دراڑ

حبیب شیخ

تم پیچھے کیوں ہٹ گیئں؟

یہ کیسا مذاق ہے میرے ساتھ ! میں اتنی بد شکل تو نہیں ہوں۔

یہ مذاق نہیں ہے۔ بلکہ سچ ہے تم واقعی بہت بدشکل ہو۔

راتوں رات مجھ میں کیا تبدیلی آگئی ہے ؟ میں ایسی تو نہیں ہوں جیسا تم مجھے بتا رہے ہو ۔ مانا کہ میں خوبصورت نہیں ہوں لیکن ذرا میک اپ کرنے کے بعد چہرہ پر پوڈر، کریم اور ہونٹوں پر لالی لگانے سےمیں اچھی لگتی ہوں ۔ اور میری چال میں بھی کتنی خود اعتمادی آجاتی ہے۔ جوان لڑکے بھی بات چیت شروع کرنے سے پہلے ذرا ہچ کچاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔ تویہ بکواس بند کراور صرف وہی کام کر جو تیری زندگی کا مقصد ہے۔

تم غور سے خود کو دیکھو۔ تمہیں خود ہی پتا چل جائے گا۔

تویہ کیا بکواس کر رہا ہے؟ تیری اوقات کیا ہے! کل میں نے آدھا دن پارلر میں گزارا ہے۔ ہر طرح کی زینت سے اپنے جسم کو نوازا۔ ہاتھوں کے ناخنوں سے لے کر پیروں کے تلووں تک، بال ، چہرہ ، ہاتھ اورگردن کے سب داغ دھبوں سے جسم کو صاف کیا تاکہ میں خوبصورت لگوں ۔ لباس میں موجودہ فیشن کا بھی خیال رکھا ہے اور میں اپنے کیرئیر میں بھی کامیاب ہوں۔ کیا کمی ہے مجھ میں ؟ میری ایک شناخت ہے ۔ میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں ۔ ہر لڑکی وہ ہونا چاہتی ہے جو میں ہوں ۔ میں اس معاشرے کے بڑے لوگوں میں اٹھتی بیٹھتی ہوں ۔

پہلے یہ بتا ؤ ، کل تم نے کوئی نیک کام کیا ہے۔

ہاں میں نے فجر اور مغرب کی نماز یں بھی ادا کی ہیں ۔ اور پھر فجر کی نماز کے بعد قران پاک کی تلاوت بھی کی تھی ۔

حیرت ہے تم خدا کی عبادت بھی کرتی ہو!”

ہاں تو میں کس کے لئے نماز پڑھتی ہوں!”

یہی تو تمہارا جھوٹ ہے۔ تم صرف اپنی انا کی پرستش کرتی ہو۔ دوسروں کو دکھانے اور متاثر کرنے کی غرض سے ۔ اس انا کے ساتھ خدا کی پرستش ممکن نہیں ہے۔ اور یہی حال تیرے منگیتر کا ہے ۔ وہ بھی تیری عادت و خصلت کا مالک ہے۔ جب کبھی بھی میرے سامنے آیا تو اس سے یہ ہی ظاہر ہوا۔

اب تو انتہائی بد تمیزی پر اتر آیا ہے۔ تو بد اخلاقی کی تمام حدود سے باہر آگیا ہے۔

تم ایک بار اپنے ضمیر کو آواز دو۔ خدا کی قسم تمہیں بھی وہی نظر آئے گا جو مجھے دکھائی دیتا ہے۔ روز تم دن میں کئی بار اپنے جسم اور اپنے لباس کو دیکھ کر خوش ہوتی ہو لیکن آج میں تم کو تمہاری حقیقت بتا رہاہوں ۔

کیا تجھے اس کی خبر نہیں کہ میں خوب سیرت بھی ہوں ۔ مجھ میں بھی انسانی جذبات موجود ہیں ۔ میں رضاکارانہ کام کر کے لوگوں کی مدد کرتی ہوں ۔ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ گناہ گار کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں نیکی کی رمق پائی جاتی ہے۔

تم جو خدمت خلق کرتی ہو وہ بھی محض اپنی انا کی تسکین اور بڑائی کے لئے کرتی ہو۔

خاموش۔ خدا کے لیے تو چُپ ہو جا۔ تو نیچ ذات ، تجھے جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

یہ کہتے ہوئے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور غصہ میں اُس نے قریب پڑا ہؤا پانی کا گلاس زور سے آیئنے پر دے مارا جس سے اس میں کئی دراڑیں پیدا ہوگیٔں ۔

آہ! تم نے مجھے مجروح کر دیا۔ اب اپنی طرف دیکھو، شاید تمہیں حقیقت نظر آجائے۔

وہ آگے بڑھ کر خود کو آیئنےمیں دیکھتی ہے اور گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ اس کو اپنی ذات میں وہی دراڑ یں دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ آئینے میں پڑ گیئں تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *