جامعہ ملیہ دہلی مسلم انتہا پسندوں کے قبضے میں

پچھلے دنوں جامعہ ملیہ دہلی میں مسلمان لڑکوں کے ایک گروپ نے جامعہ میں ہونے والے فیشن شو کو منعقد ہونے سے روک دیا۔ یہی عمل اگر بی جے پی کرتے تو پورے انڈیا کے انگریزی پریس میں اس انتہا پسندی کا چرچا ہوتا۔ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں اور لیفٹ میں شاید کوئی فطری اتحاد ہے۔


اپوروانند 

خبر پڑھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی فیکلٹی کے طالبعلموں کی طرف سے ہونے والے فیشن شو ‘طرز لباس‘ کو کچھ طالبعلموں کے دباؤ کی وجہ سے رد کرنا پڑا۔ یہ کوئی بہت بڑی جماعت  نہیں  تھی، تقریباً درجن بھر نوجوان رہے ہوں‌گے، جنہوں نے کہا کہ وہ جامعہ کی تہذیب کے محافظ ہیں اور جن کی دھمکی کی  وجہ سے  پروگرام کو ملتوی کر دیا گیا۔یہ طالبعلم اس پروگرام کو جامعہ کی تہذیب کے خلاف بتا رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ یہ فحش ہے اور اس سے ماحول خراب  ہوتا ہے۔

اوکھلا ٹائمز’ویب سائٹ میں اپنی جیت والی  مہم کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے ایک مخالف نے کہا کہ یہ گناہ تھا اور وہ یہ نہیں ہونے دے سکتے تھے۔ ان کے مطابق، کنوینر طالبعلموں میں سے ایک نے کہا کہ اگر یہ گناہ بھی ہے تو ان کے اور اللہ کے درمیان کا مسئلہ ہے۔حالانکہ تہذیب کے محافظ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے اوپر تقدس کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ہونے نہیں دے سکتے۔

پروگرام کی مخالفت جامعہ کی تہذیب کی حفاظت کے نام پر کی جا رہی تھی۔ مخالفت کرنے والوں نے اوروں  کو بھی غیرت کا حوالہ دےکر ساتھ آنے اور پروگرام کی مخالفت کے لیے کہا تھا لیکن ان کی تعداد میں اضافہ  نہیں ہوا، حالانکہ یہ ڈر تو تھا ہی کہ وہ تشدد کر سکتے ہیں۔ایک کنوینر کے مطابق، ان کو انعقاد کی پچھلی رات دھمکی بھرا فون بھی آیا۔ طالبعلموں میں سے ایک کے مطابق، انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایک بھی لڑکی ریمپ پر چلی تو پتھر پھینکے جائیں‌گے۔ان کو سمجھانےبجھانے کی کوشش طالبعلموں اور اساتذہ نے بھی کی لیکن وہ اڑے رہے۔

یہ بھی خبر ہے کہ فیشن شو کے ساتھ تاش کے کھیل’ حسینوں کا کیسینو’کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔توڑپھوڑ اور تشدد کے ڈر کی وجہ سے ہی دونوں ہی پروگرام رد کر دئے گئے۔ اس طرح اسلامی تہذیب کی فتح ہوئی!مخالفت کرنے والوں کو تشدد کی براہ راست یا بلاواسطہ دھمکی دینے کا حق نہیں ہے۔ یہ واضح  طور پر جرم ہے۔ اگر اس طرح سے انہوں نے جیت حاصل کی ہے تو اس جیت کے بارے میں ان کو سوچنا چاہیے۔

خبر چھوٹی ہے، مخالفت کرنے والے بھی کم تھے لیکن کنوینرکو شرم اور بے عزتی اٹھانی پڑی۔اس پروگرام میں باہر کے کالج بھی حصہ لینے والے تھے جن سے ان کو معافی مانگنی پڑی۔ اس کی کوئی بھرپائی نہیں ہے۔

اس واقعہ کو کیا چند لوگوں کی ناسمجھی کہہ‌کر ٹال دیا جائے؟ حالانکہ وہ خود دوسروں کو ہی نادان سمجھ‌کر اسلامی تہذیب کے محافظ کی ذمہ داری کے احساس سے بھرے ہیں، سو خود کو ناسمجھ کہا جانا، ان کو ناگوار گزرے‌گا۔ہم یہ سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ کیوں جامعہ کا انتظامیہ پروگرام کو محفوظ طریقے سے ہونے دینے کی گارنٹی نہیں دے  سکا؟پھر مجھے کچھ سال پہلے اسی طرح ایک طلبہ تنظیم کے مٹھی بھر طالبعلموں کی پتھربازی کی وجہ سے شاعر اوردانشور اے کے رامانجن کے مضمون’ تین سو رامائن ‘ کو نصاب سے باہر کر دینے کی دہلی یونیورسٹی کا فیصلہ یاد آیا۔ اس وقت بھی کوئی بھاری مخالفت نہیں  تھی اس مضمون کو لے کر، لیکن انتظامیہ ڈر گیا۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا یہ انتظامیہ کا ڈر محض ہے یا اس سے آگے بھی کچھ ہے؟ وہ یونیورسٹی کے لئے ضروری سیکولر اقدار سے ہی اتنی وابستگی محسوس نہیں کرتی۔اس لئے اس کے لئے وہ کبھی زیادہ محنت بھی نہیں کرتی۔ ورنہ طالبعلموں یا اساتذہ کے دوسرے سوالوں پر تحریک سے وہ جس سختی سے نپٹتا ہے، وہ سختی ایسے مواقع پر کہاں غائب ہو جاتی ہے؟لیکن اس کے بعد اس پروگرام کی مخالفت کے سیاق و سباق میں سب سے پہلے تو یہ کہنا چاہیے ہی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تہذیب کسی ایک مذہب کے اصولوں سے طے نہیں ہوتی۔

جو بھی اس کی تاریخ سے واقف ہے، وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ جامعہ کی تاسیس اسلام کی تعلیم یا اس کی تشہیرو توسیع کے لئے نہیں کی گئی تھی۔اس سے بھی آگے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کہ تہذیب اور مذہب میں رشتہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہیں۔اس لئے کسی ایک ہندو تہذیب یا اسلامی تہذیب کی بات بےتکی ہے۔

ایک تہذیب میں کئی مذہبوں کی شمولیت ہوتی ہے۔تہذیب کی وضاحتیں ہو سکتی ہیں لیکن ایک وضاحت خود کو دوسری سے اہم بتاکر محض ایک ہونے کا دعویٰ نہیں پیش کر سکتی۔ تہذیبوں کا مخلوط ہونا اور اپنے لمبے سفر میں الگ الگ مادوں کے مسلسل مرکب کی وجہ سے غیر واضح ہونا ضروری ہے۔

اکثر مذہب، تہذیب اورثقافت کے درمیان گھال میل کر دیا جاتا ہے۔ یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا مذہب کی بھی ایک ہی وضاحت ہے؟ کیا اسلام میں ہی الگ الگ وضاحتوں کی  روایت نہیں رہی ہے؟لیکن یہ صاف کر دیا جانا چاہیے کہ جامعہ کی ہر سرگرمی کو اسلام کے نظریے سے ہی نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ وہ یونیورسٹی ہے، اسلام کی تشہیر کا مرکز نہیں۔ اس وجہ سے وہاں ہر چیز کو لےکر الگ الگ نظریہ ہوگا، الگ الگ وضاحت بھی۔ جامعہ کا نقطہ نظر اسلام نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے۔

اسلام میں کیا جائز ہے، کیا نہیں، یہ ایک بحث ہے لیکن وہ جامعہ کی کئی بحثوں میں سے ایک ہوگی، وہ سب سے شروعاتی نہیں ہوگی۔ جامعہ، اگر وہ یونیورسٹی ہے تو وہ اسلام کو بھی مطالعہ اور ریسرچ کا موضوع ہی بنا سکتا ہے یعنی اس کی وضاحتوں کے مسائل پر وہاں غوروخوض ہو سکتا ہے۔جامعہ اسلام کا مبلغ یا محافظ نہیں۔ اس سے زیادہ کوئی بھی جگہ اس کی ہوگی تو وہ، جیسا پہلے کہا، یونیورسٹی ہونے کا دعویٰ کھو بیٹھے‌گا۔ اس کے علاوہ جامعہ صرف مسلمانوں کا ادارہ نہیں ہے۔ وہاں کئی مذہبوں کے لوگ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔ پھر اسلام وہاں کی زندگی کا ہدایت کار بھی نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر تہذیب کی حفاظت کے پیچھے عریانیت، فحاشی کی مخالفت کی دلیل دی جاتی ہے۔ اس کا شکارسب سے زیادہ خواتین ہوتی  ہیں۔تہذیب کے محافظ صرف مرد ہی ہو سکتے ہیں اور وہ خواتین کو پابند کرنے اور نظم و ضبط کرنے کا حق خدا سے ملا مانتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں کہ جامعہ کی مخالفت بھی انہی دلیلوں کی آڑ لے رہی تھی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ابھی ہندتووادی حملہ جھیل رہے ہیں۔ وہ ان کے  مسلم پہچان کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ اس کی پوری مخالفت ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دونوں یونیورسٹی اس بہانے محدود ذہنیت  کے غلام  بن جائیں، جس کو اسلام کی حفاظت جیسے عظیم فرض کے پردے میں جائز ٹھہرایا جائے۔

(مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔)

بشکریہ: http://thewireurdu.com/58003/fashion-show-at-delhi-jamia-millia-islamia-education-protest-islam/?fbclid=IwAR1s__Q66HoynWoJZUtyoWesFqOKWr7GgRKNywNAnqV5ZOdgWy8O4gNvu0g

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *