مذہب بطور موروثی شناخت 

مبارک حیدر

اپنے مذہب کو آخری سچائی ماننے والوں کے لئے ان کا مذہب موروثی شناخت بن جاتا ہے ۔ یعنی اس طرح کہ یہ ایک وراثت ہے جو مجھے میرے والد محترم سے ملی ہے اور ان کو اپنے ابّا حضور سے ۔ اور اس سلسلہ کے آغاز پر ایسے اجداد کی شبیہیں دمک رہی ہیں جن کا ظاہر و باطن ، طرز حیات ، سب کچھ ایسا ہے کہ اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا اور ان کا یہ ترکہ نسلوں سے ہوتا ہوا مجھ تک پہنچا ہے ۔

ورثے میں ملنے والی اس شناخت کے کچھ مسائل ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس کے وارثوں کی تعداد نسل در نسل بڑھتی ہے لیکن ان لاکھوں کروڑوں افراد میں سے ہر ایک اس شناخت کو ذاتی ملکیت سمجھ کر فخر کرتا ہے ، کیونکہ ہر ایک کو یہی فخر سکھایا جاتا ہے ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر نسل اور فرد کی شکل مختلف ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ہر نسل کے حالات وقت کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں مثلا پیشے ، لباس اور معمولات بدل جاتے ہیں ۔ فرد کی انفرادی خوبیاں اور خامیاں بھی اسے منفرد کرتی ہیں جو آبائی ٹھپے سے مختلف ہوتی ہیں ۔

ان حالات میں نسلی موروثی شناخت پر فخر کرنے والے کو ایک بڑی الجھن کا سامنا ہونے لگتا ہے ۔ ایک طرف تو اس کا ایمان ہے کہ اسے اپنے جد امجد کی ہو بہ ہو کاپی ہونا چاہئے ، یعنی وہی شکل وہی لباس وہی معمولات جبکہ اسکا بہت کچھ بدلا ہوا ہے جو جد امجد سے کافی مختلف ہے ۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ارد گرد کے لوگوں جیسا دکھائی دیتا ہے یا ان جیسے طور طریقے اپنا رہا ہے ۔ تب اس کی شناخت کا بحران پیدا ہوتا ہے ۔ اگر وہ اپنی موجودہ شکل کو درست مان لے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ جد امجد جیسا ہونا ضروری نہیں تھا ۔

اگر جد امجد جیسا ہونا لازم تھا تو پھر یقیناً اسکے وجود کا سب کچھ غلط ہو گیا ہے ۔ اسے یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوتی کہ جو کچھ ہوا فطری تھا، جینیاتی قوانین کے مطابق ہوا یعنی وہی ہوا جیسا میرے اجداد کے خون میں تھا ۔ یا وہ ہوا جو انسانی نشو و نما کے قانون سے ہونا اٹل تھا یا جسے نئی نسلوں کی ذہانت نے ایجاد کیا ۔

ان حالات میں اس کی موروثی نرگسیت کام آتی ہے ۔ جس سے کئی متضاد دعوے جنم لیتے ہیں ۔ وہ ساری نسل کا نمائندہ بن جاتا ہے کبھی وہ کہتا ہے ہم گھٹیا ہیں مگر ہمارے اسلاف عظیم تھے ۔ ہماری ذلت کا سبب یہ ہے کہ گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی ۔ ہم نے کفار کے اصول ،ان کی ایجادات ،ان کے طور طریقے اپنا کر اپنی عظمت کھو ڈالی ۔ کبھی مخالف سمت میں چھلانگ لگا کر کہتا ہے کفّار نے یہ حیرتناک ایجادات یہ شاندار سماجی اصول ہمارے اسلاف سے سیکھے ہیں ۔ ہمارے اسلاف کی کتابوں میں ہزاروں سال پہلے سے سب کچھ لکھ دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایک پل پہلے اس نے موجودہ دور کے جن حقائق کی مذمت کی تھی ، اب اسکی وراثت کا پھل بن گئے ہیں ۔

ہمارے اسلامی اسلافی دانشور کہتے ہیں اسلامی تعلیمات کا کوئی بھی حصہ ناقابل عمل نہیں ۔ یعنی اسلامی شریعہ کی سزائیں اور غیر مسلم اقوام کو فتح کر کے ان کے مرد و زن کو غلام بنانا اب بھی قابل عمل ہے ۔ پھر کہتے ہیں ہمارا ایمان اسلافی بنیادوں پر نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اسلامی شریعت انہوں نے اپنی سوچ سے پیدا نہیں کی ۔ انہوں نے سب کچھ ماں باپ سے سیکھا اور ان کے گھروں میں ماؤں کی ڈیوٹی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسلام سیکھنے حتیٰ کہ نماز روزہ کا پابند کریں ۔

ہمارے یہ دانشور اکثر سوال کرتے ہیں ، جو تھوڑی دیر پہلے جوسف علی نے دہرایا ہے سائنس نے دنیا کو ابھی تک کیا اخلاقی ضابطہ دیا ہیے؟جواب یہ ہے کہ سائنس تو محض علم ہے ، یہ مذہب یا خدائی ہدایت نہیں ۔ اور اس میں شک نہیں کہ آج کی اقوام نے ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے بہت تباہی کی ہے ۔ یہ انسانی تاریخ ہے کہ ہر دور میں انسانوں نے جنگ بھی کی اور مہلک سے مہلک تر ہتھیار بھی استعمال کئے ۔ ڈر ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا ۔

لیکن ہم اپنے فخر کی حالت میں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے بہت سے ملکوں پر ناحق قبضہ کیا ، وہاں کے بے قصور مرد و زن کو غلام بنا کر بازاروں میں بیچا اور کبھی بھی ان ملکوں کو آزادی نہیں دی ۔ اس کے بر عکس جدید دور کے علوم کا پھل یہ ہے کہ اب کوئی جدید قوم کسی کے ملک پر مستقل قبضہ نہیں کرتی نہ ہی غلام بنائے جاتے ہیں نہ قیدیوں کے سر قلم کئے جاتے ہیں جو کہ بنو قریظہ کے قیدیوں سے لے کر ابوبکر بغدادی کے قیدیوں تک سب کا مقدر رہا ۔ پچھلی صدی میں یورپی اقوام نے درجنوں اقوام کو جنگ کے بغیر آزادی دی جو عالمی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے ۔ 

موروثی شناخت کی اس اذیت میں صرف ہم مسلمان ہی مبتلا نہیں ۔ یہ ہر مذہب کے ماننے والوں کا المیہ ہے ، جو سائنس و صنعت کی چار صدیوں سے ابھرا ہے اور تیزی سے بدلتی ہوئی موجودہ دنیا میں سنگین تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اس المیہ کی سنگینی ہمارے مسلم معاشروں میں اس لئے سب سے بڑھ کر ہے کہ دنیا کی قیادت کے دعوے سب سے بڑھ کر ہمارے ہی ہیں ۔ دوسرے اہم مذاہب نے بہت حد تک وراثتی شناخت سے ہاتھ کھینچ کر حقائق کو تسلیم کر لیا ہے ۔ جب کہ مغرب کے کچھ مسیحی اور مسلمانوں کی اکثریت ابھی ڈٹے ہوئے ہیں کہ زمانہ ہم سے ہے ، ہم زمانے سے نہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *