رحم دل وزیراعظم اور فرات کے کنارے نہ مرنے والاکتا

طارق احمدمرزا

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پتہ چلا ہے کہ وزیراعظم رحم دل انسان ہیں۔یہ انکشاف وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیاافتخاردرانی نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے وزیراعظم نے ہدایت جاری فرمائی ہے کہ آئندہ کبھی بھی بچوں کے سامنے ان کے والدین کو پلس مقابلہ میں گولیاں نہ ماری جائیںوزیراعظم رحمدل ہیں اور اس واقعہ کے نتیجے میںصدمہ میں مبتلا ہیں اور بہت افسردہ ۔ ادھر پنجاب اسمبلی کے قائدحزب اختلاف جناب حمزہ شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی قانون سازی کی جائے کہ ساہی وال جیساواقعہ دوبارہ نہ ہو۔

قارئین کرام اول الذکرخبر کو پڑھ کر مجھے بے اختیارہلاکوخان یاد آگیا۔کسی نے ہلاکوخان کا ’’انٹرویو‘‘لیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ کو کسی بنی آدم پر رحم بھی آیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں۔ایک مرتبہ میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جس کا بچہ نہرمیں گرگیا تھا اورپانی کے ریلے میںہاتھ پاؤں مارتا بہتاچلا جا رہا تھااور وہ بیچاری بے بسی سے مدد کے لئے چیختی پکارتی نہر کے کنارے پرساتھ ساتھ دوڑتی جارہی تھی۔مجھے بڑا ترس آیامیں نے گھوڑا دوڑاکرنیزے کی انی میں بچے کو پروکر نہر سے با ہر نکالااور اس کی ماں کے حوالے کردیا۔کون کہتاہے میں بے رحم ہوں۔

اور پھر اسی طرح مجھے ہٹلر کی رحمدلی بھی یاد آئی۔وہ بھی بہت رحمدل تھا۔یہودی والدین کوگیس چیمبرمیں بند کرنے سے پہلے ان کے بچوں کو الگ کرکے کنسنٹریشن کیمپوں میں منتقل کردیا کرتاتھا۔تاکہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو نہ ماراجائے۔

اورپھر مجھے نقیب اللہ محسودکے قاتلوں کی رحمدلی بھی یاد آگئی۔انہوں نے نقیب اللہ کو اس کے تین کم سن بچوں کے سامنے نہیں بلکہ مبینہ طورپر ان سے کافی دور رکھ کر کئی دنوں کے بعدگولیاں ماری تھیں۔اس دوران اس کے بچے ویسے ہی اپنے باپ کی عدم موجودگی کے عادی ہوچکے تھے۔کتنے ذہین اور رحمدل تھے نقیب اللہ کے قاتل !۔

غالباً ساہی وال واقعہ سے موجودہ حکمرانوں کو اپنی رحمدلی کی ریٹنگ کی فکر پڑ گئی ہے۔آناًفاناً ہی نقیب اللہ کے قاتلوں کی ریٹنگ بہت اونچی چلی گئی ہے۔ موجودہ حکمران سمجھتے ہوں گے کہ لوگ کیا کہیں گے گزشتہ دور کی حکومتیں زیادہ رحم دل تھیں ،بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں ہرگز نہیں مارتی تھیں۔اس کافوری اثر زائل کرنے کے لئے پہلے تو وفاقی معاون کے ذریعہ یہ انکشاف کروایا گیا کہ موجودہ وزیر اعظم ایک رحم دل انسان ہیں۔بچوں کے سامنے والدین کو گولیاںمارنے کے واقعہ پہ بہت افسردہ ہیں۔

اس کے بعد اگلے مرحلہ میں جیسا کہ حمزہ شہبازنے بیان دیا ہے کہ آئندہ ساہی وال جیسا واقعہ کبھی نہ ہو،تو اس کے لئے نئی قانون سازی کی جائے گی۔

یہ قانون سازی کیسی ہوگی،اس سلسلہ میں ہمارے ممبران قومی یا صوبائی اسمبلی مندرجہ ذیل تجاویزپیش کر سکتے ہیں

تجویزنمبر ۱:پلس مقابلہ سے پہلے بچوں کو ان کے مشتبہ والدین سے جدا کرکے میک ڈونلڈ میں برگراور آئس کریم کھلانے کے بہانے لے جانالازمی ہوگا۔ جس کے بعد جس طرح مناسب ہو والدین کو گولی ماردی جائے۔ اگر میک ڈونلڈ لے کر جانا ناممکن ہوتو بچوں کو چند گز دور لے جا کر انہیں آسمان پہ اڑتی چڑیا دکھائی جائے۔جونہی وہ آسمان کی طرف نظر دوڑائیں اسی وقت ان کے والدین کو گولی مار دی جائے۔اس طرح عدالت میں ان کی نظروں کے سامنے ان کے والدین کا قتل ثابت کیاجاناناممکن ہوگا ۔پولیس کو بارباریاددہانی کروائی جائے کہ وزیراعظم ایک رحمدل انسان ہیں انہیں دوبارہ افسردہ نہ ہونے دیا جائے۔

تجویز نمبر۲:نقیب اللہ محسود کیس کی طرز پر چاروں صوبوں کی پولیس ٹریننگ لے اور انہی خطوط پر’’پلس مقابلہ‘‘ کی منصوبہ سازی کرے تاکہ آئیندہ کوئی بھی مشتبہ دہشت گرداپنے بچوں کے سامنے قتل نہ ہوسکے۔کم ازکم اپنے رحمدل وزیر اعظم کا ہی لحاظ کریں۔

تجویزنمبر ۳:مشتبہ والدین کو ان کے گھروں سے اٹھاکر لاپتہ کردیاجائے۔ان کے بچے اپنے والدین کی اس ’’جبری‘‘ گمشدگی کا مقدمہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کے نام درج کرواکر ساری عمراحتجاجی کیمپ لگائیں ، چیف جسٹس کی گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے منہ کے بل گرکردانت تڑوائیں یا کسی پروٹوکول والی گاڑی کے نیچے آکر روندے جائیں ان کا اپنامعاملہ ہوگا۔بہرحال لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے تک ان کے بچے کافی سمجھداراور صابروشاکر بن چکے ہوتے ہیں۔اور خود بھی لاپتہ ہونے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں ۔یہ سب سے بہترین طریقہ ہے مشتبہ افراد سے نبٹنے کا۔سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ورنہ یاد رکھیں وزیراعظم رحمد ل انسان ہیں،زیادہ صدمات برداشت نہیں کرسکتے۔

تجویز نمبر۴:اگر پلس مقابلہ اس قسم کا ہوجیساکہ اسامہ بن لادن والاہواتھاتو امریکی سنائپر کی تکنیک کو اپنایاجائے۔ایک ہاتھ سے بچے کو دبوچ کراس کا چہرہ اپنے سینے سے لگالیں،دوسرے ہاتھ سے فائرکرکے باپ کا بھیجا ہوامیں اڑادیں اور ساتھ ہی بچے کو فٹ بال کی طرح اس کی ماں کی گود میں پھینک دیں۔لیکن اس قسم کی پھرتی موٹے پیٹ اورسوکھے ہوئے کولہوں والی پاکستانی پولیس نہیں دکھا سکتی۔اس لئے باپ کوگولی مارنے سے پہلے ماں سے کہیں کہ بچے کا چہرہ اپنی گود میں چھپالے۔کیونکہ ہمارے وزیراعظم بہت ہی رحمدل انسان ہیں۔انہوں نے سختی سے حکم دیا ہے کہ آئندہ بچوں کی نظروںکے سامنے ان کے والدیاوالدین کو گولی نہ ماری جائے۔بچے ویسے بھی سچے ہوتے ہیں،خاص کر سہمے ہوئے اور وہ میڈیا کوسب کچھ سچ سچ بتادیتے ہیں۔ ساراکیس خراب ہوجاتا ہے۔

تجویزنمبر۵:کسی بھی مشتبہ کو پلس مقابلہ میں گولی مارناممنوع قراردے دیا جائے،خواہ یہ مقابلہ اصلی ہو یانقلی۔ایک تو یہ کہ اس سے کافی ساری گولیاں بچیں گی،دوسرے یہ کہ جملہ مشتبہ افراد تو چلتی پھرتی لاشیں ہیں، لاشوں کو کیاگولیاں مارنا۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ جلدیابدیر، کیا مشتبہ اور کیا غیرمشتبہ ،سب پاکستانی عوام ملاوٹ والی خوراک کھاکر،فضلہ ملاپانی پی کر،ڈینگی ،ہیپیٹاٹس ،ہیضۃ،ٹائیفائڈ ، ٹی بی،شوگر،فالج کاشکارہوکر،ڈاکٹروں کی غفلت سے،حادثات میں یا غربت اور بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرکے دنیا سے رخصت ہوجائیں گے اور خواہ اپنے فاقہ زدہ سٹنٹڈ گروتھ والے بچوں کی آنکھوں کے سامنے ہی رخصت ہوں ،حکومت کی ریٹنگ پہ بھی کو ئی حرف نہیں آئے گااور وزیراعظم بھی افسردہ نہیں ہونگے۔(افسردہ ہونے والے ہوتے توافتخاردرانی صاحب ہرچندمنٹ بعدمیڈیاکو ان کی ایک نئی افسردگی کی خبردے رہے ہوتے !)۔

تجویزنمبر۶:ساہی وال ہو یاکراچی،ان واقعات پہ افسردہ ہونے یاقانون سازی کرنے کی ضرورت نہیں۔یادرکھیں پاکستانی والدین نے ہمیشہ اپنے بچوں کے سامنے ہی گولیاں کھاتے ہوئے ماراجاناہے۔یہ گولیاں اگر پولیس کی نہیں ہونگی تودہشت گردوں کی ہوںگی ،دہشت گردوںکی نہیں ہونگی توجعلی گولیاں ہوں گی،جعلی نہیں ہونگی تو زہر والی گولیاں تو ہونگی ہی ۔

قارئین کرام ،ا س تحریر کو طنزومزاح ،توہین،تنقید یا ہجوہرگزنہ سمجھاجائے۔یہ شہرآشوب ہے ،شہرآشوب۔ پاکستانی عوام سے تو دریائے فرات کے کنارے مرنے والابھوکاکتا ہی اچھا تھاجس کاذکراسلامی جمہوریہ کے حکمرانوں کی تقریروں میں آج تک زندہ چلا آرہا ہے۔پاکستانی عوام اور ان کے بچے بھوکے کیڑے مکوڑوں کی طرح ہی مرتے چلے جارہیں لیکن کیڑے نمابچوں کی آنکھوں کے سامنے بھوک سے مرتے ان کے والدین میں سے کسی زیدعمریابکر کا نام آج تک کسی وزیراعظم نے اپنی تقریرمیں لیاہے؟۔

اگرلیا ہے توفرات کے کنارے مرنے والے کتے کا ہی لیا ہے جوشاید بھوک سے مرابھی نہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *