خطوط جوش ملیح آبادی 



تعارف و تبصرہ؛ لیاقت علی

جوش ملیح آبادی جنھیں شاعر انقلاب کہا جاتا ہے، کا شمار اردو کے عہد ساز شعرا میں ہوتا ہے۔ جوش نے، جو ایک مثبت سماجی انقلاب کے داعی تھے، اپنی شاعری اور نثر میں اپنے اس مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔انھوں نے اپنی شاعری، شعری مجموعوں کے دیباچوں اور ماہنامہ کلیم کے مضامین کے ذریعے سماجی اور ذہنی تبدیلی کے لئے فضا ہموار کی اور سماج سے کم ہمتی اور بزدلی کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار اد ا کیا ۔

شاعری کے علاوہ جوش کی جس کتاب کو بہت زیادہ شہر ت ملی وہ ان کی خود نوشت ’یادوں کی برات ‘ تھی ۔’یادوں کی برات‘ کے علاوہ کئی سال قبل جوش کے خطوط کا ایک مجموعہ بھی شایع ہوا تھا لیکن خطوط کے اس مجموعے کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جو قبل ازیں’ یادوں کی برات‘ کے حصے میں آئی تھی۔

جوش کے خطوط کا یہ مجموعہ راغب مراد آبادی نے مرتب کیا تھا اور تقریبا پچیس سال قبل شائع ہوا تھا۔ ان خطوط میں جوش اپنے عقائد اور نجی خیالات کے بیان میں ایک شمشیر برہنہ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ’خطوط جوش‘ میں بعض ایسے مقامات بھی آتے ہیں کہ اگر ان خطوط کو تنہائی میں پڑھا جارہا ہو تو نگاہ احتیاط یکایک ادھر ادھر گھوم جاتی ہے کہ مبادا۔۔۔

خطوط جوش‘ میں شامل بعض خطوط جوش صاحب کی رندی ،الحاد اور عشق کے موضوعات پر خاصی واضح اورتشریحی دستاویزات قرار دی جاسکتی ہیں۔جوش نے اپنے مذہبی عقائد کے حوالے سے ان خطوط میں بہت واضح،دوٹوک اور برجستہ خیالات کا اظہار کیا ہے ۔جوش نے اوائل عمری میں مذہبی تنگ نظری اور فکری بنیاد پرستی کے خلاف جو عہد باندھا تھا اپنے ان خطوط میں وہ اپنے اس عہد کی پاسداری کرتے نظر آتے ہیں۔

ذہین شاہ تاجی کے نام اپنے ایک خط میں جوش رقمطراز ہیں’آپ پیر ہیں، میں رند ہوں۔آپ صد حیف کہ ’دین دار‘ ہیں میں بحمد اللہ کہ بے دین ہیں آپ پانی بھری بوتلوں پر دم فرماتے ہیں۔میں۔۔ آگ بھرے ساغروں پر دم دیتا ہوں آپ کے ہاتھ میں سجہ صد دانہ اور میرے ہاتھ میں زلف جانانہ ہے۔آپ کے گرد مریدوں کی سانسیں ہیں ، میرے سینے میں کچی جوانیوں کی پھانسیں ہیں‘۔

ایک دوسرے خط میں جو ذہین شاہ تاجی ہی کے نام ہے لکھتے ہیں’بابا صاحب، حقایق نہایت تلخ ہیں، کون ان سے منہ موڑ سکتا ہے۔ اقوال و اساطیر سے ہم تابکے فریب کھائیں اور تاچند اوہام آبائی کے سامنے سرجھکائیں‘۔

مزید لکھتے ہیں ’ قبلہ و کعبہ آپ بڑے مزے میں ہیں۔ رومی وغزالی آپ کے سامنے بانسری بجارہے ہیں۔تخلیات اور تاویلات کی وجدانی دیواریں آپ کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ آبائے ذوالاحترام پھولوں کی چادر آپ کے سرپرتانے ہوئے ہیں اوراولیائے کرام آپ کو لوریاں دے رہے ہیں لیکن میں نامراد منطق کے تپتے سورج اورد لائل کے چمکتے نیزوں کے سامنے سینہ عریاں کئے کھڑا ہوں‘۔

پاکستان اور بھارت میں صوفی ازم اور اوہام پرستی کے نام پرلوگوں کو کس طرح بے وقوف بنایا جاتا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’ چالاک صوفیوں اورمجذوب شاعروں نے قوالوں کی’آہے دا‘ اورمشاعروں کی’سبحان اللہ‘ کی وساطت سےعشق و جنون کو ابھارا اور عقل و شعور کو بھینچ کر بالعموم ایشیا اور بالخصوص ہندوستان اور پاکستان کو جذبات کی افیون پلا پلا کر اتنا غفیل کررکھا ہے۔اس غوط سے لوگوں کو جگانااورحکمت و منطق کی راہ پر چلانا ہمارا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اقوال واساطیر نے ہماری عقل کا گلا گھونٹ رکھاہے اورہمارے دماغ کوایک ایسے ڈھرے پرڈال دیا ہے کہ ہم بے بنیاد ایقان کو اوڑھنا بچھونا بنا چکےاورعقائد کا دودھ پی پی کر تجسس وتحقیق کو ایک شیطانی عمل سمجھنے لگے ہیں۔ ان خرافات کے جادو گھر سے انسان کو نکالنا سب سے بڑا شرف ومجد ہے‘۔

کہتے ہیں’کل رات کو دیر سے گھر پہنچا، نئے لحاف میں لیٹا، روئی کی گرمی نے جسم کو تو آرام پہنچایا لیکن خالی روئی سے کیا ہوتا ہے،جب تک دوئی نہ ہو‘۔
جوش جامد عقائد خواہ مذہبی ہوں یاسماجی سے بے زار ہیں’ قدیم ملکوں اور پارینہ ضابطوں کے پیرو اپنےعقائد کے برسرحق ہونے کے ثبو ت میں اکثر یہ با ت پیش کرتے ہیں کہ جو لوگ ان کی روش سے روگرانی کرتے ہیں ان کی زندگی بے مقصد و منزل ہوکر رہ جاتی ہے اوروہ معصیت آمیز ترغیبات کے مقابلے میں بے دست وپا ہوجاکرایک شائستہ زندگی بسرکرنے کے تمام تصورات سے خالی ہوجاتے ہیں۔ اس اندھیر نگری میں یہ کہنے کی جرات کون کرسکتا ہے کہ ’تحقیقی‘ کفر بہتر ہے ’تقلیدی‘ ایمان سے اور’امن پرور بے دینی‘کو تفوق حاصل ہے’ فساد انگیز‘ دین داری سے‘۔

ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ’تفکر کی زمین پر کھڑے ہوکر جب میں نگاہ بغاوت اٹھاتا اور چلاتا ہوں کہ یہ سب دھوکہ ہے تو آسمان سے آواز آنے لگتی ہے’ قربان جاوں پہچان لیا‘’ قربان جاوں پہچان لیا‘ تاتا تھیا تاتا تھیا تاتا تھیا،مان لیا، ’قربان جاوں پہچان لیا‘۔

بڑھاپے بارے ارشاد ہوتا ہے کہ’میں شائد مرتے دم تک بوڑھا نہیں ہوں گا۔ میر انیس نے فرمایا کہ جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی، لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ جو آکے نہ جائے وہ جوانی دیکھی‘۔

خطوط جوش کا یہ مجموعہ جوش کی فکر ونظر کا سمجھنے کا بہت اہم ماخذ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *