی کو ہوتا ہے تو وہ نئی نسل ہے، جو اب عام طور پر نشے اور تشدد کی راہ پر چل پڑی ہے۔ 

ایک وسیع سمندر میں بنے مصنوعی جزیرے  میں رہنےکی وجہ سے وہ زندگی اور مستقبل سے مایوس ہیں۔ انہیں اپنے شہر میں دو شہر نظر آتے ہیں۔ ایک صاف ستھرہ، چمکیلا اور پر امید شہر۔ اور دوسرا اداسی کے سایوں میں لپٹا ہوا۔ یہ سلسلہ ان کو ڈیپریشن کا شکار کر دیتا ہے۔ جس سے وہ نشے اور تشدد کی طرف مائل ہورہے ہیں اور تشدد پسند گینگ کا حصہ بن رہے ہیں۔  دیسی لوگوں کو اس طرح مکمل طور پر اپنے حال پر چھوڑ دینے کے عمل سے لگتا ہے کہ مغرب ہم سے مکمل طورپر مایوس ہو چکا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *