جھوٹ ہمارے دور کا  گہراروگ

   بیرسٹر حمید باشانی

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کےچیف جسٹس نے جھوٹ کو ہمارے سماج کا ایک گہرا روگ قراردیا۔  عزت ماب چیف جسٹس کےاس بیان پر کافی بحث ہوئی۔  کچھ لوگوں نے پہلی بار حیرت وافسوس سے اس سچائی کا اعتراف واظہار کیا کہ جھوٹ ہمارا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔  ہم نے اپنے ارد گرد جھوٹ کی پوری پوری عمارتیں کھڑی کر رکھی ہیں۔  کئی ہم ریاستی اورسرکاری سطح پر جھوٹ بول رہے ہیں۔  کئی ہم معاشرتی سطح پربطورسماج جھوٹ بولتے ہیں، اور کئی انفرادی سطح پر بطورفرد جھوٹ پرہمارا اصرار ہے۔

انفرادی نفسیات میں الزام یا جرم سےانکارایک طاقت ورانسانی رویہ ہے۔  ایک خوفناک اورنا پسندیدہ حقیقت کو تسلیم اور برداشت کرنا کسی کے لیے بھی آسان کام نہیں ہے۔  مگر زندہ رہنے کے لیے حقائق ماننے پڑتے ہیں۔ زندگی میں ایک توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ افراد کی طرح اقوام کو بھی اس توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔  بد قسمتی سے ہم صرف آج کے بارے میں ہی جھوٹ نہیں بولتے۔  ہم  نے ماضی کی بھی اپنی مرضی کی اور من پسند منظر کشی کی ہوئی ہے۔  ہم اپنےحال اورماضی کے بہت سارے واقعات کے بارے جھوٹ بولتے ہیں؛ چنانچہ اس سچائی سے کون انکارکر سکتا ہے کہ جھوٹ ہمارے دور کا ایک بڑا روگ ہے؟

معروف لکھاری فلپ ڈک نے حقیقت کی تعریف میں لکھا تھا کہ جس چیز کا وجود آپ کے ماننے یا  نہ ماننے کا محتاج نہیں ہے اسے حقیقت کہتے ہیں۔  کئی اقوام اپنی تاریخ  کی حقیقت کو جیسی کہ وہ ہے تسلیم کر لیتی ہیں، اور کچھ اقوام ناخوشگوار ماضی سے فرار کے لیے ایک خیالی یا تصوراتی ماضی تخلیق کر لیتی ہیں۔  ہماری تاریخ بھی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس میں سب کچھ اچھا ہی نہیں تھا۔ اس میں برا بھی بہت ہوا۔ ظلم و بربریت ہوئی۔ وحشیانہ تشدد ہوا۔ قتل و غارت گری ہوئی۔  بے شمار انسانی ہمدردی اور بحالئِ کے اچھے اور قابل تعریف کام بھی ہوئے۔

جو اچھا ہوا وہ بھی ہماری تاریخ ہے۔ اور جو برا ہوا وہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔  اب  براچھپانے کے لیے ہم اپنی تاریخ از سر نو تخلیق نہیں کر سکتے۔  اس کی خوش کن منظر کشی کے لیے اسے مسخ نہیں کر سکتے۔  تاریخی سچائیوں کی کئی طریقوں سے تشریح کی جا سکتی ہے۔  مگر ان کو بدلنے کا فی الحال کوئی طریقہ دریافت نہیں ہو سکا۔

  افراد کا جھوٹ ایک بڑا اخلاقی، قانونی اور سماجی مسئلہ ہے۔  مختلف سماج اور ریاستیں اپنے اپنے طریقوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔  مگر افراد سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ ریاستوں کا ہے، بدقسمتی سے افراد کی طرح دنیا میں ایسی ریاستوں کی بھی کمی نہیں ہے، جو کسی نہ کسی معاملے میں  اپنے ماضی کی غلطیاں تسلیم کرنے کے بجائےحقائق کو چھپانے یا مسخ کرنے پر بضد ہیں۔  اس مقصد کے لیے ریاستی طاقت اور جابرانہ قوانین کا سہارا لیاجاتا ہے۔   بہت ساری ریاستیں اپنے ماضی سے شرمندہ ہیں، اور ماضی کا  نا خوشگوار بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ 

 ہٹلر نے جب آسٹریا کو اپنی عملداری میں شامل کیا تو  آسٹریا بے شمار لوگ بہت خوش تھے۔  اس نے جب آسٹریا کا دورہ کیا تو اسے ایک عظیم ہیرو کی طرح  خوش آمدید کہا گیا۔  مگرآسٹریا میں یہ کہنا کہ ہٹلر یہاں پیدا ہواتھا، ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔  

چین میں یہ کہنا جرم سمجھا جاتا ہے کہ چین نے1950میں تبت کوبغیر مرضی کے چین میں شامل کر لیا تھا۔  اس طرح راونڈا کے باب میں فرانس میں سچ بولنا جرم سمجھا جاتا ہے۔  راونڈا میں جن لوگوں نے1994 کے قتل عام میں حصہ لیا،  ان کو فرانسیسی فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اور شکست کے بعد ان کو کانگو میں منتقل کیا گیا،  جہاں انہوں نے مزید قتل و غارت گری کی اور تباہی پھیلائی۔  مگر فرانس میں اب اس بات کا اظہار جرم ٹھہرا ہے۔

برطانیہ میں یہ کہنا آج بھی جرم ہی سمجھا جائےگا کہ برطانوی سامراج تاریخ کا سفاک اورظالمانہ منصوبہ تھا، جس نے دنیا کا بےدردی سےاستحصال کیا، اور ایسی افراتفری پیدا کی جو آج بھی دنیا کو ہلا رہی ہے۔

بھارت میں کچھ لوگوں کی نظر میں تاج محل کو مغلیہ حکمرانوں کی عظمت کے ساتھ جوڑ کر یوں پیش کرنا کہ اس سے بھارتی قوم پرستی پر فرق پڑتا ہو یا  ہندو نیشل ازم  کے تصورات مجروح  ہوتے ہوں،  ایک طرح کا جرم ہی سمجھا جاتا ہے۔  اسی طرح ترکی میں یہ کہنا کہ ترکوں کی اس خطے میں آمد سے پہلے کرد لوگ یہاں صدیوں سے آباد تھے۔ اور فوجی مہمات میں ہزاروں کردوں کے گاوں اور گھر مسمار کر دیے گَئے تھے۔

امریکہ میں سب جانتے ہیں کہ یہ عظیم سلطنت لاکھوں ریڈانڈینز کی ہڈیوں اورغلام افریکیوں کی محنت پر کھڑی ہے۔  مگر یہ بات کہنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔  حالاں کہ ایسے موقع پرخاموشی اختیار کرنا ہی سب سے بڑاجھوٹ ہے۔

اسرائیل میں یہ کہنا کہ ہماری ریاست ایک ایسی سرزمین پر قائم ہے، جہاں ایک زمانے میں فلسطینی عرب لوگ رہتے تھے۔ اور ہم نے ان کو باہر نکالا، اور در بدر کیا،  تاکہ ان کہ جگہ ایسی لوگوں کو بسایا جا سکے،  جونسل پرستی نفرت کا شکار ہو کردربدرہوگئےتھے۔ 

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کا قتل عام ہوا۔  یہ ایک ایسی تلخ سچائی یے، جس کے لیَے دنیا بھرمیں انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔  یہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین المیوں میں سے ایک تھا۔  مگر یہ اب انسانی تاریخ کا حصہ ہے، جسے تاریخ سے حذف نہیں کیا جا سکتا۔    یورپ کے بعض ملکوں نے کھلے عام اس قتل عام میں حصہ لیا۔  اور بعض نے اس پر فخر کا اظہار بھی کیا۔  ہٹلر کی قیادت میں جرمنی کی فاشسٹ حکومت اس کی بد ترین مثال تھی۔  یہ بد صورت اور گھناونا سچ ہے، جسے کوئی چھپانا بھی چاہے تو نہیں چھپا سکتا۔  چنانچہ اسے عام طور پر ایک سچائی کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

  مگر یورپ کے کچھ دوسرے ایسے مماللک تھے، جنہوں نے مختلف طریقوں سے اس قتل عام میں میں کوئی نہ کوئی حصہ ڈالا۔  وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوئے۔  اس کی ایک مثال پولینڈ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ میں کچھ لوگوں نے حکومت کے اندر اور باہر سے یہودیوں کے قتل عام میں نازیوں کی مدد کی۔  مگر بعد میں یہ بات درست تسلیم کرنا یا اسے درست کہنا ایک جرم بن گیا۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ قانون بنایا گیا کہ یہ کہنا کہ پولینڈ کو نازی جرائم میں کسی قسم کا زمہ دار ٹھہرانا جرم ہے ، جس کی سزا تین سال قید ہے۔  یہ قانون ان قوم پرست پولش سیاست کاروں کی ایماپر بنا جو اپنے اپ کو تاریخ کے معصوم شکار سمجھتے ہیں۔  یہ قانون بنا کر پولینڈ دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے اپنا کرداراپنی مرضی اور آج کی ضروریات کے مطابق بنانا اور پیش کرناچاہتا ہے۔  یہ ماضی کی شاندار منظر کشی ہے، جس کا مقصد تاریخ بدلنا ہے

 اس طرح ہر قوم ، ہر فرد کسی نہ کسی ناخوشگوار یاد کے ساتھ زندہ ہے۔  کچھ خاص واقعات پر ان اقوام کے موقف پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ بیشتر ترقی یافتہ دنیا میں  سماجی اور اخلاقی سطح پر اتفاق پایہ جاتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک سنگین اخلاقی اور بعض حالات میں قانونی جرم ہے، جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔  ہمارے ہاں یہ اتفاق رائے موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی سے لیکر بڑے بڑے ریاستی اور حکومتی عہدے دار جھوٹ بولتے ہوئے کوئی خجالت یا شرمندگی نہیں محسوس کرتے۔

چیف جسٹس نے جس انفرادی و اجتماعی جھوٹ کا زکر کیا،  وہ ہمارے سماج کے اخلاقی طور پردیوالیہ پن کا اظہار ہے۔ ہمارے ہاں خواندگی کی شرح ویسے بھی بہت کم ہے، مگرجوتھوڑے بہت خواندہ ہیں بھی،  ان کو ہم اخلاقیات نہیں بڑھاتے۔ ہمارے کلاس رومزمیں اگرجھوٹ اورسچ کا کئی زکر ہو بھی تو یہ اسلامیات یا دینیات کے باب میں ہی ہوتا ہے۔  ہم طلبہ کو یہ نہیں پڑھاتے کہ سچائی بذات خود ایک مستقل قدر ایک ناگزیر ضرورت ہے۔  اور سزا و جزا سے قطح نظر جھوٹ بولنا بزات خود ایک قبیح اور انتہائی برا فعل ہے۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *