کیا عدالت جھوٹا الزام لگانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی؟

اکتوبر 2018ء میں جب آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بری کر دیا تھا، تو مذہبی جماعتوں کی طرف سے ملک گیر پرتشدد احتجاجی مظاہر ے کیے گئے ۔ اور اس کے ساتھ ہی آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اپیل بھی دائر کر دی گئی تھی۔ جسے تقریبا تین ماہ بعد اب عدالت نے مسترد کردیاہے۔

اب آسیہ بی بی آزاد فضاوں میں سانس لے سکتی ہے ۔ لیکن وہ اپنے ملک میں نہیں رہ سکتی۔ شاید پاکستانی سماج بہت زیادہ گل سٹر گیا ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ آسیہ بی بی پرتوہین مذہب کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ اور اس جھوٹے الزام کی بدولت اسے آٹھ سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذارنا پڑے۔ آسیہ بی بی کو رہائی دلوانے پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اپنی جان کی قربانی بھی دینی پڑی۔

سلمان تاثیر کے قاتلوں میں ریاست کا آزاد میڈیا بھی شامل ہے۔ جس میں سرفہرست مہر عباسی نامی ٹی وی اینکر کا بھیانک کردار ہے جس نے سلمان تاثیر کے خلاف نفرت پر مبنی مہم شروع کی تھی جو ان کے قتل پر ختم ہوئی۔پاکستان کا بنیاد پرست میڈیا کبھی بھی کسی روشن خیال سیاستدان کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے خلاف نفرت پرمبنی جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔

ریاستی اداروں اور اس کے پروردہ صحافیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت روشن خیال افراد کو بدنام کرنے کے لیے ان کے خلاف مہم چلائی۔ حامد میر نے روشن خیال افراد کو بدنام کرنے کے لیے لبرل فاشسٹ کی اصطلاح ایجاد کی تھی تاکہ افغانستان میں جاری نام نہاد جہاد کے مخالفین کو بدنام کیا جائے۔اور آج جو بھی ریاستی اداروں کی انتہا پسندی پر آواز اٹھاتا ہے اسے لبرل فاشسٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔

توہین مذہب کا قانون بنیاد ی طور پر مخالفین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت گاوں کے گاوں ، محلے اور کالونیاں تک جلا کر راکھ کر دی گئیں اور ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ کئی افراد کو پتھر مار کر اور کئی کو زندہ جلا دیا گیا۔ ریاستی ادارے بھی اپنے مخالفین سے نبٹنے کے لیے اس قانون کا سہارا لیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ریاستی پالیسوں پر تنقید کرنے والے بلاگرز پر بھی توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا عدالت آسیہ بی بی پر جھوٹا الزام لگانے والوں کے خلاف کاروائی کرے گی؟

جب تک ریاست توہین مذہب کے جھوٹے الزام لگانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرے گی تو جھوٹے الزام لگانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں ابھی بھی کئی لوگ جیلوں میں قید ہیں جس میں سرفہرست ذکریا یونیورسٹی ملتان کا لیکچرر جنید حفیظ ہے ۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    فی الحال اسی کو غنیمت سمجھیں۔یہ بھی بڑی بات ہے کہ بالآخر یہ کیس اپنے اختتام کو پہنچاورنہ اگلے پچاس سال تک آسیہ بی بی نے جیل میں ہی رہنا تھا۔

    جہاں تک جھوٹاالزام لگانے والوں کو سزادینے کا تعلق ہے توہماری عدالت عظمیٰ میں ابھی اتنا دم خم پیدا نہیں ہوسکا کہ ایسی
    جراء ت کا مظاہرہ کر سکے کہ ہر لحاظ سے قانون کی بالادستی قائم کرکے دکھا سکے۔اپنی اس شرمناک بے بسی ،ڈر اورخوف کا اظہارخود عدالت عظمیٰ نے بھی کیا ہے۔چنانچہ بی بی سی کے نامہ نگارکے مطابق: ” منگل کو درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ توہین مذہب کا معاملہ نہ ہوتا تو عدالت جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ درج کرتی۔
    سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ اگر کسی ایسی مقدمے میں جہاں کسی شخص کو سزائے موت دی گئی ہو لیکن گواہان کے بیانات جھوٹے ہوں تو عدالت ان گواہان کا سمری ٹرائل کر کے انھیں عمر قید کی سزا دے سکتی ہے “۔
    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-47020899

    سنا آپ نے ! کہا جارہا ہے کہ “توہین مذہب کامعاملہ نہ ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔” حد ہی ہو گئی۔کیا یہ بجائے خود توہین مذہب نہیں۔مذہب(اسلام) تو کہتا ہے کہ “لعان” بکنے والوں کو اصل جرم سے بھی زیادہ سزادی جائے۔ یہاں ہماری معززسپریم کورٹ نہ مذہب کی پاسداری کرتی دکھائی دیتی ہے اور نہ ملکی قانون کی۔ایک ہی سانس میں بتا بھی رہی ہے کہ قانون موجود ہے لیکن ساتھ بتا رہی ہے کہ اس پر عمل نہیں کرسکتے۔

    کوئی بتلائے اس “مملکت خداداد” میں کسے وکیل کریں ، کس سے منصفی چاہیں؟؟؟۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *