پاکستان میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی کا علاج

آصف جاوید

قوم پرستی سے مراد یہ ہے کہ  ہر حال میں اپنی زبان بولنے والوں،  اپنے ہم نسل،  اور ہم زمین لوگوں کی حمایت و طرفداری کی جائےاور اپنی قوم کے جائز اور ناجائز مفادات کا  ہر حال میں تحفّط کیا جائے ۔ قوم پرستی ، محروم معاشروں کا المیہ ہے۔ آپ نے کسی  بھی خوشحال اور منصف معاشرے میں عوام کو لسّانیت ،قومیت اور نسل پرستی  کی آگ میں جلتے  ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔   یہ پاکستان ہی  کی بدقسمتی ہے کہ  جہاں  قوم پرستی  کا عفریت سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

قوم پرستی  ، نسل پرستی کی ارتقائی شکل ہے ۔ قوم پرستی کی ابتدا قدیم جاہلیت کے دور سے ہوئی  تھی۔ زمانہ قدیم میں انسان کے جذبات اپنی نسل یا قبیلہ سے وابستہ  ہوتے تھے۔ اس لیے اس دور میں قوم پرستی کی بجائے نسل پرستی پروان چڑھی ہے۔ نسل پرستی خالصتاً کسی بھی خاص انسانی نسل کی کسی دوسری انسانی نسل یا ذات پر فوقیت یا احساس برتری  کےبارے میں  امتیاز  رکھنے کا ایک نظریہ ہے۔

 نسل پرستی ایک مکروہ نفسیاتی و سماجی  بیماری ہے، جس میں  ایک طاقتور نسلی گروہ ، دوسرے کمزور نسلی گروہ  سے نسل کی بنیاد پر  امتیاز برتتے ہوئے  تمام تر سماجی سہولیات،  اور معاشی مفادات  تک زیادہ سے زیادہ رسائی  حاصل کرتا ہے، اور وسائل  و اقتدار پر   قبضہ حاصل  کرکے  اپنی اجارہ داری کو قائم رکھتا ہے۔

قوم پرستی ایک زہر ہے، ہر زہر کا ایک تریاق ہوتا ہے، قوم پرستی کا تریاق سماجی انصاف ہے۔ جب کسی معاشرے میں اقتدار اور وسائل منصفانہ طریقے سے تقسیم نہیں ہوتے ہیں، تو سماجی عدم مساوات جنم لیتی ہے۔ سماجی عدم مساوات سے سماجی سہولیات اور معاشی مواقع جات  یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتے اور منطقی نتیجے میں معاشرہ محروم اور مراعات یافتہ طبقات میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ یہیں سے  طبقاتی تقسیم کا آغاز ہوتا ہے۔ 

 غربت و جہالت اور بیڈگورننس، سماجی ناانصافی  کی  بنیادی وجوہات ہیں۔   سماجی ناانصافی کے نتیجے  میں ایک طبقہ بہت غریب اور  محروم ، دوسرا طبقہ بہت امیر  اور مراعات یافتہ ہوجاتا ہے۔  بیڈ گورننس کی  شکار حکومتیں ملک میں  اقرباء پروری کرتی ہیں،  قومی وسائل کو بے دردی سے ضائع کرتی ہیں‘ وسائل کا ناجائز اور غلط استعمال کرتی ہیں‘ اور نئے وسائل پیدا کرنے یا تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

پاکستان کا اصل مسئلہ قوم پرستی یا نسل پرستی نہیں  ہے ۔   پاکستان کا بنیادی مسئلہ غربت اور جہالت  کا خاتمہ  اور سماجی انصاف کی فراہمی ہے۔ سماجی انصاف کی فراہمی کا برہِ راست کوئی میکنزم نہیں ہوتا۔ سماجی انصاف ایک گنجلک ،پیچیدہ  اور سسٹمیٹک عمل ہے۔  سماجی انصاف  کا حصول مجموعی طور پر گُڈ گورننس، کرپشن کے خاتمے ، انصاف کی فراہمی، میرِٹ  سسٹم کے قیام اور غربت و جہالت کے خاتمے سے مشروط ہے۔سماجی انصاف  کی یقینی فراہمی کے لئے، کرپشن کا خاتمہ، نظامِ انصاف کا قیام، گُڈ گورننس کا قیام  عمل میں لانا ہوتا ہے۔

بیڈ گورننس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، طبقاتی سماج  اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم  کے نتیجے میں غربت اور جہالت  وجود میں آتے ہیں ، اور پھر  اس کے منطقی  نتیجے میں وسائل اور مراعات سے محروم معاشرہ ، سماجی ناانصافی کا شکار ہوکر قوم پرستی کا شکار ہوجاتا ہے۔

معاشرہ خوشحال ہوگا تو سماج میں ترقّی ہوگی۔ معاشی خوشحالی  ہی سماجی ترقّی کا انجن ہے،  صرف سماجی ترقّی ہی انسانی زندگی میں خوشی اور راحت لاتی ہے اور معاشرہ پُر  اَمن اور مگن رہتا ہے۔  جب کہ سائنس اور ٹیکنالوجی جدید معیشت کی اساس ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ ہوگا تو پیداوار بڑھے گی، معاشی خوشحالی آئےگی تو سماجی ترقّی ہوگی، ورنہ  پھر محرومیت کی کوکھ سے نسل پرستی ہی جنم لے گی۔

 مشکل یہ ہے کہ معاشی ترقّی حاصل کرنے کے لئے  ریاست کو کثیر سمتی اقدامات کرنا ضروری  ہوتے ہیں ، جو کہ ریاست کی بنیادی زمّہ داری ہے،  مگر چونکہ سرِ دست ریاست کو ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے اور ریاست پچھلے 71 سالوں سے جہاد کشمیر او ر اور پچھلے  40 سالوں سے افغانستان میں امن قائم کرنے میں  مصروف ہے،  خطّے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لئےسیکیورٹی اسٹیٹ کا درجہ حاصل کرنے کے لئے ریاست کی اپنی ترجیحات ہیں،  لہذا فی الحال ریاست کا ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، جس میں ریاست ،  ملک میں  سماجی انصاف کے قیام پر توجّہ دے ، کرپشن کا خاتمہ کرے،  اور گُڈ گورننس قائم  کرے۔  ملک سے غربت ، جہالت اور پسماندگی کا خاتمہ کرے۔

معاشی ترقّی کے حصول کے لئے  گُڈ گورننس کے ساتھ ساتھ، انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور توانائی کی پیداوار  ، صنعتی منصوبہ جات اور جدید ذراعت کو فروغ  دینے کی ضرورت ہوتی ہے، نئے منصوبوں پر کام  کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، ،پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے،  ، برآمدات میں اضافہ کرنے   ،  اور ملکی آمدنی میں اضافہ  کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریاست اگر یہ سب اقدامات کرے گی تو  غربت اور جہالت کا خاتمہ ہوگا، شہریوں کو زندگی کی بنیادی  سہولتیں، جیسے پینے کا صاف پانی، سینی ٹیشن، رہائش، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ ، روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ معیشت ترقّی کر ے گی،  سماج ترقّی کرے  گا، سماجی انصاف  کا بول بالا ہوگا،  اور قوم پرستی کا خاتمہ ہوگا۔ وما علینا الالبلاغ

2 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    سندھ میں آباد اردوسپیکنگ “مہاجر” سندھو قوم پرستی کاتریاق نہ ڈھونڈ سکے۔

  2. قوم پرستی ایک قدیم اجتماعی سسٹم ہے ۔جس کی بنیاد محبت ،وفاداری،اخلاص ،اور احساس و مفاد پر وجود میں آئی ۔کئی زمانہ تک یہ بہت کامیاب سسٹم مانا جاتا تھا ۔تمام امور خارجی ہوں یا داخلی اسی کے تحت چلائے جاتے تھے ۔ایک ضابطہ کے تحت کنٹرول کیا جاتا تھا ۔وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں ۔ریاست کے وجود کے آنے کے بعد تصادم شروع ہوا ۔ریاست چونکہ ایک سرمایہ دارانہ نظام ہے ۔جس کے تحت ایک لکیر کھینچ کر اس کے اندر رہنے والے تمام قبائل کا استحصال کیا جاتاہے۔ایسا ریاستی نظام قائم کیا جاتا ہے جس میں امرا کم تعداد کے ہوتے ہوئے بھی حاکم اور مالک ہوں ۔اس میں سرمایہ اسی معاشرے سے نکال کر اسی معاشرے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔حکومت کی تشکیل سرمایہ دارانہ طبقہ کی آپس کی جنگ ہوتی ہے جس میں آپس میں بندر بانٹ کی جاتی ہے اور نسل در نسل معاشرے پر مسلط رہتی ہے ۔قوم پرستی کو مٹانے اور اور ایک غلامانہ نظام قائم رکھنے ہی میں اسکی تمام توانائیاں سرف رہتی ہیں ۔
    خلاصہ ۔موجودہ دور میں قوم پرستی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور تمام نظام سرمایہ دارانہ طبقہ کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے ۔ ایک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *