عمران خان اور سٹیٹس کو

لیاقت علی

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سٹیٹس کو کو توڑے بغیر تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان کی تشخیص سو فی صد درست ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک سٹیٹس کو قائم رکھنے والی قوتیں کون سی ہیں؟ وہ کون سے طبقات اور ادارے ہیں جن کے بارے میں وزیراعظم یہ سمجھتےہیں کہ ان کو پیچھے دھکیلے بغیر کوئی بامعنی بنیادی سماجی تبدیلی کا حصول ناممکن ہے؟۔

وزیر اعظم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عمومی بیان بازی بہت کرتے ہیں وہ کرپشن کرپشن تو بہت کرتے ہیں لیکن کرپشن متعین معنوں میں ان کے نزدیک کیا ہے اس بارے میں انھوں نے کبھی اظہار خیال نہیں کیا۔کیا ریاستی اداروں میں نااہل افراد کو سیاسی دباو کے تحت مقرر کرنا کرپشن ہے یا نہیں اس بارے وہ خاموش ہیں کیونکہ ایسے کام وہ خود آئےدن کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں سٹیٹس کے دو بڑے نشان ہیں ایک جاگیرداری اوردوسری اس کی محافظ افواج پاکستان جو خود بہت بڑی فیوڈل ہے۔ کیا وزیر اعظم سٹیٹس کو کے ان دو نشانات کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں؟

وزیراعظم کے آج تک کے سیاسی کیرئیر پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طورسٹیٹس کو کے ان دونوں نشانات کی حمایت اور تعاون کی بدولت ہی ملک کے وزیراعظم بن پائے ہیں ہیں۔ ان کے دائیں بائیں جو سیاسی افراد اور ادارے موجود ہیں وہ سیاسی و سماجی سٹیٹس کےحمایتی اورحامی ہیں۔

سندھ میں جاگیرداری اپنی سب سے زیادہ بھیانک شکل میں موجود ہے اور وہاں وزیراعظم کا حمایتی سیاسی اتحاد جی۔ڈے۔اے جاگیر داروں کا جمگٹھا ہے۔ جی ڈی اے اور وزیر اعظم کی سیاسی ٹیم کی موجود گی میں کوئی بے وقوف ہی سوچ سکتا ہے کہ وزیراعظم سٹیٹس کو ختم کرنے کے خواہاں اور اس بارے میں سنجیدہ کوششیں کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

سٹیٹس کو کی دوسری اہم قوت پاکستان فوج ہے جس کے زیر قبضہ زرعی زمین جاگیرداروں کی ملکیتی زمینوں سے بھی زیادہ ہے۔ بڑے بڑے جنرلز چھوٹے موٹے جاگیردار ہیں۔ فوج نے معیشت کے بڑے بڑے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور اس کے زیر انتظام اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد ہزاروں میں ہےلیکن یہ مزدور ہر قسم کے لیبر رائٹس سے محروم ہیں اور ان کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

فوج کی سرمایہ کاری کا بڑا شعبہ رئیل اسٹیٹ ہے۔ اس حوالے سے چھوٹے مالک کسانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے قصے زبان زد عام ہیں۔۔یہ فوج کے مفاد میں نہیں ہے کہ جاگیرداری ختم ہوکیونکہ اگرایسا ہوتا ہے تو ریٹائرمنٹ کے بعد جنرلز کو زرعی زمین ملنے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔

اس لئے فوج ہر قیمت پر جاگیرداری کے خاتمے کی مزاحمت اور مخالفت کرتی ہے۔ اگر وزیراعظم سٹیٹس کو ختم کرنا چاہتےہیں تو انھیں جاگیرداری اور اس کی محافظ فوج کو معاشی اور سماجی میدان سے پیچھےہٹا نے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ یہ کچھ کئے بغیران کی سٹیٹس کو کےخاتمہ کی خواہش نعرہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہے

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    ستر برسوں سے ہمارے سیاستدان کھوکلے نعروں اورسلوگن ازم پہ خود کو بھی اورعوام کو بھی الو بناتےچلے آرہےہیں۔ ان کو سیاسی بلوغت یا عمومی شعور چھوکر بھی نہیں گیا ۔ بولتے وقت جانتے ہی نہیں کہ کہہ کیا رہے ہیں اور مطلب کیا ہےاورکرنا کیا ہے۔ان پراپنا ٹائم ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔اب تو ملک اس حالت کوپہنچ چکا ہے کہ سٹیٹس کو بھی رہ جائے تو بڑی غنیمت ہے۔ ورنہ بلیک ہول بڑی تیزی سے قریب آتا جا رہا ہے۔یہ قوم خود اپنے ہی خنجر سے خود کشی کر لے گی۔جس ملک میں مسافروں کو بسوں سے اتار اتارکر گولی ماری جارہی ہو، اقلیتوں کی مسلسل نسل کشی کا عمل منظم طریق سے جاری و ساری ہو اور وزیراعظم کسی خیالی تبدیلی کے نشے میں چُور کابینہ سمیت “مدینہ مدینہ ریاست مدینہ” کا راگ الاپ رہا ہو ،ملک نہیں اندھیرنگری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *