ویران صحرا میں زندگی کیا ہے۔

بیرسٹر حمید باشانی

جن لوگوں کو اپنی تاریخ، اپنی بنیاداور ثقافت کا علم نہیں ، وہ ان درختوں کی طرح ہیں، جن کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ یہ بات مشہور سیاہ فام دانشور و صحافی ماکوس گروی نے کہی تھی۔ اپنی تاریخ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں ؟ اور اپنی اصل، بنیاد اور جڑوں کے بارے میں ہمارا علم کتنا ہے؟ اور اپنی بنیاد سے ہم کتنے جڑے ہیں، ایک سنجیدہ اور تکلیف دہ موضوع ہے، جس پر کالم نہیں، کئی کتب کی ضرورت ہے۔ 

ثقافت کیا ہے ؟ ثقافت کی کوئی ایک تعریف نہیں، بلکہ ہر مستند لغت میں اس کی دو یا دو سے زائد تعریفیں ہیں۔ عام زندگی میں بھی لوگ ثقافت کی اصطلاح کو کئی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اور کئی طریقوں سے اس کی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ پڑھے لکھے حلقوں میں ایک نسبتا تسلیم شدہ تعریف مگر یہ ہے کہ کسی انسانی گروہ کی سماجی و معاشی تشکیل، عقائد اور مادی خصوصیات کو ثقافت کہتے ہیں۔

ثقافت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک مادی ثقافت اور دوسری غیر مادی ثقافت۔ مادی ثقافت سے مراد انسان کا رہن سہن، طرز بودوباش، کھانا پینا اور دوسری مادی سرگرمیاں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر لوگ گھر کیسے بناتے ہیں، عبادت گائیں اور دوسری عمارتیں کیسے تعمیر کرتے ہیں، لباس کس طرح کا پہنتے ہیں، یہ سب چیزیں مادی ثقافت کی عکاس ہوتی ہیں۔

غیر مادی کلچر یعنی ثقافت میں انسان کے خیالات، عقائد، مذاہب اور روایات وغیرہ شامل ہیں۔ عموما ایک قوم، قبیلے یا انسانی گروہ کا کلچر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ اصولی طور پر تسلیم شدہ بات ہے، مگر بیسویں اور اکیسویں صدی میں سانئس اور ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی نے دنیا کو مادی اور غیر مادی طور پر ایک دوسرے کے بہت ہی نزدیک کر دیا۔ جدید زرائع آمد رفت کی وجہ سے مادی فاصلے مٹ گئے ہیں۔ آزادانہ تجارت کی بدولت کھانا پینا، کپڑے، مشینیں، اوزار اور ضروریات زندگی کی دوسری زیر استعمال چیزیں ساری دنیا میں تقریبا ایک جیسی ہیں۔

اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا میں انقلاب اور کھلے پن نے دنیا کو بہت قریب کر دیا۔ عملی طور پر دنیا کی شہری آبادیاں ثقافتی طور پر بہت قریب ہو گئی ہیں۔ اب دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں طرز تعمیر، آمد ورفت کے زرائع، حتی کے کھانا پینے میں مماثلت آتی جا رہی ہے۔ اور ظاہر ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فاصلےمزید سمٹتے جا رہے ہیں۔

اس شراکت داری اور مماثلت کے باوجود ہر انسانی گروہ کی کچھ کلچرل حاصلات یا ایسی ثقافتی روایات اور عوامل ہیں ، جو اس کو دوسری ثقافت سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان چند ایک عناصر کا عکس اس سماج کی ثقافتی سر گرگرمیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں فلم اور تھیٹر نمایاں ہیں۔ فلم و تھیٹرمیں گاہے کسی ملک کے مقامی گروہ قبائل اور علاقوں کے منفرد کلچر کے عکس دیکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ فلم و تھیٹر آپ کو اپنی ثقافت سے جوڑے رکھنے کا ایک زریعہ ہے۔

پاکستان میں نئے پاکستان کی بات کرنے والوں نے اب تک کوئی نئی بات کی ہو یا نہ، مگر پاکستان میں فلم اور سینما گھروں کے حوالے سے اپنی پالیسی میں جو تبدیلی لانے کی بات ہے کی وہ نئی ہے۔اور یہ بات ان کو ماضی کی تمام حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے، بشرطیکہ یہ بات حسب روایت محض بات ہی نہ رہ جائے اور اس پر عمل بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کہ وہ ملک کی فلم پالیسی میں تبدیلی لائیں گے اور سنیما گھروں کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار سے زائد کر دیں گے۔

پاکستان کی ثقافتی تاریخ اور فلم پالیسی کی تاریخ پر ایک نظر نئی پالیسی کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔ ثقافتی اعتبار سے پاکستان کے ابتدائی ادوار فلم وکلچرکے لیے سازگار تھے، جب پاکستان پر ابھی قائد اعظم کی شخصیت کے اثرات باقی تھے، اور یہاں کے پالسیے ساز ابھی خوف اور وسوسوں کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ لہذاشروع دنوں میں انگریزی اور ہندی فلمیں بھی آزادی سے چلتی تھیں۔ اور خود پاکستانی فلم سازوں کو بھی سنسر کے بے رحم کلہاڑے کا خوف نہیں تھا۔ وہ انگریزی اور ہندی فلموں کے کھلے مقابلے کے لیے اعتماد سے کھڑے تھے۔ اور اس وقت کے مطابق میعاری فلمیں بنا رہے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صورت حال بدلتی گئی۔

ذولفقار علی بھٹو کے دور میں اس محاز پر نئی امیدیں جاگیں تھیں۔ بھٹو کی کلچرل منسٹری میں بڑے روشن خیال اور ترقی پسند دانشور تھے۔ کچھ عرصہ فیض صاحب جیسی ہستیوں کی بھی مشاورت شامل رہی تھی۔ چنانچہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں ایسی فلم سازی ہو گی ، جن کو کسی عالمی مقابلے میں رکھا جائے گا۔ مگر یہ امیدیں لا حاصل ثابت ہوئیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری پر شروع دن سے ایک مخصوص ذہانت اور صلاحیت کے حامل لوگوں کا قبضہ تھا۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کویا نئی سوچ کو اس صنعت میں پاوں رکھنے نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ یہاں پر ایک ہی کہانی جو سال انیس سنتالس میں لکھی گئی تھی، اسی کو تھوڑے رد وبدل کے بعد بار بار توڑ موڑ پیش کیا جاتا رہا۔ جس میں صرف گنڈاسے کا سائز یا لڑکی کو زبردستی اٹھا لے جانے کا طریقہ بدلتا رہا۔

اس باب میں ہمارے ایک بزرگ دوست ، دانشور اور صحافی حمید اختر یہ قصہ سنایا کرتے تھے کہ فلمی صنعت کی یہ مخدوش صورت حال دیکھ کر انہوں نے خود میدان میںآنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فلم بنائی جس کے مکالمے خود انہوں نے اور نغمے فیض صاحب نے لکھے۔ فلم ریلز ہونے سے پہلے ہی مارکیٹ میں خبر پھیل گئی کے کچھ پڑھے لکھے لوگ آگئے ہیں، جو فلم انڈسٹری پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات پھیلتے ہی ہمارے خلاف ایک اتنی مضبوط لابی بن گئی کہ ہمیں اپنی فلم کی نمائش کے لیے تھیٹر ہی نہ مل سکا۔ وہ فلم اب تک ڈبے میں بند ہے۔ 

فلم انڈسٹری پر ان پڑھ لوگوں کا قبضہ ہی کوئی کم مصیبت نہ تھی کہ بعد ازاں ضیاالحق کی پالیسیاں فلم انڈسٹری پر ایک آفت بن کر نازل ہوئیں۔ انہوں نے پہلے سے مرتی ہوئی انڈسٹری کا آکسیجن ہی بند کر دیا۔ چنانچہ یہاں مار دھاڑ اور قتل و غارت گری کے علاوہ فلم میں کچھ رہ نہیں گیا۔ نتیجتافلمیں بنانا بند ہوگئیں اور سنیما گھروں کو تالے لگ گئے۔ 

ضیا الحق کے بعد آنے والی تمام حکومتوں کو اس کا احساس تھا۔ مگر ایک تو وہ کبھی اپنی بقا کی جنگ سے ہی نہ نکل سکے کہ ایسے باریک معاملات پر توجہ دے سکتے۔ اور دوسرا کلچر اور فلم کے میدان اور اس باب میں پالیسی سازی پر جن قوتوں کا قبضہ ہو چکاتھا، حکومتیں بدلنے کے باوجود کبھی ختم نہیں ہوا۔موجودہ حکومت نے سنیما گھروں کی تعداد بڑھانے اور دوسرے مثبت اقدامات کی بات کی ہے، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے، اور جس پر اس حکومت کی تحسین کی جانی چاہیے۔ اگرچہ اس محاز پر انہیں ملک کے کچھ عناصر کی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

فلم و ثقافت کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب جو نئی کلچرل پالیسی کی بات کر رہے ہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے وہ ان ممالک کی روایتی کلچر سے متصادم ہے۔ حالاں کہ سعودی عرب کا بیانیہ یہ ہے کہ وہ اپنے اصل کلچر کی طرف لوٹ رہے ہیں، جسے ستر اور اسی کی دھائی میں برباد کر دیا گیا تھا۔ 

جہاں تک پاکستان کے کلچر کا تعلق ہے تو جن لوگوں نے پاکستان کا ریڈیکلائزیشن سے پہلے کا اصل کلچر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے، وہ جانتے ہیں کہ کہ آج جو کلچر پاکستان پر تھونپا جا رہا ہے، اس کا اس ملک کے اصلی کلچر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ کلچر اور کلچرل سرگرمیوں کو جس طرح سماج سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں، اس طرح ممکن نہیں ہے۔ انسان بس روٹی کھانے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہے۔ روٹی کے علاوہ بھی انسان کی کچھ بنیادی قسم کی روحانی و ثقافتی ضروریات ہیں، ان میں کلچر اور کلچرل حاصلات سے استفادہ بھی ہے۔ آرٹ و کلچر سے آشنائی اور اس سے لطف اندوز ہونا بھی ہے۔ فنون لطیفہ، شاعری ڈرامہ ، موسیقی اور ڈانس سے محظوظ ہونا بھی ہے۔ ان چیزوں کے بغیر سماج ایک ویران صحرا یا کھنڈر سے زیادہ کچھ نہیں۔

♦ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *