قرض کی مے ، کشکول اور قومی خود ٘مختاری

  بیرسٹر حمید باشانی خان

نیا پاکستان بنانے والوں پرتنقید کے کئی پہلو نکلتے ہیں۔ ان کے بے شمار افکار یا افعال ایسے ہیں، جن پر بے رحم تنقید ہو رہی ہے۔ کہیں اس تنقید کی گنجائش بھی ہے، اور جواز بھی موجود ہے۔   بلاجواز تنقید محض تنقید برائے تنقید ہے۔   ہم جانتے ہیں کہ جمہوریت میں تنقید لازم ہے۔  بے خوف اور کھلی تنقید کے بغیر خود جمہوریت کی  اپنی بقا  ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔  مگر تنقید کرنے والوں کو یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ تنقید برائے تنقید،  گالی گلوچ ،بے بنیاد الزام تراشی اور حقیقت پر منبی ایماندارانہ  تعمیری تنقید میں واضح فرق ہے، جس کا ملحوظ خاطر رکھنا بھی جمہوریت کی بقا اور فروغ کے لیے ضروری ہے۔

نیا پاکستان بنانےوالے آج کل دو امور پرمخالفین کی سخت تنقید کا شکا رہیں۔ ایک بڑا موضوع عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ موجودہ حکومت کا معاہدہ ہے۔   اس معاہدے پر سوال اٹھانے والے کئی لوگ ہیں۔  ان لوگوں کی رائے ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان کر موجودہ حکومت نے گویا ملک کو اس ادارے کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔  اب عملا پاکستان کے بڑے معاشی فیصلے کرنے کا اختیار حکومت یا تحریک انصاف کے پاس نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے پاس ہے۔  

 یہ رائے رکھنے والوں میں سب سے بلند آواز پیپلز پارٹی کے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو کی ہے، جسے وہ روایتی جوش و خروش سے بلند کرتے ہیں۔  ملک کے کچھ دانشور اورمعاشیات کے ماہر بھی اس سے ملتی جلتی رائے رکھتے ہیں۔  ان کی دلیل یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے گزشتہ سات دھائیوں کے دوران جس ملک کو بھی قرضہ دیا ہے وہ اپنی شرائظ پر دیا ہے۔  ان شرائط کا  بظاہر اور بیان کردہ مقصد قرض دار ملک کی معیشت کی بحالی ہوتی ہے۔ 

 اس مقصد کے لیے مالیاتی فنڈ کا اپنا ایک جانچ کا اصول یا کسوٹی ہے، جو اس کی ستر سالہ پالیسی اور اس کے  اپنے ماہرین کی آرا پر مشتمل ہے۔   چنانچہ یہ جس ملک کو قرضہ بھی دیتے ہیں اس ملک کے  کی معاشی صورت حال کو سنبھالنے، اور اسے مشکلات سے نکالنے کے لیے بہت سارے اقدامات اٹھانے کی  پیشگی شرائط رکھتے ہیں۔  ان شراط پر کسی قسم کے سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔  یہ شرائط ایک طرح سے حکم کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔  ان شرائط میں وقت و حالات کے مطابق تھوڑی بہت تبدیلی یا نرمی کی بات تو کی جاسکتی ہے، مگر یہ شرائط ماننے سے انکار کرنا اور پھر قرض لینا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔

   ان میں سے بہت سی شرائط ایسی ہوتی ہیں جو قرض لینے والی حکومت کی بنیادی معاشی پالیسیوں یا انتخابی منشور سے متصادم ہوتی ہیں۔  وہ ان وعدوں کی بھی خلاف ہو سکتی ہیں،  جو حکومتوں نے اپنے عوام سے کیے ہوتے ہیں۔  ان گوناگوں شرائط  میں سب سے اہم عام ٹیکس کی شرح میں اضافہ، اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، اور کرنسی کی قیمت میں کمی بہت عام ہیں۔  چونکہ ان چیزوں کا تعلق مالیاتی ادارے کے بنیادی اغراض و مقاصد سے ہوتا ہے، جن میں عالمی ادئیگیوں میں توازن پیدا کرنا، اور کرنسیوں میں استحکام شامل ہے، جس سے  بلاخر پوری عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

  ناقدین کا خیال ہے کہ جب کوئی حکومت اس طرح کی شرائط مانتی ہے تو با الفاظ دیگر وہ  اپنی معیشت کے بارے میں بنیادی فیصلہ  خودکرنے کے اختیار سے دستبردار ہو جاتی ہے، جس کا لازمی نتیجہ اپنی قومی خود مختاری پر سمجھوتا ہے؛ چنانچہ دنیا بھر میں تاریخی طور پر قومی خودمختاری کے بارے میں حساسیت رکھنے والی حکومتوں یا سیاسی پارٹیوں کا شروع سے آئی ایم ایف کے بارے میں یہ کھلا موقف رہا ہے کہ قومی خود مختاری پر سمجھوتا کیے بغیر اس مالیاتی ادارے سے کوئی سنجیدہ معاملات طے ہو ہی نہیں سکتے۔

 موجودہ حکومت نے طویل عرصہ تک پس و پیش سے کام لینے کے بعد جب بلاخر آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تو ناقدین نے اسے خود مختاری پر سمجھوتا قرار دیا۔   اس بات میں بہت وزن ہے۔  مگر اس تلخ حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا  کہ یہ کوئی پہلی حکومت نہیں ہے، جس نے کشکول اٹھایا ہے یا قرض لیا ہے۔  یہ رسم طویل مدت سے جاری ہے۔   اس میں اگر کوئِ استشنا ہے بھی تو بہت کم۔

 جہاں تک قرض لینے کی بات ہے تو دنیا میں  شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس نے کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی شکل میں قرض نہ لیا ہو۔   مگر ان ملکوں نے قرض لیکر تعمیر و ترقی اور معشیت کو مشکلات سے نکال کر  معاشی خوشحالی، آزادی اور خود مختاری کے راستے پر ڈالا۔  قرض کو حکومتی اہل کاروں، سرکاری افسروں یا سیاست کاروں کی عیاشی کے لیے نہیں استعمال کیا۔ سوال قرض لینا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس قرض کو کہاں اور کیسے استعمال کیا گیا۔   پاکستان میں اس قرض کق تعمیر و ترقی کے بجائے زاتی عیاشیوں اور کرپشن میں اڑایا گیا، یہ سوچے بغیر کے اس قرض کی واپسی کیسے ہو گی۔  بقول غالب

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں،  رنگ لاوے گی ہماری  فاقہ مستی اک دن

حکومت پر تنقید کا دوسرا بڑا نقطہ یہ رہا ہے کہ موجودہ حکمران پارٹی کے پاس ایسے اہل اور تربیت یافتہ افراد کا قحط ہے۔  یہی وجہ ہے کہ کلیدی عہدوں اور وزارتوں پر ایسے لوگ لیے گئے ہیں ، جن کا نہ صرف پارٹی کے نظریات اور جہدو جہد سے کوئی تعلق نہیں،  بلکہ یہ لوگ  اسے  سےپہلے کی  سول اور فوجی حکومتوں خصوصا پیپلز پارٹی اور مشرف حکومت میں اہم ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس معاملے کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تنقید کرنے والی پارٹیوں  نے بھی اپنے اپنے ادوار حکومت میں  باہر سے ان لوگوں کی خدمات مستعار لی تھیں۔  

پیپلز پارٹی نے اہم کلیدی عہدوں پر ایسے لوگوں کو تعینات کیا جن کا پیپلزپارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا، بلکہ وہ پارٹی کی بنیادی ائیڈیالوجی کے خلاف رہےہیں۔ یہ  پاکستان میں سیاسی کارکنوں اور سب سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ المیہ رہا ہے۔ بقول شاعر

 نیرنگی سیاست دوراں تودیکھیے         منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔

 جہاں تک عقل و فہم کو مستعار لینے کی بات ہے ، تو یہ پاکستان کی سب ہی پارٹیوں کا مشترکہ المیہ ہے۔  پارٹیوں کے اندر کارکنوں کی تربیت اور لکھائی پڑھائی کا کلچر ہی نہیں ہے ، سٹیڈی سرکل، سیمینارز، کانفرنسز کا کوئی رواج نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا پراوگرام ہو بھی جائے تو وہ  پارٹی لیڈروں کی رٹی رٹائی تقاریر اور رویتی مکالمہ بازی کا ارشاد مقرر ہی ہوتا ہے۔ کسی طرح کے سنجیدہ معاشی یا سیاسی مسائل پر بحث و مباحثہ نہیں ہوتا، جو بیشتر سیاسی پارٹیوں کی ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔

  اس کے برعکس اقتدار کے حصول لیے روایتی ہتھکنڈوں اور شاطرانہ چالوں پر توجہ مرکوز رکھی جاتی  ہے؛ چنانچہ جب  اقتدار منتقل ہوتا ہے  تو سب کو لگنے لگتا ہے کہ ان کی جیب میں تو سب کھوٹے سکے ہیں۔  ملک کے سنگین معاشی و سماجی مسائل کے حل کے لیے نہ تو کسی کے پاس مطلوبہ علم ہے اور نہ ہی تجربہ ہے۔   اس طرح فکری رہنمائی اور مہارت کے لیے پارٹی کی صفوں سے باہردیکھا جاتا ہے۔

  ہم دیکھتے ہیں  کہ کامیاب و ترقی یافتہ مغربی اور مشرقی ممالک  میں اقتدار میں آنے سے بہت پہلے متحرک سیاسی پارٹیوں کے اندر مختلف معاشی، سماجی، سفارتی اور عسکری شعبہ جات کے ماہرین ا بھر کر سامنے آ جاتےہیں۔  وہ اس وقت کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس پر مضامین اور کتابیں لکھتے ہیں۔    یہ تنقید بے معنی مکالمہ بازی یا تنقید برائے تنقید نہین ہوتی، بلکہ اعداد و شمار اور حقائق پر مبنی ایک تفصیلی اور تحقیقی کام ہوتا ہے، جسے سامنے رکھ کر عوام موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور آنے والی حکومت کی پالیسیوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔

 ہمارے ہاں ظاہر ہے یہ رواج نہیں ہے۔  اس رواج و کلچر کی عدم موجودگی میں صرف قرض ہی نہیں عقل و خرد بھی مستعار لیکر گزارا کرنے کی یہ ریت  ختم نہیں ہو گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *