تہذیبی نرگسیت

پروفیسر مبارک حیدر

پچھلے چند برسوں کے دوران مسلم امہ نے دہشت گردی کے سلسلےمیں بڑا نام کمایا ہے لیکن دہشت گردی کے واقعات سے پہلے بھی ہمارے مسلم معاشرے عالمی برادری میں اپنی علیحدگی پسندی اور جارحانہ فخر کی وجہ سے ممتاز مقام پر فائز رہےہیں۔

دنیا بھر میں اسلام اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کی تلاش جاری ہے اور بیشتر خوشحال یا ترقی یافتہ معاشروں کا دعویٰ ہے کہ جسے دہشت گردی کہا جارہا ہے وہ سرگرمی اسلام کے بنیادی کردار کا حصہ ہے۔ دوسری طرف سے مسلم معاشروں کے نمائندہ سیاست دان اور دانشور مسلسل وضاحت پیش کررہے ہیں کہ اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔

حقیقت کیا ہے یہ جاننے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے بالخصوص یہ سوال بہت اہم ہے کہ مسلم معاشروں میں موجود تشدد کی لہر کے خلاف احتجاج نہ ہونے کے برابر کیوں ہے؟ظاہر ہے کہ جو عناصر تباہ کاری کے موجودہ عمل میں لگے ہوئےہیں انہیں اپنے عزیز و اقارب اپنے پڑوسیوں اور اپنی بستیوں کی طرف سے نفرت کا سامنا نہیں۔ اگر کسی معاشرے کے رویہ میں کسی عمل سے سخت نفرت موجود ہو تو وہ عمل پھل پھول نہیں سکتا۔ مثلاً عورت کی آزادی اور مذہبی آزادی کے خلاف ہمارے معاشرے میں نفرت موجود ہے تو ان آزادیوں کے پنپنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ لہذا کہیں نہ کہیں تشدد اور تباہ کاری کو کوئی ایسی تائید حاصل ہے جو اسے توانائی مہیا کرتی ہے۔

تشدد اور تباہ کاری کا یہ عمل جس نے دنیا بھر کے مسلم عوام کو عالمی معاشروں کی نظر میں مشکوک بنادیا ہے ۔ حتیٰ کہ برصغیر ہند اور افغانستان کے مسلمان خوف اور نفرت کی علامت بن گئےہیں۔ کیا یہ عمل چند لوگوں کی سوچ بگڑنے سے شروع ہوا ہے؟ کیا مسلم معاشرے دنیا کے دوسرے معاشروں کے ساتھ چلنے کوتیار ہیں؟ کیا برصغیر ہند یعنی بنگلہ دیش ، بھارت اور پاکستان کے مسلمان جدید دور کی تہذیبوں کے ساتھ امن کی حالت میں رہ سکتے ہیں؟

کیا افغان قوم کا کردار ایک علاقائی تہذیب تک محدود ہو سکتا ہے یا قدیم فاتحین کی یہ قبائلی آبادی وسط ایشیا چین اور پاکستان اور بھارت کو فتح کرنے کی آج بھی ویسی ہی خواہش رکھتی ہے جیسے ہزاروں برس کے دوران رہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دنیا کی موجودہ تہذیبوں سے مسلم تہذیب کا ٹکرائو کیا نتائج دکھائے گا؟ کیا عالمی آبادی جو مسلمانوں کی آبادی سے چار گنا بڑی ہے اور جس میں امریکہ ، روس ، یورپ چین جاپان بھارت جیسے منظم اور مسلح معاشرے شامل ہیں اپنے ملکوں کی تباہی برداشت کرتے رہیں گے؟

دنیا کے مختلف ملکوں کے سفر کرنے والے مسلمان دوران سفر جس تجربے سے گذرتے ہیں میں بھی کئی بار اس اذیت سے گذرا ہوں۔ مجھے اپنی اذیت اور اپنے عزیز واقارب اپنے دوستوں اور ہم وطنوں کی اجتماعی تذلیل پریشان کرتی ہے۔ اپنی اولاد اور آئندہ نسلوں کی بے بسی اور بربادی کاتصور بے چین کرتا ہے۔ میں پاکستانیوں کی اس نسل سے ہوں جس نے ایک جدید اور مہذب پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔

ہم نے ۱۹۶۰اور ۱۹۷۰ کی دہائیوں میں قدم قدم پر اگتی امیدوں کی فصل دیکھی ۔ پھر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی خاک اڑتی دیکھ کر ہم بربادی کے عمل کو روک نہ سکے۔ہمارا معاشرہ جہالت اور نرگسیت کا شکار ہوتا گیا اور قوموں کی جدید انسان دوست تحریکوں سے کٹتا چلا گیا نیند میں چلتے ہوئے ایک معمول کی طرح جیسے عامل نے اپنے کھیل کے لیے سلا دیا ہو۔

مجھےتلخی بیان کا احساس ہے۔ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ میں نے جس طبقہ کو اکاس بیل سے تشبیہ دی ہے اور جن حضرات کی طرز فکر پر اعتراض کیا ہے وہ کتنے بااثر اور زودرنج ہیں اور میرا معاشرہ کتنا زود رنج بنا دیا گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنے والا عنصر اپنی طرز فکر کی تباہ کاریوں کا تجزیہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ بلکہ طرح طرح کی توجیہات اور الزام تراشی کے ذریعے اپنے کھیل کو جاری رکھنے کی کوشش کرے گا۔اس کے باوجود میرا ایمان ہے کہ اس عنصر کا ہاتھ روکنا ضروری ہے جتنا بھی ہم سے ہو سکے۔

دین کو سیاست اور روزگار بنانے والے حضرات میں ایک بہت بڑی تعداد پرخلوص طور پر اپنے راستے کو صراط مستقیم سمجھتی ہے۔ یہ سادہ دل مگر خود پسند لوگ ہیں جو مسلم معاشرے کے دوسرے لوگوں کی طرح چند شاطروں کی چال کا شکار ہوئے ہیں۔لیکن دین سے روزگار اور سماجی اقتدار حاصل ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے موجودہ رول سے مطمئن ہیں بلکہ حالت فخر میں ہیں۔ میری تمنا اور دعا ہے کہ اس پرخلوص اور سادہ دل جم غفیر میں کوئی ایسی تحریک جنم لے جو انہیں بے فخر سے آزاد کرکے خود تنقیدی اور سچے انکسار کی طرف لے جائے۔

مسلم معاشروں کے وہ لوگ جو جدید مہذب معاشروں کے شہری بن گئے ہیں کچھ عرصہ پہلے تک اپنے آبائی معاشروں کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ ان کی وجہ سے برصغیر کے مسلم اور غیر مسلم عوام انسانی تہذیب کی ترقی کو پسند کی نظر سے دیکھتے اور رشک کرتے تھےلیکن یہ ایک بڑی بدنصیبی ہے کہ یہ تارکین وطن تیزی سے رجعت اور جہالت کی اس تحریک سے متاثر ہورہے ہیں جو انہیں اسلامی تشخص کے نام پر علم و شعور سے نفرت پر اکسا رہی ہے اور جس کے نتیجہ میں مسلم عوام کے ہیرو اور رول ماڈل نہ تو سائنس دان ہیں نہ موجد بلکہ وہ قاری اور امام مسجد ان کے رہنما بن گئےہیں جن کا کل اثاثہ رٹی ہوئی آیات اور حکایات ہیں جن کے معنی بھی وہ پوری طرح نہیں جانتے اور جن کے خطبوں میں جھوٹے فخر اور مہمل دعووں کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ نفرت ہے جس کا انجام مسلم عوام کی تنہائی اورپسماندگی ہے۔

مسلم نوجوان کی نفسیات پر مدرسہ اور قاری کے کلچر نے کئی منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ لیکن ان میں تنگ نظری اور ایذا پسندی سب سے اہم ہیں تخریب کاری انہی کا زہریلا پھل ہے ہم اذیت میں جینے میں اور دوسروں کو اذیت پہنچانے کے عادی ہوگئے ہیں ہمارا امام مسجد ہو یا عام مسلمان فخر سے دعویٰ کرتا ہے کہ ہم نے فلاں کو برباد کر دیا ۔ مثلاً ہم نے روس کو برباد کردیا ہم امریکہ کو برباد کر رہے ہیں ہم بھارت کو بھی برباد کریں گے چین کو یاجوج ماجوج کہنے کی تحریک جاری ہے اور وقت آنے پر چین کو بردباد کرنے کا دعویٰ بھی سنا جا سکے گا ۔

لیکن آپ اس امام یا اس مقتدی کے منہ سے یہ نہیں سنیں گے کہ ہم نے کس کس کو آباد کیا ۔ اسے اپنی یا اپنے عوام کی اذیتیں دور کرنے میں کوئی دلچسبی نہیں۔ اسے فخرہے وہ برباد کر سکتا ہے۔۔۔ اذیت رسانی اور معصوم بچوں پر تشدد کے جس کلچر نے مدرسہ میں جنم لیا تھا وہ بڑھ کر یونیورسٹی تک آیا اور اب بازار تک پھیل گیا ہے۔ ہمارے دانشوروں سمیت ہم میں سے کسی نے بھی اپنی عالمانہ نرگسیت سے نکل کر اس پر بریت پر اعتراض نہیں کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *