وزیرِ اعظم مودیؔ اور بی جے پیؔ کی فتح کے عوامل

منیر سامی

گزشتہ ہفتہ بھارت میں وزیرِ اعظم مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کی انتخابات میں تاریخی فتح کے بعد ہر طرف سے اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا ہونا لازم تھا۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کی سیاست اور حکومت پر سالہا سال سے بھارت کے بانیوں میں شامل جماعت کانگرسؔ پارٹی کا غلبہ تھا۔ بالخصوص نہرو خاندان کا جس میں سے پنڈت نہروؔ، ان کی صاحبزادی اندراؔ گاندھی ، اورپھر ان کے صاحبزادے راجیوؔ گاندھی نے ،بھارت پر براہِ راست حکمرانی کی۔ یوں ایک جمہوری ملک کی وزارتِ عظمی اور حکومت ایک موروثی حکمرانی کا شکار ہوئی۔

کانگر س کے زوال میں اندر ا گاندھی کے بیٹے سنجےؔ گاندھی کا کردار بھی اہم ہے۔ جو اپنی والدہ پر بہت زیادہ اثر رکھتے تھے، اور اکثر اپنا اثر حکمرانی پر آمرانہ طور پر استعمال کرتے تھے۔اندرا گاندھی کو بھارت پر ہنگامی حالت یاا یمرجنسی مسلط کرنے کے بعد شکست کھانا پڑی ، جس کے نتیجہ میں کہہ سکتے ہیں کہ کانگرس پارٹی کا زوال شروع ہو گیا۔ اندرا گاندھی کے قتل اور اس کے بعد ان کے بیٹے راجیو گاندھی کے قتل کے بعد یہ زوال مکمل ہو گیا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بھارت کی کانگرس پارٹی سالہا سال تک دنیا میں جمہوری سیکولر حکمرانی کی مثال سمجھی جاتی تھی۔ کثیر الاقوام بھارت میں ہندو نژاد آبادی کی اکثریت، وہاں کی بڑی مسلم اقلیت ، اور دیگر اقوام جس میں سکھ اور دوسری بڑی قومیتیں شامل ہیں ، اک عرصہ تک نسبتاً ہم آہنگ رہیں۔ گو کہ وہاں ہمیشہ سے دائیں بازو کی شدت پرست ہندو اقلیت اپنا زور دکھانے کی کوشش کرتی رہی۔ کسی بھی سیکولر نظام میں دائیں بازو کی شدت پرست جماعتیں یا طبقات ہمیشہ نسلی اور مذہبی ہم آہنگی کو اپنا دشمن گردانتے ہیں اور حکومت پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

بھارت میں کانگرس کے زوال کے ساتھ وہاں رفتہ رفتہ دائیں بازو کی شدت پرست قوتوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملا، اور وہاں کی جماعت بی جے پیؔ نے حکمرانی حاصل کرنا شروع کی۔ بی جے پی شروع میں ایک معتدل رخ دکھانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن آخرِ کار اسکا ہندو شدت پرست چہر ہ عیاں ہونا شروع ہو گیا۔

نسل پرستی اور شدت پرستی کا قبیح ترین نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نسل پرست خیالات پوری قوم پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں اور اقلیتی گروہ کی مخالفت او ر اس سے عداوت ایک عادت بن جاتی ہے، اور موئثر مقرر ،یا رہنما اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بھارت کے وزیرِ اعظم مودی کا تعلق بھی نہ صرف اس شدت پرست طبقہ سے ہے بلکہ وہ اس طبقہ کی عسکری شاخ کے با عمل رکن بھی رہے ہیں۔ گو وہ دنیا کے سامنے اس رخ کو کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن دنیا اس رخ کو خوب پہچانتی ہے۔

لیکن دنیا اس بارے میں کوئی اثر نہیں رکھتی کیوں کہ بھارت اس وقت سرمایہ دار معیشت کا اہم رکن ہے، اور دنیا اس پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گو مغربی جمہوریت اور سرمایہ داری کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، لیکن سرمایہ دار طبقہ کو مطلق العنان حکمرانوں کو اپنانے میں کوئی عار نہیں ہوتا۔ یہ مطلق العنانی ہے جو سرمایہ دارںو کو کاروبار میں کھل کھیلنے کی اجازت دیتی ہے بشرطیکہ آمروں کو ان کا حصہ ملتا رہے۔یہ بھارت میں سرمایہ داری اور شدت پرستی کا سمبندھ ہی ہے جس کی علامت مودی اور ان کی جماعت ہے۔

نہ صرف بھارت میں مودی کے عروج، بلکہ خود مغرب میں سیکولر نظام کی پسپائی کو ہمیشہ گزشتہ تیس چالیس سال کی عالمی صورت ِ حال کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اس ضمن میں سنہ نوّے میں جامعہ شکاگو سے شائع ہونے والی چھ جلدوں پر مبنی کتاب، The Fundamentalist Project ، کا مطالعہ اہم ہے۔ ا س کتاب میں شامل موضوعات میں، گزشتہ تین یا چار دہایئوں میں بنیاد پرستی اور شدت پرستی کے عروج، اور آزاد خیال اور سیکولر طبقات کی پسپائی کے مضمرات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہم بحیثیت طالب علم پچھلی تقریباً نصف صدی میں سوویت یونین کی شکست و ریخت ، سرمایہ داری کے عروج کودنیا پر امریکی صدر ریگنؔ، برطانوی وزیرِ اعظم ماگریٹ تھیچرؔ، اور پاکستانی آمر جنرل ضیا الحقؔ، کی گھنائونی مثلث کا نتیجہ گردانتے ہیں۔اس مثلث کو دنیا بھر کے سرمایہ داروں اور کمیونزم مخالف حکمرانوں کا تعاون حاصل تھا۔

اس گٹھ جوڑ کا اثر دنیا بھر کے جمہوری ممالک پر پڑا۔ ایک طرف تو سرمایہ دار مخالف نظریات کمزور ہوئے، اور دوسری جانب مادر پدر آزاد سرمایہ داری کو شہہ ملی۔ ان جمہوری ممالک میں بھارت میں کانگریس پارٹی اور کمیونسٹ جماعتوں کی پسپائی،خود برطانیہ میں عوام دوست جماعت لبرل پارٹی کا زوال ہوا جس کو نیو لبرل خیالات اپنانے والے لبرل وزیرِ اعظم ، ٹونی بلیئرؔ نے مہمیز دی۔ اسی طرح اسی عرصہ میں امریکہ میں عوام دوست خیالات رکھنے والی ڈیمو کریٹؔک پارٹی کا ثر کم ہونا شروع ہوا، او ر وہاں بھی بنیاد پرست خیالات اور ، مذہبی شدت پرستی اور قدامت پرستی مضبوط ہوئے جس کی واضح مثال وہاں موجود ہ صدر ڈونلڈ ٹرمپؔ کا اقتدار ہے۔

اب تک کی معروضات کا مقصد آپ کے سامنے دنیا بھر میں بنیاد پرستی، قدامت پرستی، اور مذہبی شدت پرست کے عروج کے وہ عوامل پیش کرنا ہے، جنہیں سمجھے بغیر وزیرِ اعظم مودی کے عروج کو سمجھنا ممکن نہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی جان رکھنا چاہیے کہ اب بھی ساری دنیا میں آزاد خیالی، سیکولرزم ، اور قدامت پرستی کی مخالفت کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو ظلم کے خلاف جدو جہد میں مصروف ہے۔ ایسے سارے طبقات کو نہ صرف ہر ہر ملک میں بلکہ عالمی طور پر منظم اور متحد ہونا ہو گا، اور جدو جہد جاری رکھنا ہوگا۔ ترقی پسندی کی بنیادی روح یہ ہے کہ یہ عارضی پسپائیوں کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

One Comment

  1. habeeb sheikh says:

    The struggle shall continue…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *