ہندو لڑکیوں کی شادیاں زیادہ اہم ہیں یا پاکستانی مسلم لڑکیوں کی

آمنہ اختر

پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں لڑکیاں شادی کے انتظار میں اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہیں ۔ ان میں سے بہت بڑی تعداد شادی نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کر لیتی ہیں یا پھر ایک بڑی تعداد ذہنی طور پر بیمار ہو جاتی ہیں ۔ پاکستان میں مسلم لڑکیوں کی شادی کروانے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی ذہنی طور پر بیمار ہونے والی لڑکیوں کے لئے علاج کی سہولتیں فراہم ہیں ۔ پاکستان میں مسلم بیٹیاں شادی نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو رہی ہیں مگر ان فوجی ملاں کو ہندو بیٹیوں کو مسلمان کرنے اور ان کے نکاح کروانے کا بڑا خیال آیا ہوا ہے ۔

اور سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا آئین اقلیتوں کے خلاف اور ان کی لڑکیوں کو اس طرح سر عام رسوا کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟

اگر دیتا ہے تو تمام اقلیتوں کو پاکستان سے باہر نکل جانا چاہئے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل ہے کہ وہ خاص کر ہندوں خاندانوں کو تحفظ فراہم کروائیں ۔ پھر پاکستان میں صرف مسلمان باقی رہ جائیں گے تو خوب اپنے اپنے فرقوں کا باجا بجا لیں ۔

میاں مٹھو جس نے یہ زبردستی کی اور کروائی ہے اسے فوج اور حکومت کی سرپرستی حاصل ہے جسکا سوشل میڈیا پر بھی شور ہے اور اس بات کا اندازہ سچ ثابت ہونے لگتا ہے جب حالیہ وزیراعظم عمران خان کی تقریر جو اس نے اپنی حلف برداری کے بعد عام عوام کے سامنے کی تھی اور اس نے واضح اظہار کیا تھا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں ۔

اس اصول کے مطابق مدینہ کی ریاست کے لوگ جنگ وجدل کے دوران مال غنیمت اکٹھا کرتے تھے اور اس مال غنیمت کا ایک حصہ عورتیں بھی ہوتی تھیں۔شائد یہی سوچ نے اب پاکستان میں بھی زور پکڑ لیا ہے ۔جو کہ انتہائی خوفناک صورت حال اختیار کر رہی ہے ۔

تشویش تو اس بات کی ہے کہ ان چند ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنا ہی مقصد ہے یا پھر اس کے پیچھے حکومت کے کچھ اور عزائم ہیں ۔جن میں پاکستان اور ہندوستان کی سیاسی لڑائی کو برقرار رکھنا ہے تاکہ عام عوام کو اپنے مسائل کی کچھ سمجھ بوجھ نہ آ سکے ۔یا مرد کی اجارہ داری کو ایک بھیانک طریقے سے پیش کر کے عام عورت اور غریب خاندان والوں کو جن کی بیٹیاں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں ان کو دبانا ہے ۔تاکہ خاندان اور عورت خود کسی طرح کی آزادی اور اپنے حق کی جرات نہ کر سکے یا پھر خالصتا اقلیوں کو دبائے رکھنا ہے ۔کہ وہ کسی طرح کی ڈیمانڈ نہ کر سکیں ۔

مگر پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد ہے کی کتنی کہ وہ ملک میں اپنی منوا سکیں اور حکومت کو دبا سکیں ۔جو بھی معاملہ ہے اس سے جب تک حکومت خود کوئی راز داری کا پردہ فاش نہیں کرتی کوئی واضح جواب نہیں دیا جا سکتا ۔مگر اس سارے عمل میں جہاں بچیوں کو خاموش اور والدین کو التجا کرتے سڑکوں پر رویا دیکھا جا رہا ہے وہ انسانیت کے لئے ناقابل قبول عمل ہے ۔پھر تو یہی لگتا ہے جیسے یہ جنسی وحشی درندے عورتوں کی چیخ پکار کو بھی اپنی جنسی لذت کو بھڑکانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔

یہ عام مرد اور لڑکے کو بھی ذہنی طور پر اکسا رہے ہیں ۔جس سے عورت کی صورت حال نہ صرف خراب ہو گی بلکے خاندانی نظام کی بھی دھجیاں اڑیں گی ۔جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسکا اثر ان کی زندگیوں پر نہیں ہو رہا انہیں جان لینا چاہئے کہ نوجوان نسل خطرات سے کھیلنا پسند کرتی ہے ۔ بلکے انہیں نئے اور خطرناک کام کرنے کی جلدی رہتی ہے ۔

سوچ دنگ رہ جاتی ہے کہ پاکستان کس طرف جا رہا ہے جہاں مذہب اور ملک کے حکمران سوائے زناکاری کے اپنی نئی نسل کو کوئی نیا پیغام نہیں دے سکتے ۔ اور یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ یہ مدرسوں میں پڑھنے والے جہاں جدید علوم کی کوئی گنجائش نہیں سمجھی جاتی وہ ہماری بیٹیوں کو جب مرضی اور جس طرح سے چاہیں گے سر عام گھسیٹیں گے ۔اور ہم جو نام کے مسلمان ہیں وہ صرف تماشہ دیکھیں گے ۔لگتا ہے پاکستان آنے والے دنوں میں ڈھاکہ بن جائے گا جہاں اچانک نو عمر لڑکیاں اپنے بڑھے ہوئے پیٹوں کو لئے ادھ موئی کھڑی رو رہی ہوں گی اور ہم ان کو زیادتی کئے ہوئے بچے جنتے دیکھیں گے ۔

سنہ۱۹۷۱میں پاکستان کی فوج نے بنگالی لڑکیوں کے ساتھ سرعام زیادتی کی تھی اب پاکستان کے مولوی پاکستان کی اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں ۔مگر دکھ کہ نہ بنگالی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو کوئی سزا ہو ئی اور نہ اب پاکستان کی بیٹیوں کے ساتھ کرنے والوں کو سزا ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *