کیا بیس کروڑ کی عوام اپنا ملک پاکستان چھوڑ پائے گی

آمنہ اختر

آئے دن بہت سے دوستوں سے بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ہر دوست خواہ وہ عورت ہو یا مرد نوجوان ہو یا بچہ سبھی ملک پاکستان کو چھوڑنے کے خواب دیکھتے ہے سماجی ،معاشی اور ماحولیاتی مسائل سے پریشان لوگ یورپ اور ترقی یافتہ ملکوں کی روشن خیالی اور ماحول کی خوشگوارگی کے قصے پوچھتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں ۔اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ ان ترقی یافتہ ملکوں نے شدید موسم  اور حالات میں بھی اپنے نظام کو چلانا سیکھ لیا ہے ۔ اور  انسانی مسائل کو حل کرنے کے لئے مسلسل تگ و دو میں بھی ہیں ۔

مگر  اب حالات ویسے نہیں رہے جیسے ۱۹۸۰کی دھائی میں تھے ۔تب تو ان  ترقی یافتہ ملکوں کی آبادیاں ان کے وسائل کے مقابلے میں چھوٹی تھیں اور سوشلزم کا بول بالا  بھی تھا ۔ ان ملکوں نے اپنے شہریوں کو اگر سہولتیں دی تھیں تو ان سے بھر پور کام بھی لیا جاتا تھا اور لیا جاتا ہے ۔پیسے کو محنت کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے ناں پہلے پیسہ درختوں پر اگتا تھا ناں اب ۔یہاں انسان اپنی محنت سے اپنی ضرورت کو پورا کرتا آیا ہے ۔

مگر پاکستان کی تاریخ میں کوئی دور بھی نہیں آیا جس میں شہریوں کو کبھی سکون کا سانس ملا ہو ۔سوشلزم کی تحریک تو دور کی بات اگر انسانی قدروں کے تحفظ کا  کبھی کوئی دور  یا لہر بھی آئی ہواس کے شواہد بھی نہیں ملتے ۔بلکہ فوج داری اور  ستر اور اسی کی دہائی میں ضیا الحق کا اسلامی دور پاکستانیوں کی آنی والی نسلوں کو انسانی معیار سے کمتر زندگی گزارنا ورثہ میں  دےگیا ہے۔

جنرل ضیا نے نہ صرف عورتوں کی سماجی اور معاشی ترقی روکی ، بلکہ مرد حضرات کی بھی زبردستی  برین واشنگ کی گئی تھی۔اور سرعام سزاوں کو نافذ کر کے عام عوام کو باور کروایا گیا تھا کہ خدا کی لاٹھی بہت زبردست ہے ۔جس کی وجہ سےنہ صرف ترقی یافتہ خیال رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی بلکہ تعلیم میں بجا عربی اسلامی نصاب کو نافذ کرنا لوگوں کو ہزاروں سال پیچھے لے گیا ۔اسی لیے  ہمارے نوجوان  ہوں یا بالغ افراد ان میں  کسی بھی موضوع پر مفید گفتگو کرتے کم ہی سنا جاتا ہے  ۔ بلکہ انفرادی طور پر  تحقیق کر کے بات کرنے کا رحجان بھی   بہت  کم ہے  ۔

اس  ضیا الحق کے  اسلام کے چکر میں ہر شخص اور ہر رشتہ بیگانہ ہوا ہے اور ساتھ ہی تعلیم کا معیار بھی بہتر نہ ہو سکا ہے ۔چونکہ تعلیمی نصاب میں روایات اور اخلاقیات کا سبق زیادہ رہا ہے اور ساتھ ہی معاشرہ تعلیم کو زیادہ تر  افسری نظام کے لئے سیکھتا ہے جوکہ کلاس سسٹم کو بہت تقویت دیتا ہے اور جس کی وجہ سے ہنر والے پیشوں کی تعلیم  کم اور  غیر  معیاری ہے  ساتھ ہی سکولوں کالجز کی تعلیم کو ملک کی ضروریات کے مطابق  پلان  ہی نہیں کیا جاتا   اور نہ ہی  آئندہ آنے والوں سالوں میں ممکن ہو گا  ۔کیونکہ حکومتئ سطح پر ملکی ڈھانچے کو بنانے کے لیے غیر ملکی کمپنیز کو ہائیر کیا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے پاکستانی نوجوان اپنے ہی ملک  کے اندر اپنے ہنر کو استعمال کرنے اور بہتر بنانے میں کامیاب نہیں  ہو رہا یا ہو  سکے گا ۔

غیر ملکی کمپنیز  نوجوان  کو افرادی قوت کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔نہ کے ان کی گاہے بگاہے تعلیم و تربیت بھی  کریں ۔ پاکستان ابھی تک  تعلیم کو مساوی بنیاد پر معاشرے میں متعارف  ہی نہیں کروا  سکا ابھی تک وہی مرد اور عورت کے مختلف کرداروں کے مطابق تربیت کی جارہی ہے ۔جہاں کہیں نوجوان لڑکی اور لڑکا مخلوط تعلیم کے ذریعے وسائل کو بچانے اور برابر کی تعلیم کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہے وہاں مذہب کا استعمال کر کے اسکو بدنام کر دیا جاتا ہے ۔

چونکہ تعلیم ابھی مساوی بنیادوں پر نہیں ہے اگر چند لڑکیاں یا خواتین ایسے مضامین کا انتخاب کرتیں بھی  ہیں  جن میں پر یکٹیکل کے لئے فیلڈ ورک چاہئے وہاں لڑکیوں کے لئے  مناسب مواقع بھی نہیں کہ وہ دن یا رات کے ہر طرح کے اوقت کار اور  ہر موسم میں اپنی پڑھائی کے متعلقہ تمام کام   محفوظ ماحول میں پورا کر سکیں ۔نوجوانوں کے لئے ٹرانسپورٹ بھی مناسب اور کم قیمت پر نہیں جو وہ اپنے تعلیمی اداروں تک   با آسانی پہنچ پائیں ۔صرف نوجوان ہی نہیں روزگار رکھنے والے مرد اور خواتین کے لئے بھی  مناسب ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں حالانکہ وہ اپنا ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں ۔

ہمارے ہاں  انسان کے مسائل کا حل  سائنسی یا انسانی بنیادوں پر نہیں ڈھونڈا جاتا بلکہ دین  اور خدا کے نام پر التوا میں ڈال دئیے جاتے ہیں ۔پاکستان کی حکومت  ہمیشہ سرمایہ داروں کی رہی ہے اورعام  لوگ  بھی ذات برادری سے باہر نکل ہی نہیں پائے ۔اس لیے وہ اپنے حکمران بھی اعلی خاندانوں سے ہی چننا پسند کرتے ہیں۔اجتماعی کوشش کا پاکستان کے سماج میں کوئی رحجان   نہیں اسی فقدان کی وجہ سے  افراد ملک سے باہر ترقی یافتہ ملکوں میں آ کر بسنا چاہتے ہیں۔

مگر یاد رہے کہ اب ترقی یافتہ ملک بھی سوشلزم کے چکر سے نکل کر لبرل  سرمایہ داری میں آ گئے ہیں اس لیے اب اپنے ملک پاکستان  کو ہی باہمی تعاون سے بہتر بنا نا ہی عقل مندی ہو  گی  اگر سوچا  جائے تو بیس کروڑ کی آبادی مٹھی بھر حکمرانوں کے لیے کم تو نہیں  ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *