ڈالر کے عقابی پر اور نیازی حکومت کا مستقبل

ارشد بٹ

پاکستان کا پسماندہ معاشی اور سماجی نظام عوامی فلاح پر مبنی سماجی اور ریاستی تبدیلی کی طرف کیسے قدم بڑھا سکتا ہے۔ جبکہ عوام کو تعلیم، طبی سہولت اور باعزت روزگار کی فراہمی کی راہ میں استحصالی اشرافیہ اور قومی سلامتی کی ریاست رکاوٹ بن چکے ہے۔ ملک کے وسائل پر قابض اور عوام پر مسلط استحصالی اشرافیہ اور طفیلی ریاستی ادارے، ملکی ترقی اور عوامی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی بیس ارب ڈالر سے زیادہ سالانہ ترسیلات، اربوں ڈالروں کے بیرونی اور اندرونی قرضے بھی معاشی ترقی کا پہیہ چلانے اور ریاستی اخراجات کا اندھا کنواں بھرنے سے قاصر ہیں۔

معاشی تنزلی کا شاخسانہ کہ بڑھتی درآمدات اور کم ہوتی برآمدات سے بجٹ کا خسارہ اور قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ زرعی اور صنعتی ترقی کی تنزلی قابل دید کہ جو تھوڑا بہت برآمد کر پاتے ہیں عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پاتا۔ برآمدگان کی بد دیانتی سونے پہ سہاگے کا کام کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی پیداوار پر نظر دوڑایں تو ہمارے پاس دنیا کو بیچنے کے لئے بہت محدود اشیا بنتی ہیں۔ بیرونی منڈیوں میں ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنا تو در کنار، ہمارا پسماندہ معاشی نظام تو عالمی منڈی میں بنگلہ دیش، سری لنکا، تھائی لینڈ، سنگا پور، ملائشیا، کوریا اور ترکی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

بیس کروڑ آبادی میں چند لاکھ لوگ انکم ٹیکس ادا کریں اور ریاست انکم ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے میں ناکام رہے۔ اس سے بڑھ کر ریاستی اداروں کی نااہلی اور ناکامی اور کیا ہو گی۔ اس پر المیہ کہ بجلی، تیل اور روز مرہ استعمال کی اشیا پر ٹیکس لگا کر عوام کا خون نچوڑنا ریاستی آمدنی بڑھانے کا نسخہ کیمیا سمجھا جاتا ہے۔

اشرافیہ کے استحصالی گروہوں اور روایتی سیاستدانوں کے جھرمٹ میں گھرے وزیراعظم عمران خان سماجی اور معاشی تبدیلی کے نعرے کو دفن کر چکے۔سٹیٹس کو کی نمائندہ سماجی، معاشی اور ریاستی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا نیازی حکومت شدید بحرانوں کی زد میں آچکی ہے۔ ملکی معیشت کو درست سمت میں لانے کی ناکام کوششوں میں نیازی حکومت کی بے بسی، لاچاری اور نا اہلی دیدنی ہے۔

حکومت پر ٹیکس دھندگان کا اعتماد کم ہونے لگا جس سے متعین ٹیکس ہدف میں سینکڑوں ارب روپوں کی کمی ہوئی۔ انکم ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے سے راہ فرار، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کرنے میں ناکامی، بیرونی انوسٹمنٹ کے راستے مسدود، بیرون ملک سے لوٹا ہوا سرمایہ لانے کا نعرہ قصہ پارینہ بنا، ڈالر کو عقابی پر لگ گئے اور سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا رجحان رکنے کا نام نہیں لے رھا۔ ان حالات میں نیازی حکومت کی ٹیکس چوروں کو ایمنسٹی سکیم بھی ملک میں معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ آئی ایم ایف کا قرضہ پیکج معاشی معجزہ کیونکر دکھا پائے گا۔

ان حالات میں روز افزوں بڑھتے سیاسی عدم استحکام اور بڑھتی عوامی بے چینی کے طوفان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے دور میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا عمل دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت کی ملک پر مسلط کردہ آئی ایم ایف کی معاشی ٹیم سے عوام کی توقعات پوری ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشیران کی پالیسی معیشت میں مزید خرابی لانے کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈالر کی بے قابو اڑان، مزید بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری، سٹاک مارکیٹ کی مندی اور دیگر معاشی رجحانات مثبت اشارے نہیں دے رہے۔

سیاسی انتقام کی صورت اختیار کرتا احتساب اور اپوزیشن کی طرف نیازی حکومت کا جارحانہ رویہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔بجٹ کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری کے متوقع سیلاب پر سب کی نظریں ہیں۔ اس پر عوامی رد عمل اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی منصوبہ بندی سے نیازی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔ سی پیک کی تکمیل، ایران اور افغانستان کے بدلتے حالات میں امریکی تقاضے، بھارتی الیکشن کے نتائج، ملک کے اندر دہشت گردی کی شکل میں جاری پراکسی وار۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنا نیازی حکومت کے بس میں نیہں ہو گا۔ معاشی بحران سے پیدا ہونے والی عوامی بے چینی، سیاسی انتشار اور ملک کو در پیش چیلنجوں سے آنکھیں بند رکھنا مقتدر قوتوں کے لئے ممکن نہ رہے گا۔

پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جمہوری قوتوں میں ہم آہنگی اور اتحاد ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی اور سیاسی صورت حال، غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت سے دور رکھنے اور ملک کو بیرونی دباو سے نجات دلانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

One Comment

  1. قاضی انعام says:

    پچھلے چالیس سال سے جس سامراجی معاشی بیانیے کو شخصی حکومتوں ریاستی ڈکٹیٹروں اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے ریاستی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے اس نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے ،اب سیاستدانوں کے پاس بیچنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور عوام کو ساتھ ملانے کے لیے بھی کوئی متبادل نظریہ نہیں ہے نادیدہ قوتوں نے چالیس سالہ پراپیگنڈہ کے اندر عوام کی نظروں میں سیاستدانوں کو بے وقعت بنا دیا ہے اور ورکر کی شکل میں جو موقع پرست طبقات ان سیاسی جماعتوں کے ساتھ نتھی کیے تھے وہ تھالی کے بینگن کی طرح ادھر ادھر نادیدہ قوتوں کے اشارے پر بھاگتے پھرتے ہیں ،میڈیا کا بھی یہی حال ہے اب ریاست کے گلے میں عالمی سامراج اور اس کا مصنوعی معاشی نظام پٹہ اور سنگلی ڈالنا چاہتا ہے اور حالات ان نہج پر پہنچا دیے ہیں بےچینی اور عدم استحکام انتہائی شدت اختیار کرے گا ،کوئی سیاسی انقلابی جماعت ریاست کے اندر موجود نہیں جس کا بیانیہ عوام کو متاثر کر سکے ،امریکی سامراج کی کوشش ہوگی ایک بار پھر یونیفارم والوں کو آگے لائیں اور خطہ کے اندر کسی غلیظ مقصد کا حصہ بنائے اور نا ماننے کی شکل میں صدام کی طرح عبرت کا نشان بنائے ،اس لیے کے پاکستان کی عوام جہاں سیاسی جماعتوں سے بیزاری اور مایوسی کا اظہار کررہی ہیں بلکل اسی طرح ریاستی اداروں کے بارے میں بھی اپنے اندر نفرت پیدا کیے ہوئے ہیں ،،اس سازگار ماحول میں عالمی سامراج اداروں کو اپنے مکرو ایجنڈے کا حصہ بنائے گا اور اس خطے کو نئی تقسیموں کی طرف لے کر جائے گا اور نا ماننے کی صورت میں سبق وہ سیکھائے گا اور پھر روس چین اور امریکہ مل کر اس خطے کی تقدیر اور یہاں پیوس مفادات کو تقسیم کریں گے ،پومپیو کا یورپی یونین سے ہوکر روس جانا اور چین کے ساتھ امریکہ کے مزاکرات اور ایران کے بارے میں سخت اور نرم رویہ اور دو بحری بھیڑوں کی آمد اس خطے کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا ،ہماری ریاست اور امت مسلمہ کا مقافات عمل قریب پہنچ چکا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *