نیوزی لینڈؔ کی وزیرِ اعظم اور مسلم اُمّہ

منیر سامی

گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے افسوسناک اور بہیمانہ واقعات کے بعد سے وہاں کی خاتون وزیرِ اعظم ،جَیسنڈاؔ آرڈرن ، Jacinda Ardern کے رویہ اور جذبات کا دنیا بھر میں اور بالخصوص بعض مسلم ممالک میں چرچا رہا، جو بجا بھی تھا۔ انہوں نے اپنے ملک کے مسلمانوں کے خلاف اس ظالمانہ کاروائی کو کھلے بندوں سفید فام شدت پرستوں اور نسل پرستوں کی دہشت گردی قرار دیا ۔ وہ پہلے ہی روز سے مسلمانوں کے غم میں شریک رہیں اور اس شرافت کا مظاہرہ کیا جو آج کے ڈونلڈٹرمپؔ کے دور میں عنقا ہے۔

اُن کے اس رویہ اور اس جذبہ کو سمجھنے کے لیے ان کی ذات کے بارے میں کچھ جاننا ضروری ہے۔ وہ اب سے کچھ سال قبل تک مورمنؔ مسلک کی عیسائی تھیں، پھر انہوں نے اپنا مسلک ترک کردیا ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ، وہ خود کو ایک Agnostic یعنی ’لا ادری ‘ قرار دیتی ہیں۔ اس نظریہ کے لوگ خدا یا کائنات کی ابتدا کے بارے میں کوئی علم رکھنے سے انکار کرتے ہیں، ما سوا مادی مظاہر کے، اور سمجھتے ہیں کہ ایسے معاملات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس نظریہ کو مانتے ہوئے وزیرِ اعظم مذہب اور سیاست کو دور رکھنے کی قائل ہیں۔

اپنے سیاسی نظریات میں وہ خود کو سوشلسٹ کہتی ہیں، ہم جنس پرستوں کی شادی کی حمایت کرتی ہیں، اسرایئل و فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی طور پر دیکھنا چاہتی ہیں، اپنے ملک میں تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنا چاہتی ہیں، لیکن ہنگامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے حق میں ہیں، ان نظریات کے تحت وہ مغربی ترقی یافتہ ممالک کے رہنماوں میں شاید سب سے منفرد ہیں۔ خود نیوزی لینڈؔ میں جیسنڈا ؔ آرڈن کی حکومت ایک مخلوط حکومت ہے، اور ان کی شریک جماعت ایک قوم پرست اور عوامیت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے۔ یوں ان کے لیئے موجودہ سیاسی انتظام آسان نہیں ہے۔ اس کے با وجود ان کا رویہ قابلِ ستائش ہے۔

ان کے بر خلاف حالیہ واقعات میں مسلم رہنماوں کا رویہ ناقابلِ مہم ہے۔ مثئلاً ترکی کے قوم پرست مسلم رہنما اردوعان ؔ نے ایک جلسہ میں چیخ چیخ کر اعلان کیا کہ اگر نیوزی لینڈ جیسا کوئی سفید فام نسل پر ست ان کی زمین پر پہنچا تو وہ اسے چھٹی کا دودھ یاد دلادیں گے۔ اس ردِّ عمل کو نرم کرنے کے لیئے جیسنڈا آرڈن نے فوراًاپنے وزیرِ خارجہ کو ترکی بھیجا۔انہوں نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو یاد دلایا کہ دوسری جنگِ عظیم میں ترکوں نے اُن کے سینکڑوں سپاہیوں کو قتل کر دیا تھا، اور وہ پھر ایسا کر سکتے ہیں۔ عمران خان نے ایک طرف توجیسنڈا کے رویہ کو سراہا لیکن فوراً ہی یہ گھسا پٹا جملہ بھی دہرا دیا جو سب مسلمان رٹتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جہاں تک عام مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کے جذبات کی عکاسی کرتی ہوئی ایک ویڈیو پھیلی جس میں ایک مسلم نوجوان جیسنڈاؔ کو ترغیب دے رہا کہ وہ اتنی اچھی خاتون ہیں اور انہیں اب اسلام قبول کر لینا چاہیے۔ گویا مسلمان ایک غیر مسلم کے انسانی رویہ کو جو جب ہی مکمل جانیں گے کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں۔

ہم مسلمان ہمہ دم شتر مرغی اختیار کرتے ہوئے یہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ ہمارا پنا رویہ صرف یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کی ساری ذمہ داری نو آبادیاتی نظام کے سابقہ ظلم پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم سرمایہ داری استعماری نظام کو بر ا بھلا بھی کہتے ہیں، اور سرمایہ دارانہ طریقوں کو گلے سے لگاتے ہیں۔ اور اس سوشلسٹ نظام کے خلاف کھڑے رہتے ہیں جس کی خود ممدوحہ جیسنڈا آرڈن پر چارک ہیں۔

ہم یہ ماننے سے بھی انکاری ہیں کہ ہمارے خلاف نسل پرست اور متعصب رویوں میں شدت پرستی یوں بڑھتی جارہی ہے کہ گزشتہ چالیس پچاس سالوں میں ہم نے اسلامی جہاد اور اسلامی شدت پرستی کی حمایت، اور اسلامی مذہب کے اصولوں کی آڑ میں دنیا بھر میں شدت پرستی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ اور اس حد تک آگے گئے ہیں کہ اب معتدل مزاجی کا خول پہنے شدت پرست نظریات کی حمایت کرنے والے مسلمان مغربی سیاسی نظام میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔

ہم آج بھی مختلف ملکوں میں گرجے جلاتے ہیں۔سینکڑوں معصوموںکو قتل کرتے ہیں، لڑکیوں کو جبراً مسلمان کرکے ان کی جبریہ شادیاں مسلمانوں سے کرواتے ہیں۔ اور جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے وہ قتل کیا جاتا ہے۔ دوسرے مسلم ممالک کے تقابل میں ہم پاکستانی معاشرے کی یہ بنیادی حقیقت نہیں جانتے کہ یہ ایک کثیر المسالک مسلم معاشرہ ہے، جہاں اسلام کے مختلف مسلکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان بستے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ایک طرف تو شیعوں کے خلاف تشدد کرتے ہیں، اور دوسر ی جانب یک طرف طور پر غیر مسلم قرار دیئے احمدیوں کے قتل کوقابلِ تعریف گردانتے ہیں۔ جب ان مسلکوں کے لوگ قتل کیے جاتے ہیں تو ہمارا کوئی بھی وزیرِ اعظم ، چاہے وہ بے نظیر ہوں، نواز شریف، یا عمران خان، مظلوموں کی دلجوئی اور داد رسی کے لیئے نہیں جاتے۔

اگر سلمان تاثیرؔ جیسا کوئی رہنما آسیہ بی بی ؔ جیسی مظلومہ کے حق میں بات کرنے پر قتل کیا جاتا ہے، تو اس کا اپنا ہی وزیرِ اعظم اور صدر اس کے جنازے پر بھی نہیں جاتا۔ اسی طرح سعودی عرب میں اور بحرین میں شیعوں پر ظلم ہوتا ہے تو کوئی بھی پاکستانی یا دیگر مسلم رہنما اس پر آواز نہیں اٹھاتا۔

ان حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم سب جیسنڈا آرڈرن کے گُن تو گا سکتے ہیں لیکن دنیا بھر کے مسلم رہنماوں سے اور عام مسلمانوں سے، یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ ہم اُن کی تقلید کرتے ہوئے ہر مظلوم کے لیئے کھڑا ہونا سیکھیں گے۔ برق رفتار زمانے میں جیسنڈاؔ آرڈرن کا لمحہ ایک مختصر لمحئہ گزراں ہے۔ دنیا میں نا عاقبت اندیش مسلمانوں کے ردِّ عمل میں، سفید فام قوم پرست نسل پرستی بڑھتی رہے گی ۔ اور ہم مسلمان چند ثانیہ دم لے کر اپنے رویوں میں راسخ ہوتے جائیں گے۔

One Comment

  1. Then what should we do?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *