جسینڈا کی تعریف کرنے والے مذہبی انتہا پسند ہیں

بیرسٹر حمید باشانی

نیوزی لینڈ کے واقعے کے کئی پہلو ہیں۔ اس میں سب کے لیے کوئی نہ کوئی سبق ہے۔ جو جس نظر سے چاہے اس واقعہ کو دیکھ سکتا ہے، اپنی مرضی کا سبق سیکھ سکتا ہے۔ اس طوفانی واقعے کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ جذبات میں اٹھنے ولا طلاطم کچھ کم ہوا ہے، مگر انسانی جانوں کا ماتم ابھی ختم نہیں ہوا۔ آنے والے کئی ماہ و سال اس پر افسوس ہوتا رہے گا۔ واقعے پر جو رد عمل ہوا ہے، وہ بیک وقت حیرت انگیز، قابل رشک قابل غور ہے۔ 

پاکستان میں اس پر ایک طرح کا نہیں، بلکہ مختلف و متضاد رد عمل ہوا ہے، جو پاکستانی سماج میں فکری اعتبار سے گہری تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ البتہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے کردار کو سب نے سراہا ہے ، جس کی مختلف اور متضاد وجوہات ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس واقعے سے مغرب کے اندر بڑے پیمانے پر گڈ ول یعنی خیر خواہی اور نیک جذبات کو فروغ ملا ہے۔ مغرب کو احساس ہوا ہے کہ اگر مسلمانوں کی صفوں میں کچھ خون خوار لوگ چھپے بیٹھے ہیں، تو ایسے لوگ خود مغرب میں بھی موجود ہیں۔ اچھے برے لوگ ہر مذہب و معاشرے میں ہوتے ہیں۔ یہ اگرچہ ایک پرانی اور تسلیم شدہ حقیقت ہے ، مگر اس عمل کے بعد اس حقیقت کو تقویت ملی ہے۔

نیوزی لینڈ کی لیڈر شپ اور دیگر خواتین نے جو دوپٹے، حجاب و نقاب پہن کر مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ مغرب میں عام طور پر حجاب اور خصوصا نقاب ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے۔ اس طرح کے لباس کے ساتھ بہت ساری سوچیں اور خیالات منسوب کر دئیے گئے۔ 

ان میں سے ایک خیال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں یہ نقاب و حجاب کسی مذہبی علامت کے بجائے مغربی سماج کے خلاف ایک سیاسی بیان کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ مغربی سماج فحاشی و عریانی کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے یہ بے راروی میں مبتلا ہے۔ چنانچہ کچھ لوگ برقعے یا نقاب کو ایک مذہبی ضرورت کے بجائے اپنی اخلاقی برتری اور پاکیزگی کی علامت کے طور دکھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 

مغرب میں یہ بھی عام خیال یہ ہے کہ بازاروں اور سڑکوں پر برقعے اور نقاب پہن کر روزمرہ کے کاموں کی لیے نکلنے والی خواتین کی اکثریت اپنی مرضی سے ایسا نہیں کرتیں، بلکہ انہیں یہ لباس پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی خواتین برقعہ و نقاب اپنی آزادانہ مرضی سے نہیں پہنتی ، بلکہ ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے، جس کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں مرد کی مرضی کارفرما ہے، جو غالب حیثیت کا حامل ہے۔ خواہ یہ مرد کوئی مذہبی پیشوا ہو، بھائی ہو ، بیٹا ہو، شوہر یا پھرباپ ہو۔ اس لیے برقعہ، حجاب و نقاب پہننے والی خواتین کو مظلوم اور مظلومیت کا شکار سمجھا جاتا ہے۔

چنانچہ نیوزی لینڈ کے رد عمل سے مغرب میں عام آدمی کو یہ پیغام جائے گا کہ ایسا لباس کچھ مسلمانوں کی طرز زندگی و ثقافت کا حصہ ہے، اور اس کے پیچھے کوئی جبر یا خفیہ ایجنڈا نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ خواتین مرد کی وجہ سے نقاب یا حجاب پہننے پر مجبور ہوں، مگر ایسی خواتین کی بھی موجود ہیں ، جو یہی کام اپنی مرضی سے کرتیں ہیں۔

مغرب میں غلط طورپر داڑھی، برقعہ، یا نقاب کو دہشت گردی یا عسکریت پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد عام طور پر مغربی ذرائع ابلاغ پر دہشت گردوں یا عسکریت پسندوں کی جو تصاویر آئی ہیں، وہ زیادہ تر داڑھی ، برقعہ یا نقاب میں ہیں۔ نیوزی لینڈ کے رد عمل سے یہ غلط تاثر ٹوٹے گا۔ اور یہ بات وضح کرنے میں مدد ملے گی کہ ہر داڑھی ولا، نقاب پوش یا برقعہ پوش دہشت گرد یا ان کا ہمدرد نہیں ہوتا۔ 

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے پہلی بار مغرب کے حکمرانوں میں اس مسئلے پر واضح اختلاف رائے سامنے آیا ہے۔ اور اس حوالے سے تقسیم واضح ہوئی ہے۔ ایک طرف ٹرمپ اور اس جیسی سوچ کے حامل مغربی لیڈر ہیں، جنہوں نے اس واقعے کی واضح مذمت کرنے یا مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی سے گریز کیا۔ اور دوسری طرف نیوزی لینڈ کی خاتون رہنما جیسے لوگ بھی سامنے آئے ، جنہوں نے کھل کر مسلمانوں کی حمایت کی۔ 

وزیر اعظم نے بحران کے دوران ایک مخصوص کردار دا کیا جو ہر رہنما پر لازم ہے۔ ہر رہنما پر لازم ہے کہ وہ ایسے قومی بحران کے دوران تعصبات سے اوپر اٹھ کر اپناکردار دا کرے۔ یہ ہر مہذب ریاست کی بنیادی اور آئینی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے درمیان مذہب، نظریات یا نسلی امتیاز کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ 

میرے ایک دانشور دوست ہیں ، جو پاکستانی اخبارات کے ادارتی صفحات میں گہری دلچسبی رکھتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے قریب قریب ہر اداریہ اور کالم پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کے واقعے کا رد عمل لگے بندھے راستوں سے ہٹ کر تھا۔ جو کالم نگار مغرب کی ہر بات کو تنقیدی انداز یا شک کی نگاہ سے دیکھنے کی پختہ عادت کا شکار ہیں۔ ایسے لوگ بھی اب کی بارکچھ بدلے بدلے سے ہیں۔ دائیں بازوں کے کئی سکہ بند قلم کاروں نے بھی نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی تعریف و توصیف بہت اعلی قسم کے کالم و مضامین لکھے ہیں، جو ان کی عام روایت اور ڈگر سے ذرا ہٹ کر ہے۔ 

موصوف نے سوال کیا کہ کیا یہ قلم کار جیسنڈا کے نظریات ، خیالات اور طرز زندگی سے واقف ہیں ؟ ان کا خیال تھا کہ چند ایک سنئیر ترین کالم نویس شائد بہت زیادہ روایتی میڈیا پر تکیہ کرتے ہیں۔ اس میں شائد صرف ٹیلی ویثرن ، اخبارات اور کتابیں شامل ہیں۔ ان ذرائع سے جیسنڈا کی شخصیت اور خیالات سے پوری طرح آگاہی ممکن نہیں ہے۔ عام دھارے کے میڈیا نے ان کی شخصیت کے صرف وہ پہلو دیکھائے ہیں، جو پاکستان میں قدامت پرست لوگ دیکھنا چاہتے تھے۔

موصوف کا کہنا تھاکہ جیسنڈا کے خیالات ونظریات کا سب سے نمایاں ترین پہلو یہ ہے کہ وہ ایک غیر متزلزل قسم کی سوشلسٹ ہے۔ اس کی سیاست کی بنیاد ہی اس کے سوشلسٹ خیالات و نظریات ہیں۔ اس کی کامیابیوں کی پہلی سیڑھی ہی اس کا سوشلسٹ انٹرنیشل یوتھ کا قائد منتخب ہونا تھا۔ اس حیثیت میں اس نے دنیا کے کئی مسلمان ممالک کا سفر کیا۔ ان مسائل و معاملات کا برا ہ راست تجربہ ، مشاہدہ و مطالعہ کیا ، جو بیشتر مغربی رہنما دور سے کرتے ہیں۔

مغرب کی سیاست میں اسے ایک ریڈیکل رہنما سمجھا جاتا ہے، جس نے چرچ سے اس لیے قطع ؑ تعلق کر لیا تھا کہ چرچ کی تعلیمات اس کے نظریات سے متصادم تھیں۔ اس نے مغرب میں ہم جنس پرستی اور ہم جنس شادیوں کی کھل کر حمایت کی۔ اسقاط حمل کے حق پر اس نے دوٹوک موقف اختیار کیا۔ گویا اس کے نظریات اور عملی سیاست ان مسائل پر استوار ہے جس سے اکثر دائیں بازوں کے قدامت پرست مزہبی پیشوا اتفاق نہیں کرتے۔

مگر ان سارے متضاد خیالات اور نظریات کے باوجود ان لوگوں نے اس کی کھل کرتعریف کی ، جبکہ خود پاکستان میں ان نظریات کے حامل لوگوں سے وہ کھلے عام نفرت اور عدم روادی کا سلوک کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ عام دھارے کے معتدل مزاج لوگوں کو بھی کافر اور ایجنٹ قرار دینے سے نہیں چونکتے۔ 

جیسنڈا کی تعریف وہ وہ لوگ آگے آگے تھے ، جو عموما پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی رواداری، انسانی مساوات اور سماجی انصاف کے مسائل پر سخت قسم کی تنگ نظری اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے خلاف طاقت و جبر کے استعمال پرپر اسرار خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

مگر اگر انہوں نے جیسنڈا کے خیالات، نظریات اور شخصیت سے واقفیت کے باوجود اس کو عظمت کی بلندیوں پر بٹھایا ہے، تو یہ ایک نیک شگون اور قابل تعریف عمل ہے۔ اس سے پاکستان میں اقلیتوں کے باب میں ان کے روئیے میں مثبت تبدیلی کی امید پیدا ہوتی ہے۔ اور شاید یہ ان کو یاد کرانے کا اچھاموقع ہے کہ ملک کے اندر بھی اقلیتوں اور دوسرے کم خوش نصیب طبقات کو ان کی رحم دلی اور کرم نوازی کی اشد ضرورت ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *