سراب پیچھے بھاگتے لوگ؟

  بیرسٹر حمید باشانی

حقیقت پسندی صرف افراد کی ہی ضرورت نہیں، یہ ریاستوں کی بھی مجبوری ہے۔  خواہ وہ ریاست دنیا کی وحد سپر پاور ہی کیوں نہ ہو۔  لندن میں سپر طاقت کے سربراہ کے ساتھ  عوام کے پیسے سےشاہی سلوک ہوا، مگر عوام نے بھی یہ حقیقت آشکار کر دی کہ یہ شخص عوام میں بہت غیرمقبول ہے۔  صدر ٹرمپ اپنے آپ کو نیشنلسٹ کہتے ہیں۔   بطور صدرانہوں نے بڑی حد تک امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ایک نیونیشنلسٹ کی نگاہ سے دیکھنے اور اس کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔   مگر یہ پالیسی ہراس جگہ ناکام رہی،  جہاں اس کی فوری کامیابی کی سخت ضرورت تھی۔

اس کی ایک کلاسیکل مثال افغانستان ہے،  جہاں سے وہ فی الفور فوجیں نکالنے کا ایجنڈا لے کر آئے تھے، مگر اپنے فوجی مشیروں کے مشورے سے وہ یہ ایجنڈا مسلسل بدلتا رہے۔  یہاں تک کہ اس کے اور اس کے پیش رووں کے ایجنڈے میں کوئی فرق نہ رہا۔  گویا ٹرمپ نیو نیشل ازم کے بجائے حقیقت پسندی کی پالیسی اپنانے پر مجبور ہوئے۔  ٹرمپ کا نیو نیشنلزم یا تنگ نظر قوم پرستی کا نظریہ کم ازکم خارجہ پالیسی کے باب میں اڑان سے پہلے ہی زمین بوس ہو گیا۔

ٹرمپ سے پہلے کے تین صدور نیو لبرل ازم کے بارے میں اتنے ہی پر جوش تھے، جتنا وہ  ابتدا میں نیو نیشنلزم کے بارے میں رہا ہے۔ نیو لبرل ازم کا جو حشر ہوا۔ اس کی ایک ہلکی سی جھلک امریکی لکھاری میئر شائمر نے اپنی کتاب عظیم سراب”  میں دیکھا نے کی کوشش کی ہے۔  اس کے خیال میں نیو لبرل ازم دنیا میں سپر طاقت کی برتری اور غلبہ قائم کرنے کا نظریہ ہے، جو اپنے مقاصد کے حصول میں تباہ کن نا کامی سے دوچار ہوا۔

مغرب میں خارجہ امور کی اشرافیہ کے ایک بڑے حصے کو یقین ہے کہ دنیا میں نیو لبرل ازم کا غلبہ یا برتری ایک دانشمندانہ پالیسی ہے۔  یہ انسانی حقوق کے تحفظ کا بہترین طریقہ ہے، جن کی عموما مطلق ا لعنان حکومتوں  کی طرف سے خلاف ورزی کی جاتی ہے۔  لبرل پالیسی والوں کو یقین ہے کہ جمہوریتیں آپس میں جنگ نہیں کرتیں،  اس لیے  عالمی امن قائم کرنے کا بہرین فارمولہ دنیا میں جمہوریت کی درآمد بر آمد ہے۔  اور یہ خود اپنے ملک کے اندر بھی لبرل ازم اور آزاد خیال جمہوریت کے تحفظ کا بہترین طریقہ ہے۔

 مئیر شمائر کے خیال میں یہ روایتی دانش غلط ہے۔  کوئی بھی بڑی طاقت سچی لبرل خارجہ پالیسی نہیں اپناسکتی۔  اور جب ایک سے زائد عظیم قوتیں موجود ہوں تو ان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لبرل پالیسی کے بجائےحقیقت پسندیکی پالیسی اپنانی پڑتی ہے۔  عظیم طاقت کا ایک بڑی پریشانی ان کی اپنی بقا ہوتی ہے۔  ایک  بائی پولر یعنی دو قطبی یا ملٹی پولر یعنی کثیرالا قطبی نظام میں اسے دوسری طاقت کی طرف سے  حملے یا کسی اور مخالفانہ کاروائی کا خوف ہوتا ہے ۔ اس صورت حال میں لبرل طاقتیں آزاد خیالی کا پرچار کرتی رہتی ہیں۔  وہ گفتگوہ ایک آزاد خیال کی طرح کرتے ہیں، مگر ان کا عمل ایک حقیقت پسند کی طرح ہوتا ہے۔

سچے لبرلزیا آزاد خیال لوگ  فطری انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔  اس لیے وہ اس سیارے پر بسنے والے ہر فرد کے انفرادی حقوق کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔  اس طرح کا علمی قسم کا منطق  ایک طاقت ورلبرل ریاست کو یہ ترغیب دیتا ہے کہ وہ ان ممالک کے  اندرونی معاملات میں مداخلت کرے،  جواپنے شہریوں کے حقوق غضب کرتی ہیں۔    ان کے حقوق کے تحفظ کا ایک طریقہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان  کے ہاں بھی لبرل جمہوریت قائم کر دی جائے ۔   اس مقصد کے لیے مطلوبہ ملک میں رجیم چینج یعنی سرکار کی تبدیلی کا خیال پیدا ہوتا ہے۔

  اس کا مقصد ایک مطلق العنان حکومت کی جگہ جمہوری حکمران کو لانا ہوتا ہے۔  لبرل ایسا کرنے سے نہیں شرماتے۔  چونکہ ان کو اپنے سوشل انجنئیرنگ کے نظریے پر بڑا یقین ہوتا ہے۔  لبرل جمہوریتوں پر مشتمل ریاستوں کے قیام میں ان کو عالمی امن بھی نظر آتا ہے۔    

نیو لبرل ازم کے اس سارے جوش و خروش کے باوجود  اپنے مقاصد نہیں حاصل کر نے میں ناکام رہا ہے۔  اوراس کو اس ناکامی کی بہت بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے۔

اس طرح لبرل ریاست جنگ، دہشت گردی جیسے مسائل میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنتی رہی ہے۔  اور ریاست کا فوجی مہم جوئیکا رحجان خود اس کے لبرل ازم کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا رہاہے۔   اس طرح دوسرے ممالک میں لبرل ازم پھیلانے کا عمل خود ملک کے اندر لبرل ازم کو گھوماتا رہا ہے۔  اور اگر لبرل ریاست  دوسرے ممالک میں اپنی پسند کی جمہوریت پھیلانے، آزاد معاشی تعاون، اور عالمی ادارے تشکیل دینے میں کامیاب بھی ہو جائے،  تو یہ عالمی امن کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔

لبرل ازم کی حدود و قیود کو سمجھنے کے لیے قوم پرستی اور حقیقت پسندی کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ قوم پرستی ایک طاقت ورسیاسی نظریہ ہے۔   لبرل ریاستیں بھی قومی ریاستیں  ہوتی ہیں۔  لبرل ازم اور قوم پرستی ایک ساتھ چل سکتے ہیں ، مگر جہاں کئی بھی ان کے درمیان تصادم پیدا ہوتا ہے، وہاں اکثر قوم پرستی ہی فتح مند ہوتی ہے۔

قوم پرستی سے ہمیشہ لبرل خارجہ پالیسی متاثر ہوتی ہے۔  مثال کے طور پرقوم پرستی حق خود اردیت پر بہت زیادہ زور دیتی ہے اور  ملکوں کےاندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتی ہے۔ بسا اوقات قوم پرستی اور لبرل ازم کا انسانی حقوق کے معاملے پر بھی تضاد ہوسکتا ہے۔  لبرل سوچ کے مطابق  ہرآدمی کو مساوی حقوق حاصل ہونے چاہیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔  جبکہ قوم پرستی حقوق کو اپنی سرحدوں تک محدود کرتی ہے۔  دنیا میں عام لوگوں کی اکثریت دوسرے ممالک کے شہریوں کے حقوق کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہوتی۔  وہ  صرف اپنے ہم وطنوں کے بارے میں سوچتے ہیں ، یہ بھی محدود پیمانے پرہی ہوتا ہے۔

امریکہ ایک آزاد خیال ریاست ہے، جو سرد جنگ کے اندر سے  دنیا کی واحد  سپر پاور کے طور پر ابھری۔ 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے سے اسے دنیا میں لبرل غلبہ قائم کرنا کا بہترین موقع مل گیا تھا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے عین موقع پر فرانسس فوکویاما  نے دی اینڈ آف ہسٹریمیں لکھا  تھاکہ لبرل ازم نے اس صدی کے  پہلے نصف میں فاشزم کو اور دوسرے نصف میں کمیونزم کو شکست دی۔  اور اب اس کے مقابل کوئی بچا نہیں ہے۔   دنیا  میں بلاخر لبرل جمہورتیں ہی قائم ہوں گی۔  اور عظیم طاقتوں کے درمیان جنگیں ختم ہو جائیں گی۔ اوراگر انسان کا کوئی مئسلہ  باقی رہ جائے گا تو وہ اکتاہٹ ہوگی۔  اس وقت یہ عام خیال تھا کہ لبرل ازم  دنیا میں طاقت کی سیاست کا خاتمہ کر دے گا۔ 

بل کلنٹن نے 1992میں صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ  ہم جس دور میں زندہ ہیں یہ آزادی کا دور ہے۔  جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آزادی اور جمہوریت دنیا کے ہر ملک تک پہنچے گی۔  دوہزار تین میں عراق پر حملہ کرتے وقت جارج بش نے کہا آزادی کو آگے بڑھانا ہمارے وقت کا تقاضا ہے۔  ہمیں یقین ہے کہ آزادی قدرت کا ڈیزائنہے،   آزادی صرف ہمارے لیے نہیں ہے، آزادی پوری انسانیت کا حق ہے۔ 

مگر بد قسمتی سے اس  خیال کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش  کےدوران بہت کچھ غلط ہوا۔ آج بیشتر امریکی اس طرح نہیں سوچتے جس طرح وہ انیس کو اکانوے میں یا پھر دو ہزار تین میں سوچتے تھے۔   آزادی اور انسانی حقوق کے نام پرامریکہ نے مشرق وسطی میں تباہی پھیلانےمیں اہم کردار دا کیا، اس تباہی اور بربادی کے جلدی ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔   یہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ 1989سے لیکر امریکہ ہر تین میں سے دو سال حالت جنگ میں رہا ہے۔  اور اب تک سات مختلف جنگیں لڑ چکا ہے۔

 اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جعلی لبرل خارجہ پالیسی امن اور تعاون کا فارمولہ نہیں ہے، بلکہ یہ عدم استحکام اور تصادم کا فارمولہ ہے۔    ٹرمپ نے آغاز ایک تنگ نظر قوم پرستی سے کیا تھا۔ مگر نیو لبرل ازم کے سراب کی طرح ٹرمپ کی قوم پرستی بھی سراب ثابت ہوئی۔  سچ تو یہ ہے کہ ایک سپر پاور حقیقت پسندی کےعلاوہ کوئی اور پالیسی اپنا کر اپنا کردار اور عالمی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *