آزادی غیر مشروط نہیں ہوتی مگر۔۔

بیرسٹر حمید باشانی

ارباب اختیار ٹھیک کہتے ہیں۔ اظہار کی آزادی لا محدود نہیں ہوتی۔ غیر مشروط نہیں ہوتی۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ جمہوری ملک کے آئین میں یہ بات درج ہے۔ مگراس کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ اس پر پابندی لگانے کی کوئی ایسی وجہ ہونی چاہیے ، جسے ایک آزاد اور جمہوری معاشرے میں جائز قرار دیا جا سکے۔ پابندی لگانے کی ایسی ٹھوس وجہ ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران جو واحد وجہ ڈھونڈی جا سکی، وہ دہشت گردی تھی۔ یہ ایک ٹھوس وجہ تھی، جسے ہر ذی شعور انسان نے تسلیم کیا۔

آزادی لا محدود نہیں ہوتی۔ ارباب اختیار نے یہ بات سوشل میڈیا کے تناظرمیں کی ہے۔ عام دھارے کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے اب کسی کو خاص شکوہ نہیں۔ اب سوال سوشل میڈیا کاہے۔ کیاسوشل میڈیا آزاد ہے؟ سوشل میڈیا سمجھ لیں سائبر سپیس میں ہر ایک کی ایک نجی سپیس ہے۔ یہ باہمی ستائش، تصاویر کی نمائش اور گالی گلوچ کے لیے یقیناًآزاد ہے۔ مگر یہ جب اس سے آگے نکل کر کسی سنجیدہ بحث میں شامل ہو تو اس کی آزادی کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ 

حقیقت تو یہ ہے کہ عام دھارے کا میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ، سب پرغالب اثر ان ہی قوتوں کا ہوتا ہے ، جن کا سماج میں غلبہ ہے۔ جو قوتیں، زیادہ طاقت، وسائل اور اثرو رسوخ رکھتی ہیں۔ وہ عام لوگوں کی نسبت میڈیا کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ 

لکھاریوں کو اس پر ناراض ہونے کے بجائے حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آزادی اظہار رائے کا حق ہر دور میں ، ہر شخص کو اس وقت تک میسر رہا ہے، جب تک وہ مقتدر طبقوں کو چیلنج نہ کرے۔ یعنی جدید جمہوری زبان میں جب تک اس کی لاٹھی اشرافیہ کی ناک کو نہ چھوئے۔

تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ مراعات یافتہ طبقات اور ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے لوگوں کے درمیان تاریخ کے ہر دور میں کشمکش رہی ہے۔ خواہ یہ قدیم یونان یا مصر کی تہذیب ہو۔ رومن سلطنت سے لیکر برطانوی راج تک تاریخ کا کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا، جب یہ کشمکش بند ہوئی ہو۔ اظہار کی آزادی کی جہدو جہد کے کئی ادوار ہیں۔ مگر آج کے دور میں اس کو دو ادوار میں تقسیم کر کہ دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا سے پہلے کادور اور سوشل میڈیا کے بعد کا دور۔ ان سب ادوار کا جائزہ لیاجائے تو آزادی اظہار کی جہدو جہد کی کئی دردناک اور حیرت انگیز کہانیاں موجود ہیں۔ 

جس دور میں انسان نے ابھی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا ، توآزادی اظہار کا واحد واضح ذریعہ گفتگو ہوتی تھی۔ پھر یہ گفتگو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھی۔ اظہار کے اس ذریعے پر اگرچہ اہل حکم کے لیے پابندی عائد کرنا بہت مشکل تھا۔ مگر اظہار کرنے والوں کا مسئلہ یہ تھا کہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہوئی بات دورتک پہنچ توجاتی تھی ، مگر اس عمل کے دوران وہ بات بگڑتے بگڑتے کچھ سے کچھ ہو جاتی تھی۔ بیان کرنے والوں کے اپنے حافظے کے مطابق، یا ان کی پسند و نا پسند کے مطابق ڈھل کر ایک ایسا بیانیہ بن جاتی تھی، جس کا اصل بیان کرنے والے کے خیالات سے کم ہی تعلق ہوتا تھا۔

چھاپہ خانہ کی ٹیکنالوجی آ جانے سے لکھنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوگئی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ حکمران طبقات کا کام بھی آسان ہو گیا۔ پہلے کاتب کی انگلیاں کاٹی جا تیں تھیں۔ پھرچھاپہ خانے بند کیے جا تے تھے۔ چھاپہ خانوں پر کنٹرول کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنا آمریت پسندوں کے لیے آسان تھا۔ حکمرانوں کو گمان تھا کہ وہ اس طریقے سے خیالات کو قابو کر سکتے ہیں، پھیلنے پھولنے سے روک سکتے ہیں۔ بڑے بڑے نابغہ روزگار لکھاریوں کی بات کو اس طریقے سے عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

سولہویں سے انیسوہویں صدی کی پوری تاریخ اس طرح کی باہمی کشمکش سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ میں ایسی لاکھوں مثالیں ہیں، جو اس کشمکش کی دلچسب اور سبق آموز کہانیاں ہیں۔ لاکھوں مثالیں ہی نہیں ، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تاریخ کے ہر قابل ذکر پیغام کو پہلے پہل مراعات یافتہ طبقات نے عوام تک جانے سے روکنے کی سعی ضرور کی۔ اس کوشش میں کئی کتاب پر پابندی لگی۔ کئی جلسہ و جلوس کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

پاکستان میں یہ کشمکش شروع دن سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ خودقائد اعظم محمد علی جناح کی اپنی زندگی میں ان کے اپنے اخبار ڈان پر یہ طبع آزمائی شروع ہو گئی تھی۔ اس وقت کے ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کے بیانات اس امر کے گواہ ہیں۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا تو رکا نہیں۔ ہر نئے حکمران نے اس باب میں پہلے کا ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی۔ آمریت سے کوئی شکوہ ہی بے کار ہے۔ آمریت نہ تو آزادی اظہار رائے کی دعوے دار ہوتی ہے، اور نہ ہی اس سے یہ توقع رکھی جانی چاہیے۔

تاریخ میں کچھ استشنائیں ضرور ہوتی ہیں۔ مگر یہاں جمہوریتوں نے بھی میڈیا کی آزادی کے باب میں بسا اوقات آمریتوں کو مات کیا۔ آمریت کے خلاف جمہوریت کی لڑائی لڑنے والوں کو رسم زبان بندی کا شکوہ رہا۔ مگر جب وہ اقتدار میں آئے تو بسا اوقات اس رسم پر پہلے سے زیادہ سختی سے عمل ہوا۔ اس کی ایک مثال ذولفقار علی بھٹو کی حکومت تھی، جو تاریخ میں پہلی بار آمریت سے کھلی لڑائی کے بعد آزادانہ انتخابات کے ذریعے ایوان میں آئی تھی۔ مگر اس دور میں کئی اخبار زیر عتاب آئے۔ کئی لکھاری پابند سلاسل ہوئے۔

ضیاالحق کے دور میں تو ہر ریکارڈ توڑ دیا گیا۔ اس دور میں حکمرانوں نے میڈیا کے باب میں اپنی پالیسی کی کوئی توجیح بھی پیش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس دور میں میڈیا کو کھل کر بتا دیا گیا تھا کہ کیا نہیں چھاپا جا سکتا۔ خود چھاپہ خانوں نے جس مستعدی سے ان احکامات پر عمل کیا اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس دور میں چھاپہ خانے خود سنسر بورڈ بن گئے تھے، جن کی جانچ پڑتال کا معیار خود مارشل حکام سے بھی زیادہ سخت تھا۔

ظاہر ہے ان کے سر پر مارشل لاء کا خوف سوار تھا۔ چھاپا خانہ بند ہو جانے اور روزگار چلا جانے کا ڈر تھا۔ اور بعض صورتوں میں گرفتار ہونے اور قلعے کی ہوا کھانے کا خطرہ بھی موجود تھا۔ حکمران جب چھاپے خانوں کے مالکان اور ملازمین میں اتنا ڈر و خوف پیدا کر چکے تو ان کا کام آسان ہو گیاتھا۔ اس طرح یہ سلسلہ چھاپہ خانوں سے ہوتا ہوا الیکٹرانک میڈیا تک آیا۔ الیکٹرانک میڈیا مشرف دور میں ابھرا۔ اس دور میں اس میڈیا نے شائد اپنی آزادی کا عروج دیکھا۔ زیادہ کریڈٹ تو ان صحافیوں کو جاتا ہے ، جنہوں نے اس باب میں آزادی کی طویل جہدو جہد کی۔

مگر مشرف کو اس کے حصے کا کریڈٹ نہ دینا بھی نا انصافی ہو گی۔ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آج کے دور کے سوشل میڈیا تک آپہنچا۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران جمہوری حکومتوں کے سائے میں سوشل میڈیا کو لگام دینے پر بہت غور و غوض ہوا۔ سائبر سپیس کے بارے میں کئی قوانین بنائے گئے۔ اس باب میں کئی سرگرم لوگوں کے خلاف عملی اقدامات بھی کیے گئے۔ ایسا دو جمہوری ادوار میں ہوا۔ اب ایک تیسری جمہوری حکومت ہے۔ اب ارباب اختیارکا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی لا محدود نہیں ہوتی۔ مگر یہ ہمارے لیے کوئی اعلان یا خبر نہیں۔ یہ ہم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ آزادی لا محدود نہیں ہوتی۔

مگرہم اہل حکم سے سو فیصد متفق ہیں کہ منافرت پھیلانے کی جازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے۔ دنیا کے ہر جمہوری اور ترقی یافتہ ملک کے آئین میں یہ بات لکھی ہے۔ مگر منافرت کیا ہے اور کیا نہیں ؟ یہ طے کرنا ایک باریک اور حساس کام ہے۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ میکانزم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ منافرت روکنے کی آڑ میں آزادی اظہار رائے، سیاسی اور شہری آزادیوں پر بلاوجہ پابندیاں نہ عائد کی جائیں۔

♦ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *