آہ ۔پروفیسر خالد حمید  

شہزادعرفان 

اسلام کے نام پراس بہیمانہ قتل کی پورے معاشرے کو سخت مذمت کرنی چاہئے کیوںکہ یہ ناسور ہمارے گھر گھر مین دیمک کی طرح پھیل چکا ہے ۔۔۔ یہ قاتل ہمارے اس معاشرے کی پیداوار ہے جہاں ہم نے اسلامی جہاد کو اسلامی یکجہتی اور کافر دشمنی میں فروغ دیا ہے۔۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بچوں کو آخرت سنوارنے کے لئے ملا کے حوالے کیا سرائیکی وسیب کی غربت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کی برین واشنگ کی گئی ۔

ریاست نے ملائیت زدہ سوچ کی حمایت میں بچوں کےتعلیمی نصاب میں ایسا مواد بھرا جہاں سے ان کا جہادی رجحان ہونا لازمی تھا۔تعلیمی اداروں میں طلباء کی مذہبی تنطیموں کی طاقت کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت بڑھاوا دیا گیا ان کی دھشت قائم کی گئی ۔۔۔ امن پسند طلباء اور اساتذہ کو دہشت زدہ کر کے تعلیمی ادارون کو اسلام کے نام پر یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے ۔ طالبعلمی کے زمانے میں خود اسی کالج میں سٹوڈنٹ لیڈر رہا ہوں انہین جماعت اسلامی اور انجمن ظلباء اسلام جیسی دھشت گرد تنظیموں سے نبرد آزما رہا ہوں ۔

میں جانتا ہوں کہ انہیں کون کب کیسے اور کیوں اپنے مقاصد کے لئے اسلام کے نام پر استعمال کرتا ہے۔ آج میرے دوست خالد حمید جیسے شریف ترین انسان ایک استاد ایک بہترین دوست نے اپنی جان دی ہے جس کا دکھ اور افسوس بھلائے نہیں بھولتا ۔ مگر انہوں نے شاید اپنی جان کا نذرانہ دے کر ہزاروں افراد کو اس مذہبی جنونی سے بچالیا ہے کیوں کہ اس قسم کی سوچ کے حامل شخص نے اج نہیں تو کل کسی نہ کسی جہادی گروہ میں شمولیت اختیار کرنے کی پوری اہلیت تھی اور یہ درندہ خودکش بن کر سینکڑوں افراد کا ناحق قتل کر سکتا تھا۔

یہ تنہا شخص نہیں ہے یہ یقیناََ کالج کی کسی نہ کسی مذہبی طلباء تنظیم کا ممبر ہوگا جہاں سے اس نے ابھی ا گے جانا ہوگا تاکہ سترہزار حوروں کا مزا لے سکے ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک پورا نیٹ ورک ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جو بچوں کو دین اور اسلام کے نام پر ورغلانے سے شروع ہوتا ہے اور کشمیر اور افغانستان کے جہاد پر خود کو اڑانے پر ختم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اپنا ریاستی بیانیہ ہر حال میں تبدیل کرنا ہوگا اور اسلام کو جدت پسندی اور روشن خیالی اور علم کی روشنی میں ازسر نو مظالعہ کرنا ہوگا کہ ہم سے کہاں غلطی ہو رہی ہے۔

ہم کیوں ایک جاہل ملاں کو اپنے اللہ اور رسول کے درمیان لاکھڑا کیا ہے جو عربی زبان کا ایک لفظ نہ بول سکتا ہو نہ لکھ سکتا ہو جسے دنیا کے دینی اور دنیاوی علوم کا علم بھی نہ ہو وہ کیسے ہمارے ایمان کا راہنما بن سکتا ہے؟ وہ کیسے ہماری اور ہمارے بچوں کی برین واشنگ کرسکتا ہے ؟ یقیناََ اسلام ہمیں یہ سب نہیں سکھاتا اور نہ ہی دنیا کا کوئی مذہب انسانیت کے خلاف کسی انسان کے قتل کا حکم دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر اسلام کے نام پر جو فضاء ایک مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہے اسکی ہمیں کھل کر مخالفت کرنے کی ضرورت ہے ۔

کیا عوام کو دھشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے؟ انگلش کی کلاس میں کس نے مسٹر چپسکو نہیں پڑھا ہوگا ۔ اسلامیات پہلے سے ہی لازمی ہے مگر عالمی انگریزی ادب، اردو ادب، مطالعہ پاکستان، دیگر سماجی سائنسی علوم یہاں تک کہ سائنسی علوم کو بھی اسلامیات اور مذہبی جانبداری کے تنگ نظر نظریات میں تبدیل کردیا گیا ہے ایسا تو کبھی سابقہ فوجی ادوار کے مارشل لاز میں بھی نہیں ہوا جو آج کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے ذہن سے جدید ترقی پسند سوچ کو کھرچ کر بھینکنا چاہتے ہیں تعلیمی اداروں میں طلباء کی مذہبی تنظیموں کو مدرسوں کے مدد سے کنٹرول کیا جارہا ہے تعلیمی اداروں کے ڈریس کوڈ بدلا جا رہا ہے ۔۔

غرض پوری ایک نئی جہادی نسل پیدا کرنے کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ آئندہ ڄہاد کے نام پر ہمارے بچے جنگوں میں جہاد اور شہادت پائیں اور یہ مزے سے آمریت میں حکومتیں چلائیں کاروبار کریں ہاؤسنگ سکیم بنا کر عوام کو لوٹیں انہیں عدم تحفظ کا شکار کریں۔ اس لئے ایسے میں ہمیں جمہوری قوتوں کی طرف دیکھنا پڑے گا موجودہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ مذہبی اسلامی جہاد کے حامی ہیں۔

پارلیمان کو فوجی آمریت میں چلایا جاریا ہے ریاستی بیانیہ جنگجو اور جہادی بن چکا ہے جو سیدھا دھشت گردوں اور دھشت گردی کی حمایت میں جاتا ہے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مذہبی دہشت گردوں کو حکومت نے کھلے عام چھٹی دے رکھی ہے انہیں ریاستی تحفظ دیا جا رہا ہے عوام اور دنیا سے جھوٹ بولا جا رہا ہے پاکستان ہر لحاظ سے تنہا ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *