ایک کپڑے کا تھان کیسے ایک عورت کو مرد کی بد نیتی سے بچا سکتا ہے؟

عفاف اظہر

کبھی کسی تھیٹر یا سٹیج پر کام کرنے والی خواتین کو باہر پبلک میں دیکھیں تو وہ ہمیشہ برقعہ میں ملیں گی .اور وجہ صاف یہی ہے ہمارے سماج میں تھیٹر یا سٹیج کی زندگی عام پبلک کی نظر میں خاصی بدنام و بد کردار ہے .. لہذا ہر وہ خاتوں جو سٹیج یا تھیٹر پر شوخ و چنچل ، نڈر و بیباک نظر آتی ہے مگر وہ باہر برقعہ پہنے یعنی سماج کی مخصو ص روایتی نظر سے ہر ممکن سامنا کرنے سے گریزاں ہوگی ۔

ایک زمانے تک بالکل ایسا ہی رویہ سلور سکرین کے کردار وں ، فلم سٹارز ، ٹی وی کی اداکاراؤں ، اور رقاصآؤں کا بھی رہا ہے۔ یہ سبھی باہر کی دنیا میں ہمیشہ برقعہ اوڑھ کر ہی آتے تھے .. اور ہاں صدیوں سے اب تک آپکی آبائی تاریخی وراثت سنبھالے .. رات کی چکا چوند روشنیوں میں ہیرا منڈیوں کے سبھی مہکتے چہکتے اڈوں کی دلنشیں بہاریں ہمیشہ دن کو سورج کی روشنی میں باہر کی دنیا برقعہ اوڑھ کر ہی دیکھتی چلی آ رہی ہیں ..

چلیں اب مردوں کی یعنی طاقت کی دنیا میں پردے یعنی چھپنے کا مفہوم تلاشتے ہیں۔مائیکل جیکسن جیسے شہرہ آفاق سنگر کو میڈیا سے بچنے کیلئے بارہا مالز اور عوامی جگہوں پر اکثر برقعہ پہنے ہی دیکھا جاتا رہا۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس طویل جنگ و تاریخی جنگ میں بہت سے شدت پسند جہادی عناصر کی فہرستیں بنیں ، اور تلاش میں زمیں و آسمان ایک کئے جاتے رہے ۔

اس دوران افغانستان کے بارڈر پر ، قبائلی قبرستانوں میں ، اور موٹر سائیکلوں سواروں کی گرفتاریاں عمل میں آتی رہیں اور بیشتر گرفتاریوں کے واقعات میں ان مطلوبہ شدت پسند عناصر کو برقعہ پہنے گرفتار کیا جاتا رہا۔مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن میں ہر دل عزیز مجاہد لال مسجد کے سپہ سالار مولانا بھی برقعہ میں ہی پکڑے گئے تھے۔

اور اب حتمی طور پر یہ تو طے ہے کہ ان میں سے کسی پردہ دار و برقعہ پوش کا مقصد کبھی بھی تقوی و پرہیزگاری یا پاکدامنی ہرگز نہیں رہا ہے۔ بلکہ برقعہ یعنی پردہ کا مفہوم یہاں تو محض اپنی شناخت چھپانا رہا ہے ۔ صدیوں سے ہمارے معاشرے میں رائج العمل عام مفہوم کے معیار پر دیکھا جائے تو برقعہ کا مقصد کبھی بھی برائی سے بھاگنا نہیں رہا ۔بلکہ ہمیشہ پردہ کا مقصد تو برائی کو چھپانا رہا ہے ۔ یعنی برقعہ درحقیت ایک ایسا پردہ ہے جسکا کام مجرم کی شناخت چھپانا یا پھر برے کی برائی کو ڈھانپ دینا ہےاور بس ۔

اپنی سماجی سوچ کے بخئیے ادھیڑ کر دیکھ لیں آپکو یہاں اس پردے کے مفہوم کے پیچھے بھی ایک عورت کا وجود مجرم بنا نظر آئیگا جس کی شاخت مٹانا ، چھپانا ، اسکے وجود کو ڈھانپنا ضروری ٹھہرا ۔ ورنہ یہ برقعہ کیوں کر تمہارا محافظ کہلا سکتا ہے ؟۔ ایک کپڑے کا تھان کیسے ایک عورت کو مرد کی بد نیتی سے بچا سکتا ہے ؟ ..ہڈی کو چھپا کر یا چھیچھڑے پر کپڑے کا تھان لپیٹ کر کتوں کی بھوک کو کیونکر مٹایا جا سکتا ہے ؟ ..کیا کسی مجرمانہ ذہنیت کا خاتمہ یا اس سے بچاؤ کبھی مجرم سے چہرہ چھپا کر بھی ممکن ہوا ہے؟

نہیں ہرگز نہیں کیوں کہ ہر انسانی وجود اپنی ایک شناخت رکھتا ہے ۔ ہر انسان کی پہچان اسکی اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ نہ کسی مرد کی پہچان عورت سے ممکن ہے اور نہ ہی کسی عورت کی شناخت کسی مرد سے..شناخت محض انسان کا اپنا وجود ہےاور شناخت رکھنا ہر انسان کا بنیادی انسانی حق ہے اور کسی انسان کی پہچان چھپانا، مٹانا یقینی طور پر ایک جرم ہے ۔

ہمارا جنسی تعصب پر مبنی معاشرہ ، مرد و زن کی تفریق کرتی یہ روایات ، عورت کی محکومیت اور مرد کی حاکمیت پر مبنی یہ عقائد صدیوں سے عورت کی شناخت مٹا کر اسکے وجود کے مجرم بنے ہیں۔ انہوں نے اب تک ایک عورت کے وجود کو مجرم کی طرح چھپا کر محض ایک جنسی چھیچھڑ ا ہی ثابت کیا ہے۔

یاد رکھو کہ ! چہرہ چھپانا شناخت مٹانا ہے اور اپنے وجود کی شناخت مٹا کر جینا محض جہالت ہے ،ایک شدت پسندی ہے اور برائی اور جرم کی کھلی کھلی حمایت بھی۔دوسرے الفاظ میں یہ دلیل ہے سماج کا سامنا نہ کر سکنے کی یا پھر بد نیتی و جرم کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ ہونے کی۔جسکا صاف مطلب عورت کا خود اپنے وجود پر اعتماد نہ ہونا ہے۔حفاظت کا کل دارومدار تو اعتماد پر ہے ۔ ہاں اب اس اعتماد سے عاری عورت کے کھوکھلے وجود کا نظریات کی اس صدی میں مزید ٹھہر پانا خاصا محال ہونے جا رہا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *