کینیڈا کا آئین و قانون اور مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے مطالبات

آصف جاوید

کینیڈا میں  مسلمان سیاسی اور سماجی سطح پر ہمیشہ متحرّک رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں سارے سال جاری رہتی ہیں، مگر نئے سال  2019کے آغاز کے ساتھ ہی کینیڈین مسلمانوں کی مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے خصوصی پروگرامز کا آغاز کچھ زیادہ ہی شدّت کے ساتھ ہو گیا ہے۔

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ٹورونٹو میں مسلمانوں کی ایک مذہبی تنظیم ابو عبیدہ اسلامِک سینٹر کی جانب سے ایک دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت  ٹورونٹو کی مسلمان کمیونٹی سے دس ہزار دستخط حاصل کرنے کے بعد سٹی کونسل ٹورونٹو اور ٹورونٹو ٹرانزٹ کمیشن میں ایک پیٹیشن فائل کی جائے گی اور ٹورونٹو کے تمام بڑے سب وے اسٹیشنوں پر مسلمانوں کے لئے نماز پڑھنے اور وضو کرنے کی جگہ مختص کرنے کامطالبہ کیا جائے گا۔

اس سے پہلے یہ مسلمان شدّت پسند گروپ   پیل ریجن  کے اسکولوں میں جمعہ کی باجماعت نماز اور خطبہ جمعہ کا مطالبہ منوا چکے ہیں،   ٹورونٹو  میں عام طور پر اسکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں ،ہسپتالوں، شاپنگ مالز اور ائرپورٹ پر بھی نماز ادا کرنے کی سہولت موجود ہے۔

دو سال قبل کچھ انتہا پسند مسلمان گروپوں  نے پاکستانی نژاد کینیڈین ممبر پارلیمنٹ اقراء خالد کی مدد سے پارلیمنٹ میں  اسلامو فوبیا  (مسلمانوں کے خلاف نام نہادنفرت اور امتیازی سلوک کی شکایت )کے خلاف ایک تحریک بھی پیش کی تھی، جس پر  ابھی سٹڈی جاری ہے۔ گذشتہ کئی سالوں میں کچھ  مسلم تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کے لئے شریعہ لاء کے نفاذ کے مطالبات بھی سامنے آچکے ہیں۔

   شریعہ قوانین کے نفاذ کا ارادہ لئے ، اسلامِک پارٹی آف اونٹاریو کے نام سے انتہا پسند  مسلمانوں  کی ایک سیاسی پارٹی بھی الیکشن کمیشن کینیڈا کے پاس  اپنا نام رجسٹر کرانے کی غرض سے  درخواست گزار  ہوگئی ہے۔

کینیڈا ، دنیا کے نقشے پر واحد ملک ہے جو انسانی آزادی ، انسانی حقوق اور انسانی عظمت کا حد درجہ احترام کرتا ہے۔کینیڈا کی آبادی 3کروڑ، 71لاکھ،  47ہزار سے زائد  نفوس پر    مشتمل ہے۔  جس میں مسلمانوں کی تعدادصرف ساڑھے دس لاکھ کے لگ بھگ ہے، یعنی مسلمان کل آبادی کا صرف تین اعشاریہ دو فیصد ہیں۔

کینیڈا ایک کثیر الثقافت اور کثیر المذاہب معاشرہ ہے، کینیڈا کا اپنا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے۔ کینیڈین معاشرے کی نمایاں خصوصیات  رواداری، اور اجتماعیت ہیں۔  معاشرتی اور ثقافتی تنوّع ، کینیڈا کی ترقّی ، فلاح اور معاشی خوشحالی کی اساس ہے۔ کینیڈا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں شہریوں کو لامحدود آزادیاں حاصل ہیں۔ معیارِ زندگی کے اعتبار سے کینیڈا پچھلے 20 سالوں سے دنیا کے ٹاپ 5 ممالک میں شامل رہتا ہے۔

کینیڈا میں انسانی آزادی، انسانی حقوق اور انسانی عظمت کے احترام میں ،  1982 میں آئینی ترمیم   کے ذریعے  چارٹرڈ آف رائٹس اینڈ فریڈمکو شامل کیا گیا، جس کے ذریعے عوام کو لامحدود آزادیاں، اور حقوق عطا کئے گئے ہیں۔   کینیڈا کے آئین و قانون میں  صنفی امتیاز یعنی مرد، عورت، اور ٹرانس جینڈر  کے درمیان امتیازی سلوک  کو حرام قرار دیا گیا ہے، ہر شہری کے حقوق مساوی قرار دئے گئے ہیں۔

  چارٹرڈ آف رائٹس اینڈ فریڈممیں شہریوں کو  پورے کینیڈا میں آزادانہ نقل و حرکت اور رہائش اختیار کرنے، روزگار حاصل کرنے، جائیدادیں حاصل کرنے ، کاروبار کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، ضمیر  کی آزادی کا حق، عقیدے کی آزادی کا حق،  ووٹ کے ذریعے جمہوری حکومت منتخب کرنے کا حق، جرم ثابت ہونے تک معصوم رہنے کا حق ، صنفی برابری کا حق، انگلش یا فرینچ کسی ایک زبان کو اختیار کرنے کا حق، کلچرل ہیریٹیج کی حفاظت کا حق دیا گیا ہے۔   چارٹرڈ آف رائٹس اینڈ فریڈمکے سیکشن نمبر 7 سے 14 میں دئے گئے لیگل رائٹس ، لامحدود شخصی آزادیوں کی ضمانت ہیں۔    کینیڈا میں ہر شہری کو اس کے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گذارنے کی مکمّل آزادی ہے۔

اجتماعیت (پلورل ازم)   اور شامِلیت(انکلوزِونیسکینیڈا کے آئین کا نفسِ ناطقہ ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ  اس عظیم ملک میں دنیا کے 193 ممالک اور 40 سے زیادہ  مذاہب سے تعلّق رکھنے والے باشندے ، بلا امتیاز مذہب وعقیدہ، رنگ و نسل ، زبان اور ثقافت ،مساوی شہری حقوق اور لامحدود آزادیوں کے حامل ہیں۔

اس تناظر میں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ   جب یہ مسلمان ،  مسلم ریاستوں کی تنگ نظری، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، شخصی آزادیوں پر قدغن ، ریاستی مظالم  اور شریعت کی پابندیوں سے بیزار  ہوتے ہیں تو پناہ حاصل کرنے کے لئے فرار ہوکر کینیڈا کا رُخ کرتے ہیں اور جب کینیڈا میں  پناہ مل جاتی ہے، اعلیترین معیارِ زندگی، تعلیم ، صحت کی سہولتیں ، روزگار اور آسائش اور عزّت کی زندگی مل جاتی ہے تو   پھر کیوں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، کینیڈا میں شریعت اور اسلامی کلچر کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں؟؟؟

کیا یہ مسلمانوں کو کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے؟؟؟، یا اِن کو ایک جنّت جیسے ملک  کو دوزخ بنانے میں راحت محسوس ہوتی ہے؟؟؟ اس رویّہ پر کینیڈا کی جامعات کو تحقیق کی ضرورت ہے۔

One Comment

  1. These pseudo intellectuals who want to establish ISIS style state in Canada, were already indoctrinated before they arrived here. You have raised a very good question, first their leave their countries on account of Islamic extremism, fundamentalism, parochialism, once they get established they want the same style of government which they left behind and found freedom here in Canada. Canada needs to have a registry of extremists groups and associations, & mosques in order to nip them in bud before they wreak havoc in this paradise on earth. GOC should also have one sermon delivered in all the mosques – every imam should deliver sermon in English.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *