شاگرد کے ہاتھوں‌ اُستاد قتل، اصل مُجرم کون؟

اکمل سومرو

آج پنجاب میں تشدد کے دو واقعات ہوئے ہیں۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں پروفیسر آف انگریزی خالد حمید کا قتل۔ دوسرا واقعہ پنجاب یونیورسٹی میں طلباء کی ریلی پر اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنوں کا ڈنڈوں سے حملہ۔

قتل کرنے والا خطیب حسین رول نمبر 74 کے تحت 3 سال سے اس کالج میں انگریزی کا طالبعلم ہے۔ یہ دونوں واقعات اُس نظریے کی پرچار کا لازمی نتیجہ ہیں جو مخصوص تصورات پر مبنی اسلام ہماری درس گاہوں میں جنرل ضیاء الحق نے تنظیموں کے ذریعے سے نافذ کیا تھا جس کی جڑیں آج بھی ہماری درس گاہوں میں کافی مضبوط ہیں۔ پروفیسر کا قتل کیوں ہوا؟ اس کا تحلیل و تجزیہ کرنے سے پہلے وہ خط ملاحظہ کیجیئے جو اس قتل سے پہلے شہر کے انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر کے نام لکھا گیا:

گزارش ہے کہ ہم بی ایس انگریزی کے طلباء ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے ایس ای کالج کے انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں سالانہ فنکشن کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے جس سے کالج کا ماحول خراب ہورہا ہے۔ ہم ایک اسلامی ملک کے باشندے ہیں اور یہاں کے تعلیمی ادارے ہمارے لیے تربیت گاہ ہیں۔ لیکن ہماری تربیت گاہوں میں فنکشن کے نام پر لڑکیوں کو ناچ نچایا جارہا ہے۔ مورخہ 21 مارچ کو ہونے والے فنکشن کی پریکٹس گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے جس کی وجہ سے کالج کے طلباء و طالبات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جب کہ ہمارا مذہب اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ ہم مسلمان ہونے کے ناطے اس چیز کی بھر پور مزمت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کالج میں اس طرح کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔ لہذا مہربانی فرما کر تعلیمی درس گاہوں میں اس طرح کے یورپ کے کلچر کو روکا جائے”۔

طلباء کے ذہنوں میں یورپ سے متعلق اس مخصوص اسلامی تشخص کے نظریے نے ذہن کو اس حد تک جکڑ لیا ہے کہ شاگرد اُستاد کا قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ کیا اس نظریے کی پرچار کرنے والی تنظیمیں طلباء کے ہاتھ میں جنت کا پروانہ بھی تھما دیتی ہیں جس کے بعد ایک تعلیم یافتہ نوجوان قتل کو اسلام کی حفاظت کے قریب تر جانتا ہے؟ ہمیں اس کی جڑیں تلاش کرنی ہیں، تاریخ کی ورق گردانی کرنا ہوگی۔ میں صادق ایجرٹن کالج کا ہی طالبعلم رہا ہوں۔ یہ کالج 2003ء میں بھی اسی طرح کے تشدد آمیز نظریات کا مرکز رہا ہے اور ان نظریات کی آبیاری لاہور سے بیٹھ کر ہوتی ہے۔ اس نظریے کی بقاء کے لیے مقتل گاہیں سجانا ہی ان کے نزدیک بقاء ہے۔

اسلامی تشخص کے اس نظریے کا آلہ کار بنانے کے لیے ہر سال تعلیمی اداروں میں نوجوان بھرتی کیے جاتے ہیں پھر ان نوجوانوں کو تشدد پسندی، جہادی تصورات، نظریہ طالبان پر مبنی لڑیچر، لیکچرز، درس منعقد ہوتے ہیں اور کالج و یونیورسٹی کے ہاسٹلز ان کا مرکز اور پہلا ہدف ہوتے ہیں۔ اسلامی تشخص یا ثقافتی شناخت پر مبنی جو تصورات ان طلباء کے ذہنوں میں اُنڈیلے جاتے ہیں اس کے بعد خون سے ہی پیاس بجھنے کا زبردست احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ پروفیسر خالد حمید کا قتل کرنے کے بعد بھی پولیس رپورٹ میں یہ لکھا ہے کہ قاتل خطیب شعبہ انگریزی کی سالانہ تقریب کو اسلام دُشمن تقریب گردانتا ہے اور وہ اس قتل پر بالکل مطمئن ہے۔

ایک کالج کے نوجوان کے ذہن میں یہ تصورات پیدا کرنے والی تنظیمیں سائنٹیفک اُصولوں کی بنیاد پر کام کر رہی ہیں اور اس سائنسی عمل میں پنجاب کی وہ اساتذہ تنظیم بھی شامل ہے جسے لاہور سے کنٹرول کیا جاتا ہے یہ تنظیم کے نمائندہ اُستاد اپنے کمروں اور کمرہ جماعت میں ان تشدد پسند نظریات کی ترویج میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

ان نظریات کی تبلیغ کرنے والوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ضیاء الحق کی روح زندہ ہے اور اس روح کو جسم بھی میسر ہے۔ یہ جسم ہماری درس گاہوں میں مکالمے و مباحثے کے مقابلے پر تشدد پسندی، سوال و جواب کے مقابلے پر ڈنڈے، علم کے مقابلے پر جہالت کے داعی ہیں۔ ان کے نظریات ثقافتی شناخت سے اُوپر اُٹھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، ان نظریات کے پرچاری گردن اور پیٹ سے نیچے دیکھنے کے عادی ہیں ان کا اسلام ہی ٹخنوں سے شروع ہوتا ہے۔ اس پُرتشدد تاریخ میں پشاور سے لے کر کراچی تک کتنے ہی نوجوان قتل ہوئے، کتنے ہی اپاہج ہوئے ہیں۔ ان سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔

عبد الولی خان یونیورسٹی میں مشال کے قاتل طلباء کو اگر اب تک انجام دے دیا ہوتا تو آج ایک اور درس گاہ میں اُستاد کا قتل بچایا جاسکتا تھا۔ مشال کا قتل بھی انھی نظریات کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں اس مخصوص اسلامی تشخص سے ملتی ہیں۔ یہ محدود تشخص 70 کی دہائی میں بائیں بازو کے سیاسی نظریات سے خوفزدہ تھا اور اب یہ محدود تشخص تہذیبی علامتوں سے خوفزدہ ہے۔ تہذیب و تمدن کے فلسفے اور بنیادی فکر سے متعدد بار یہ معصوم طلباء نابلد ہوتے ہیں اور اسی لاعلمی کا فائدہ یہ تنظیمیں اُٹھاتی ہیں۔ تہذیب و تمدن طاقت ور اُس وقت بنتا ہے جب معاشی و سیاسی طاقت حاصل ہو۔ جب اندرونی و داخلی آزادی حاصل ہو۔ جس تہذیب کو خوف کی علامت بنا کر ہماری درس گاہوں کے طلباء کے سامنے یہ مخصوص تنظیمیں رکھتی ہیں وہ دراصل ان کی جماعتی و تنظیمی مفادات کے تابع ہیں۔

کالج و یونیورسٹی کے نوجوان کی سوچ انھی علامات تک جامد رکھنے کے لیے ان کے سامنے جو فکر و فلسفہ رکھا جاتا ہے وہ مافوق الفطرت ہے لیکن تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہمارے بعض اساتذہ بھی اس کا شکار ہیں۔ وہ پروفیسر کے قتل کی مذمت بھی مشروط انداز میں کر رہے ہیں۔ یہ ہمارا تعلیمی المیہ ہے اس المیے سے نبرد آزما ہونا آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے اداروں پر مسلط اس سوچ نے ہمیں پاکستان کے داخلی سامراج کا غلام بنا رکھا ہے اس داخلی سامراج کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ قوم کا نوجوان شعور کی طاقت سے آزاد ہو اور ان کے محدود تصورات کا قیدی ہو۔

ہماری درس گاہوں میں ضیاء الحق نے ان نظریات کو عروج بخشا تھا لیکن اس کی بنیادیں موجودہ طلباء تنظیموں کے خمیر میں ہیں جس کے ذریعے اسلام کا قلعہ درس گاہوں کو بنانے کا عزم ہوا تھا۔ اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے اداروں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے جبر کو درس گاہوں میں نافذ کرنے کا آغاز ہوا تھا۔ جب اعلیٰ تعلیمی اداروں کو علم کی تخلیق کا مرکز بنانے کا نعرہ لگانے کی بجائے مخصوص تصورات کے تحت تربیت گاہوں میں بدلنا ٹھہرا۔

ہمارے نصابات کو ڈیزائن اسی طرز پر کیا گیا ہے۔ ان نصابات میں دیگر افکار کے خلاف نفرت کی آمیزش ہے۔ ضیاء آمریت میں ان نصابات کو اسلامائزیشن کا لباس پہنایا گیا اور یہ لباس گند آلود ہونے کے باوجود آج تک نہیں بدلا گیا۔ جس محدود تہذیبی تصورات کی تبلیغ کی جاتی ہے اگر ان تصورات پر ان سے دلائل پر مبنی مکالمہ کرنے کی دعوت دی جائے تو اس کا اختتام بھی کفر کے فتوی پر کیا جاتا ہے۔

بہاولپور میں اُستاد کے قتل کا واقعہ دراصل اس سماج میں شدت پسند نظریات کی عکاسی ہے اور ان نظریات کی بیخ کنی کرنے کے لیے ہمیں فرسودہ تصورات سے آزادی دلانے کی سوچ پیدا کرنا ہوگی اور ریاست کو یہ ذمہ داری لینا ہوگی کہ وہ تعلیمی اداروں کو عقوبت خانوں میں بدلنے والوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے وگرنہ یہ سماج اس سوچ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا۔ جس طلباء تنظیم کا یہ نعرہ ہو؛

طلباء کا منشور بتا دو
آگ لگا دو آگ لگا دو

ایسی تنظیم کے کارکنوں کے ذہنوں میں شدت پسندی کے نظریات ہی پیوست ہوں گے۔ ان نظریات کی بنیاد ہی آمریت پر ہے اور ان کے غیر جمہوری رویوں کی عمدہ مثال کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ مورل پولیسنگ کرنا عین عبادت اور اسلامی شعار سمجھتے ہیں جس کی انتہا قتل ہے۔

دراصل اصل مجرم پروفیسر کا قاتل اس کا شاگرد نہیں ہے بلکہ قتل کی سوچ تک پہنچانے والا وہ فکر ہے جو تین سال تک اس معصوم اور غریب گھرانے کے طالب علم کو سکھایا گیا ہے۔ اس فکر کی نشاندہی اور اس کا متبادل فکر پیش کرنا ہی اس سماج کو جامد ہونے سے بچا سکتا ہے۔ ضیاء الحق کا طیارہ 1988ء میں اسی شہر بہاولپور میں دیگر جرنیلوں کے ساتھ تباہ ہوا تھا، ضیاء تو دریائے ستلج میں مر گیا لیکن اس کی روح نے آج بہاولپور کے کالج میں زندہ ہونے کا ایک بار پھر ثبوت دے دیا ہے۔

بشکریہ: تعلیمی زاویہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *