یہود، ہنود و نصاریٰ دشمنی


ارشد محمود

یہود، ہنود، نصارا دشمنی ہمارے ایمان کا فخریہ حصہ ہے۔ چنانچہ ہم مسلمانوں کو اپنی انتہا پسندی، تعصب اور نفرت بالکل نظر نہیں آتی۔ جب کہ سچ یہ ہے، کہ دیگر مذاہب یا اقوام میں متعصب، یا انتہا پسند دائیں بازو کے گروپ بنے، تو وہ ہم مسلمانوں کے انتہا پسندانہ اور علیحدگی پسند رویے کا نتیجہ تھے۔

ہم مسلمان ہیں جو سب سے پہلے اعلان کرتے ہیں ۔۔کہ ہم تو الگ ہیں۔۔۔ہمارے ساتھ خصوصی رویہ اختیار کیا جائے۔۔یہ مسلمان ہیں جو کسی جمہوری، سیکولر اور مہذب معاشرے میں بھی دوسروں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔۔۔انہوں نے ہر جگہ بول پڑنا ہے۔۔کہ ہمارا معاملہ تو الگ ہے۔۔۔وہاں سے تفریق پیدا ہوتی ہے۔۔اور اکثریتی طبقے یا مذہب میں مسلمانوں کے بارے میں بھی ناپسندیدہ جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔۔

آج کی مہذب دنیا میں ہر بات پر کہنا ۔۔کہ ہمارے ساتھ الگ سا خصوصی سلوک کیا جائے۔۔خصوصی قوانین ، ضوابط بنائیں جائیں۔۔کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔۔۔ مسلمانوں کو باقی انسانیت سے الگ کرتا ہے۔۔۔ چونکہ مسلمان اپنی اس الگتسلیم کروانے کے نتیجے میں کچھ خصوصی سلوک، مراعات، اور آزادی لے لیتے ہیں۔۔تو ظاہر ہے، ایک وقت آتا ہے۔۔کہ اکثریتی گروہ کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بھی تعصب پیدا ہو جاتا ہے۔

یہی ہم نے انڈیا میں کیا۔۔ایک ہزار سال ہندو اکثریت پر دھڑلے سے حکومت کی۔۔۔حکمرانی کے دوران ایک ہزار سال تک یاد نہ آیا۔۔ہم اور ہندو الگ الگ قوم ہیں۔۔ جونہی وقت نے پلٹا کھایا۔۔اب جمہوری، سیکولر اور تعلیم کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل ہوگی۔تو فوراً اسلام کا نام استعمال کرکے الگ وطن کا مطالبہ شروع کردیا اور پھر مسلم اکثریتی علاقوں سے ہندووں سکھوں کی جائدادوں، زمینوں، دولت پر قبضہ کرنے کے لئے خون ریزی اور فسادات شروع کردیئے۔۔۔تاکہ یا تو ان کو قتل کردیا جائے، یا وہ بھارت کی طرف سب چھوڑ چلے جائیں۔۔

اس سارے تناظر میں ہمارا مطالبہ یہ رہا۔۔کہ ہم تو ہندو سے نفرت کرسکتے ہیں۔۔ہندو مسلمان سے نفرت نہیں کرسکتا ہے۔اسے سیکولر ازم کے طعنے دیئے جائیں گے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو جذبات وجود میں آئے۔۔وہ مسلمانوں کی اس مسلسل علیحدگی پسندانہ فطرت کا نتیجہ ہے۔ ظاہر ہے، وہاں سے انتہا پسندانہ آوازیں اٹھی۔۔کہ پھر جاو۔۔اپنے پاکستان یا سعودی عرب۔۔۔۔یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔

مسلمان دنیا میں جہاں کہیں ہے۔۔وہ الگ تھلگ رہا ہے۔۔اور عام طور پر اکثریت کی نسبت پس ماندہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مغرب جیسے انسانی حقوق اور مساوی برتاو والے معاشرے میں بھی اپنے لئے ہر چیز الگ مانگنی شروع کر رکھی ہے۔۔اس کا مطلب ہے، مسلمان باقی انسانیت کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتا۔۔

اس کا مطلب ہے، آنے والی جدید دنیا مسلمان کے لئے نہیں ہے۔۔وہ تو گلوبل ولیج بنانے کی طرف جارہی ہے۔۔دنیا کی زبان، ثقافت، رہن سہن۔۔ایک ہورہے ہیں۔۔چنانچہ دنیا بھر میں انتہا پسندانہ رویوں اور تحریکوں کے ابھرنے کی بڑی ذمہ داری خود مسلمانوں کے رویے پر عائد ہوتی ہے۔۔ یہ مل کررہیں، تو کوئی بھی ان کے ساتھ تعصب سے پیش نہ آئے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *