ویزا پالیسی کے ساتھ ملک کے حالات بھی درست ہونا چاہیں

بیرسٹر حمید باشانی

ویزہ پالیسی میں تبدیلی اچھی خبر ہے۔ مگر اس سے جڑی توقعات غیرحقیقی ہیں۔ پاکستان کی سیاحت کی راہ میں ویزہ کئی رکاوٹوں میں سے محض ایک چھوٹی سی رکاوٹ ہے۔ جب تک بڑی رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں ، صرف ویزہ آسان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہما ری اس دنیا میں کچھ ممالک ایسے ہیں ، جن میں دنیا کے بیشتر ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزہ داخلے کی اجازت ہے، مگر وہاں کوئی بطور سیاح نہیں جاتا۔ 

سیاحت سے کئی ممالک بہت زیادہ معاشی فائدے اٹھاتے ہیں۔ مگر بنیادی طور پر سیاحت محض ایک معاشی سرگرمی نہیں ہے۔ سیاحت کا تعلق تاریخ ، کلچر، آرکیٹیکٹ ، آرٹ اور آزادی سے ہے، اور اس کے ساتھ معاشی فوائد بھی جڑے ہیں۔

دنیا میں دوسرے ممالک میں سیاحت کے لیے جانے والوں کی اکثریت کا تعلق ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں مصروف زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ہر سال مشکل سے دو چار ہفتے نکال کر کسی دوسرے ملک میں سیر و سیاحت کے لیے جاتے ہیں۔ یہ ان کا یاد گار وقت ہوتا ہے۔ وہ یہ وقت گزارنے کے لیےے باقاعدہ ریسرچ کرتے ہیں۔ دوست و احباب سے مشورہ کرتے ہیں، گوگل ریویو پڑھتے ہیں، اوربڑے غور فکر اور عرق ریزی کے بعد اپنی منزل کا انتخاب کرتے ہیں۔

اس فیصلہ سازی میں انہوں نے کئی عناصر ملحوظ خاطر رکھنے ہوتے ہیں۔ اس میں کسی ملک میں سیفٹی اور سیکورٹی کی کیا پوزیشن ہے۔ صفائی ستھرائی اور صحت عامہ کا کیا معیار ہے۔ ٹورازم کے لیے کیا انفراسٹریکچر ہے۔ کیا سہولیات ہیں۔ کھانے اور رہائش کا کیا معیار اور قیمت ہے۔ اور ویزہ شائد آخری چیز ہے، جس کے بارے میں سیاح کو فکر مند ہونا ہوتاہے۔

حکومت نے سیاحت کی طرف پہلے قدم کے طورویزہ پالیسی میں نرمی کا اعلان کیا ہے ، اور ساتھ ہی اس امید کا اظہارکیا ہے کہ پاکستان ایک مقبول سیاحتی منزل بن جائے گا۔ سیاح کسی ملک میں کیوں جاتے ہیں ؟ یہ کوئی راز نہیں، جس سے پردہ اٹھایا جائے۔ اس موضوع پر دنیا بھر کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ 

دنیا میں سب سے زیادہ سیاح فرانس میں جاتے ہیں۔ کیوں ؟ فرانس میں ایفل ٹاور ہے۔ وارسیلز ہے۔ پیرس آبادی کے اعتبار سے یورپ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کا ہر بچہ اپنے سکول میں ایفل ٹاور کے بارے میں پڑھتا ہے۔ تصاویر دیکھتا ہے۔ فرانس، فرانسیسی لوگ، کلچر اور زبان کے بارے میں پڑھتا ہے۔ لوگ فرانس کے ساحل سمندر اور اس میں دی گئی سہولیات کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ یہاں کی نائٹ لائف کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہاں کے طرز طباخی کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ یہاں کی آزادیوں اور احساس تحفظ کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں۔

فرانس میں چھبیس سے زیادہ ایسے مقامات ہیں ، جن کو یونیسکو کی طرف سے ورلڈ ہریٹیج قرار دیا گیا ہے۔ پارک اور باغات ہیں۔ اس کے اردگرد ترقی یافتہ یورپ ہے، جس کے بیشتر شہری سال میں ایک آدھ ہفتے کی چھٹی بنانے کے لیے جا سکتے ہیں۔ پیرس میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد خود فرانسیسیوں کی بھی ہوتی ہے ، جو دوسرے شہروں اور قصبوں سے آتے ہیں۔ یہ خوشحال لوگ ہیں، جو پیرس جیسے مہنگے شہر کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہاں کی آزادیوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ اس جانکاری اور شہرت کا نتیجہ ہے کہ ہر سا ل اسی ملین سے زائد لوگ فرانس جاتے ہیں۔ 

یورپ میں فرانس کے بعدسپین سیاحوں کی پسندیدہ منزل ہے۔ سپین میں زیادہ تر سیاح اس کے پڑوسی یوروپی ممالک یعنی فرانس، جرمنی ، اٹلی اور انگلینڈ وغیرہ سے آتے ہیں۔ سپین میں ہر موسم میں سیاح کے لیے اعلی معیار کی سہولیات میسر ہیں۔ بار سلونا اور میڈرڈ جیسے تاریخی شہر ہیں۔ سپین کے تیرہ شہروں کو یونیسکو نے عالمی تاریخی ورثے میں شامل کیا ہواہے۔ یہاں کی نائٹ لائف بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ یہاں پر سب کے لیے کچھ نہ کچھ ہے، اور ہر کسی کو اپنے طرز فکر اور طرز زندگی کے مطابق ماحول میسر آتا ہے۔

تیسرے نمبر پر امریکہ ہے۔ اس میں نیویارک، لاس اینجلس اور لاس ویگاس جیسے شہر ہیں۔ یلو سٹون پارک ہے۔ نیا گرا فال اور الاسکا ہے، ہر سال پچھتر ملین لوگ اس ملک میں آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ اس کے پڑوسی ممالک یعنی کینیڈا ور میکسیکو سے آتے ہیں۔ اور ایک قابل ذکر تعداد خود امریکیوں کی ہوتی ہے، جو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں بطور سیاح جاتے ہیں۔

دنیا میں اٹلی بھی ایک پر کشش سیاحتی مرکرز ہے۔ یہاں تقریبا تیس کے قریب تاریخی ورثے ہیں۔ قدیم آرٹ کے بے شمار نمونے ہیں۔ قدیم رومن ایمپائر اور نشاۃثانیہ کی کئی نیشانیاں ہیں۔ اس کے شمال میں خوبصورت پہاڑی گاوں اور جنوب میں ساحل سمندر ہے۔ روم جیسا پرانا شہر ہے۔ تاریخ و ثقافت ہے۔ آزادیاں اور رواداری ہے۔ نائٹ لائف ہے۔

یہ تو تھاترقی یافتہ اورخوشحال ممالک کا قصہ ۔ ترقی پزیر ممالک میں میکسیکو اور تھائی لینڈ سیاحوں کی کشش کے مقامات ہیں۔ میکسیکو میں تاریخی ہریٹیج بہت ہے۔ یہاں کے ساحلی علاقے اور ریزاٹ مقبول ہیں۔ میکسیکو میں بھی زیادہ تر سیاح اس کے پڑوسی ممالک یعنی امریکہ اور کینیڈا سے ہی آتے ہیں۔ 

تھائی لینڈ اپنی چمکتی دھوپ اور ریتیلے ساحل سمندر یعنی بیچ کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ اپنے آثار قدیمہ، بدھ مت کے تاریخی مندروں اور گرجا گھروں کی وجہ سے ایک پر کشش جگہ ہے۔ اس کی نائٹ لائف کا بڑا چرچا ہے۔ یہ شاپنگ سنٹرز اورطباخی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو ہزار بیس تک یہاں سیاحوں کی تعداد سو ملین سالانہ تک پہنچ جائے گی۔ 

دنیا کے ان سیاحتی مراکز میں قدر مشترک کیا ہے ؟ لوگ ان ممالک میں کیوں جاتے ہیں؟ کچھ لوگ اس کا پہلا عنصر سیفٹی قرار دیتے ہیں۔ مگر اگر دنیا کے دس محفوظ ترین ممالک کی فہرست بنائی جائے تو ان میں سے ایک ملک بھی سیاحت والے ملکوں کی فہرست میں پہلے دس نمبروں میں نہیں آئے گا۔ کسی ملک میں جانے سے پہلے سیاح یہ ضرور دیکھتا ہے کہ کیا وہ ملک محفوظ ہے، مگر کوئی سیاح کسی ملک کا انتخاب محض اس لیے نہیں کرتا کہ وہ محفوظ ہے۔ ان ممالک میں تین چیزیں مشترک ہیں۔ 

ساحل سمندر پر بنے ہوئے بیچ جہاں لوگ چمکتی دھوپ ، ریت اور پانی کا لطف اٹھانے کے لیے اپنے آپ کو آزاد ، محفوظ اور بے فکرخیال کریں۔

دوسری اہم چیز تاریخی عمارات، آرٹ اور کلچر ہے۔ پرانی تاریخی عمارتیں آثار قدیمہ سیاح کی دلچسبی کا باعث ہوتے ہیں۔ اس میں مذہبی و مقدس مقامات جیسے تاریخی مساجد، مندر، گرجے وغیرہ شامل ہیں، جو بڑے پیمانے پر مذہبی سیاح لاتے ہیں۔ 

ایک اہم ترین کشش نائٹ لائف ہے۔ نائٹ لائف میں ہوٹلز، ریسٹو رانٹس، نائٹس کلب، کیوزین، موسیقی اور ڈانس وغیرہ شامل ہے۔ 
تیسرا عنصر سب پر بھاری ہے۔

ہر ملک میں سیاحت کا سب سے بڑا ذریعہ اس کا پڑوسی ملک ہے۔ یہاں پر دیگر ممالک کی کہانی سنانے کا مقصد بھی یہ واضح کرنا ہے کہ سیاح کو کیا چیز اپنے طرف کھنچتی ہے۔ امریکہ میں بیشتر ٹورسٹ اس کے پڑوسی ممالک میکسیکو اور کینیڈاسے آتے ہیں۔ میکسیکو میں بیشتر سیاح اس کے پڑوسی ملک امریکہ اورکینیڈاسے آتے ہیں۔ سپین میں سیاحوں کی بڑی تعداد اس کے پڑوسی یورپی ممالک سے آتی ہے۔

چنانچہ کوئی بھی ملک اس وقت ایک مقبول سیاحتی مرکز بنناشروع ہوتا ہے، جب اس کے پڑوسی ممالک اس کی سیاحت شروع کرتے ہیں۔ چونکہ پڑوس میں ہونے کی وجہ سے ان کا وقت اور پیسہ بچتا ہے۔ 

پاکستان میں اگر سب سے زیادہ سیاح کہیں سے آسکتے ہیں، تو وہ چین اور بھارت ہے۔ دونوں ملکوں میں بہت بڑی مڈل کلاس ہے۔ بھارتی لوگوںکے لیے ایک بڑی کشش یہاں کی زبان ، کھانا پینا اور مذہبی عبادت گاہیں ہیں۔ چینیوں کے لیے آثار قدیمہ، ٹیکسلااورمنجودھاڑو جیسے مقامات ہیں۔

مگر اس کے لیے ملک میں ایک آزاد، روادار اور محفوظ ماحول اور آلودگی سے پاک ہوا اور پانی بنیادی شرط ہے ۔ د وسروں کے معاملات میں مداخلت اور ڈنڈے کے زور پر جنت میں لے جانے کے رحجانات پر قابو پانا لازم ہے۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنی ضروری ہے، تاکہ سیاح کے لیے ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول پیدا ہو سکے، جہاں وہ بلا فکر و پریشانی زندگی کے پر سکون لمحات گزارنے کے قابل ہوں۔

♥ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *