بانس کی چھت کے نیچے ناز سے رہنے والے وطن پرستوں کا نوحہ

رزاق کھٹی

عراق میں سعدی یوسف، محمدی مہدی الجواہری اور مظفرالنواب تین بڑے شاعر ہیں۔جواہری کا سو برس کی عمر میں انتقال ہوگیاتھا ۔اس قصے کے راوی عالمی سیاست پر دسترس رکھنے والے دانشور جناب طارق علی ہیں۔ وہ سعدی یوسف کی زبانی بڑا مزیدار قصہ سناتے ہیں۔

’’ صدام ہماری طرف قاصد پہ قاصد بھیجا کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ‘ مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے نفرت کرتے ہو۔ مگر تم عراق کا ورثہ ہو۔آؤ اور بغداد میں اپنی شاعری سناؤ، وہاں دس لاکھ لوگ تمہیں سنیں گے‘‘وہ صحیح کہتا تھا ‘‘۔
یقیناْ وہ لاکھوں لوگ ان تین عظیم شعرا کو سننے کیلئے بے تاب ہوتے۔ پھر سعدی یوسف نے مجھے کہا کہ ۔۔۔

’’ مگر ہم کبھی نہیں گئے، جب امریکا نے کمیونسٹوں کی فہرست صدام کو دی اور ان کا صفایا کردینے کوکہا تو ان میں سے بہت سے افراد موت کے گھاٹ اتاردیئے گئے۔صدام نے یہ ظلم امریکا کے کہنے پر کیا۔میرے ساتھی مظفرالنواب نے جلاوطنی میں کہا‘صدام ہمیں قتل کرسکتا ہےہم اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کے قاصدوں سے کہا کہ ہم نہیں آناچاہتے۔قاصد نے کہا کہ میری شاہ رگ آپ کی سلامتی کی ضامن ہے۔بہرحال یہ بات زیادہ قابل یقین نہیں تھی‘‘۔

عراق پر حملے سے ایک ماہ قبل تمام جلاوطن،جنہیں اب سی آئی اے اور برطانوی انٹیلی جنس کی مدد سےاقتدار میں لایا گیا ہے،لندن میں ایک ہوٹل میں جمع ہوئے ۔ یہ کام خفیہ تھا۔سعدی یوسف نے لندن میں جلاوطنی کے دوران یہ دیکھا تو کہنے لگا ‘‘ یہ گیدڑوں کی شادی ہے’’

سعدی یوسف نے بات جاری رکھی۔

’’جنوبی عراق کے لوگ موسم گرما میں خنکی کیلئے ستاروں کی چھاؤں میں سوتے ہیں۔ ہر تین یا چھ ماہ بعد کسی نہ کسی گاؤں سے سناؤنی آتی کہ وہاں گیدڑوں کا ایک اجلاس ہوا ہے۔ وہ آتے، شور مچاتے اور جفتی کیلئے قطار بناتے اور وہاں ناقابل برداشت بدبو پھیل جاتی۔ اگلے روز دیہاتی اٹھتے ،ایک دوسرے سے کہتے ‘ کیا تم نے گیدڑوں کی شادی کی بو سونگھی؟’ پھر یہ بات بھول جاتے۔کیونکہ پھر مہینوں ایسا وقوعہ نہ ہوتا ‘‘۔

جب لندن میں نام نہاد عراقی نیشنل کانگریس کے ان اتحادیوں کا اجلاس ہوا تو سعدی یوسف نے ‘‘گیدڑوں کی شادی’’ کے عنوان سے ایک نظم لکھی۔اس نظم کی بنا پر اسے عراق میں داخلے کی اجازت نہ ملی۔ یہ نظم انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئی۔

’’ اے مظفرالنواب
میرے زندگی بھر کے ساتھی
ہم گیدڑوں کی شادی کے بارے میں کیا کررہے ہیں؟
کیا تمہیں بیتے دن یاد ہیں:
شام کی خنکی میں
بانسوں کی چھت کے نیچے
عمدہ اون سے بھرے ہوئے تکیوں پر ٹیک لگائے
ہم چائے کی چسکیاں لیتے( وہ چائے جس کا ذائقہ ایک مدت سے نہیں چکھا) دوستوں کے درمیان
رات لفظوں کی طرح، نرمی سے گرتی ہے
کھجوروں کے سنولاتے ہوئے چھتناروں کے نیچے
جب دھواں مرغولے بناتا ہوا چولھوں سے اٹھتا ہے
اور ایسی خوشبو پھیلی ہوتی ہے
جیسے کائنات ابھی وجود میں آئی ہو
پھر بے ہنگم چیخیں پھٹ پڑتی ہیں
لمبی گھاس اور کھجوروں کے درختوں میں سے
گیدڑوں کی شادی
اے مظفرالنواب
آج کا دن کل سا نہیں ہے
(سچائی بہت جلد جانے والی چیز ہے۔۔ جیسے بچے کا خواب)
سچائی ہے۔ اس وقت جب ہم شادی کے استقبالیے میں ہیں
ہاں، گیدڑوں کی شادی
تم نے ان کا دعوت نامہ پڑھا ہے
اے مظفرالنواب
آؤ ایک سودا کریں
میں تمہاری جگہ جاؤں گا
دمشق( لندن کے اس خفیہ ہوٹل سے بہت دور )۔
میں گیدڑوں کے چہروں پر تھوکوں گا
میں ان کی فہرستوں پر تھوکوں گا
میں اعلان کروں گا کہ ہم عراق کے باشندے ہیں
ہم اس سرزمین کے موروثی شجر ہیں
اور ہم بانسوں کی اس سادہ سی چھت کے نیچے ناز کرتے ہیں
۔۔۔ تو یہ عراق کے باشندوں کی روح ہے۔۔ جو مزاحمت کر رہے ہیں،جنہوں نے صدام کے دور حکومت میں مصیبتیں جھیلیں، مگر غیر ملکی تسلط قبول کرنے سے انکار کردیا۔

سعدی یوسف کا مخاطب مظفرالنواب بھی جلاوطن شاعر ہے،جسے صدام نے قید میں رکھا تھا، اس نے ایران میں پناہ ڈھونڈلی،شاہ ایران نے اسے گرفتار کروایا،اور تشدد کے بعد اسے واپس عراق دھکیل دیا، وہ 1970کی دھائی سے اواخر تک جلاوطنی کی زندگی گذار رہاہے ، عراق کے نوجوان اس کے بڑے مداح ہیں، اس کی نظموں کی ٹیپ سارے عراق میں گردش کرتی ہے۔ اس نے لکھا تھا

‘‘میں نے مان لیا ہے کہ میرا مقدر
ایک پرندے کی طرح ہے
اور میں نے سب برداشت کیا ہے
سوائے تذلیل کے
یا اپنا دل محل سرا کی قید میں دینے کے
لیکن ۔ اے پیارے خدا
پرندوں تک کے گھونسلے ہیں،جہاں انہیں واپس جانا ہوتا ہے
میں اپنے وطن کے اوپر سے اڑتا گزرجاتاہوں
سمندر کے بعد دوسرے سمندر کے اوپر سے
اور پھر قفس کے بعد قفس اور پھر قفس
ہر داروغہ دوسرے سے جڑا ہے’’

لیکن پاکستان میں شعرا کی ایسی نسل کب کی کمیاب ہوئی، معلوم ہی نہ ہوا۔ میڈیا کی ترقی ’ان’ کو ناگوار گذری تو ’انہوں‘ نے سوچا ۔۔ بس بہت ہوچکا۔

دنیا کے دانشوروں کو وہ آزادی پسند نہیں تھی،جس میں اپنے کپڑے اتار دیئے جائیں۔ لیکن میرے ملک کے نکتہ وروں کو وہ آزادی پسند نہیں جس میں حقائق بتانے کیلئے گناہ گاروں کے چہرے ننگے کیئے جائیں۔

اے دیدہ ورو ! تمہیں معلوم ہے کہ میں اس دیس میں رہتا ہوں جہاں میرے اظہار کی آزادی کا فیصلہ کرنے کا اختیار کسی اور کو ہے۔ میرے ملک میں اب سیاست اور صحافت سکڑتی جارہی ہے۔ باغی کو پرانی بات ہوئی ۔ اچھے لوگوں کیلئے بھی زمین سکڑ کر قبر جتنی بنتی جاتی ہے، کوئی صاحب کلام جلاوطن نہیں ۔ لیکن اپنا وطن بھی اپنا نہیں!

مجھے اب خود پر بھی ترس نہیں آتا !!۔

One Comment

  1. Wonderful

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *