جی ایم سید اور محسن سلیم

حسن مجتبیٰ


خوابوں میں بچھڑے فاصلوں کے روبرو آنے کا نام”

میرا دوست محسن سلیم اردو کا زبردست شاعر ہے۔ کل تک نوجوان شاعر۔ محسن کا تعلق اردوبولنے والے سندھی گھرانے سے ہے۔  حیدرآباد اسکا جنم شہر ہے۔ وہ کراچی کے ڈرگ روڈ، ڈرگ یا شاہ فیصل کالونی، ملیر، کلفٹن میں پلا بڑھا ہے۔ یہ واقعی وہ بچہ ہے جو دس سال کی عمر سے گھر سے نکلا پھر کبھی کبھار ہی واپس گھر کو لوٹا۔ میں اور محسن بالکل منیر نیازی کے اس شعر کے لوگوں کی طرح ہیں کہ

اپنے گھر سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو

کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا۔

میں اور محسن بہت عرصے تک پکے قلعے کے بیچ علاقے میں ایک بھوت بلڈنگ کی ایک  کھولی میں ساتھ رہے ہیں۔ اسوقت بھی جب محسن اور میری عمر کے لوگ “حقوق یا  موت” کے دیواروں پہ لکھے نعروں سے متاثر ہوکر قائد کے جیالوں میں شامل ہو رہے تھے۔ لیکن محسن پر ایسی لڑائی مار کٹائی والی آرٹ فلموں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ایک رات میں نے  محسن کی اس کھولی کی چھت سے پکے قلعے  کے قریب و جوار میں پولیس اور لڑکوں کے درمیان بہت ہی خوفناک آنکھ مچولی ہوتے دیکھی تھی۔

آخرکار پولیس بے چاری کو پسپا ہونا پڑا تھا۔ ساری رات بجلی کٹی رہی تھی۔ قلعے کے آجو باجو آگ جل رہی تھی۔ صبح کو دیکھا کہ ان لڑکوں  جنہیں انکے چاہنے والے صحافی انگریزی میں “ٹریگر ہیپی یوتھ”  لکھا کرتے تھےنے  پکے قلعے کے اندر محکمہ آٗثار قدیمہ کے دفتر کو آگ لگادی تھی اور اس میں نوادرات کی رکھی تجوری کو فتح کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے اور صبح سویر لوٹ کر چلے گئے تھے۔

اب یہ قدیم سندھ سے تعلق رکھنے والے نوادرات سے لٹی تجوری بے سرو سامان مہاجر کی طرح  رہ داری میں پڑی تھی۔  اس پر مکھی ہاوس کی دیواریں نوحہ کناں تھیں کہ پھر سے جاری ٹریفک کہ گویا رات کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اس شہر میں ایسی پھر کئی راتیں آئیں۔ ہنگاموں اور لوٹ مار سے بھرپور۔

یہ محسن سلیم کی بغیر بجلی کی کھولی والی عمارت جہاں میں اسکا مہمان ہوتا کی چھت اور پڑوسی کیا عجب لوگ تھے۔ یہاں حیدرآباد کے اسٹیج ڈراموں کا معروف اداکار اور پیشے کے لحاظ سے پولیس کانسٹیبل ایم یم بلوچ بھی رہتا تھا، بابو بھائی نامی کسی مشہور نہاری کے ہوٹل پر کام کرنے والا بیرا بھی اور یک  دلچسپ کردار بسم اللہ بھائی بھی رہتا تھا۔

ایم ایم بلوچ جس کو اپنے پیشہ سپاہ گری سے زیادہ شوق اپنے اسٹیج ڈراموں اور شہر کے ابھرتے ڈوبتے نئے پرانے چہروں سے تھا جو ہر شام گاڑی کھاتہ کے سلطان ہوٹل پر جمع ہوتے ۔ بسم اللہ بھائی جو تھے وہ ایک ہی کام جانتے تھے وہ تھا سیاسی جلسوں جلوسوں اور سماجی تقریبوں میں کرایے پر تقریریں اور شعر گوئی۔ یعنی کہ ہماری طرح ہوائی روزی۔ بسم اللہ بھائی کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ کس سیاسی پارٹی کا جلسہ جلوس ہے یا تقریب شادی کی ہے یا غمی کی ۔ بس انکے پاس حسب فرمائش و موقعہ تقریر، نظم ، قٓصیدہ ، نوحہ چاہے سہرا ٹھک سے تیار ہوتے تھے۔

بسم اللہ بھائی سائیڈ آرڈر یا گریبی میں  فی البدیہہ نعرے بھی تیار کرتے تھے۔ حیدرآباد کی رات جیسی خوبصورت شب دنیا میں کہیں بھی نہیں سوئٹزرلینڈ میں بھی نہیں۔ کہ گرمیوں بھی اس بھوت بلڈنگ نما  عمارت میں  بغیر بجلی کے رات کو ہم لوگ اسکی کھلی چھت پر اکٹھے ہوتے اور  اپنے دن کی اپنی اپنی  کار گذاری کے قصے کہانیوں کو  وہ لوگ گویا اپنی اپنی جیبوں سے ریزگاری کی طرح ان چٹایوں اور اپنے بستروں پر انڈیلتے جن کی کچھ چونیاں ہم اپنے کانوں میں اینٹھ لیتے۔ جو کہ انکی باتوں کی یہ چونیاں آج بھی میرے کانوں میں اینٹھی  ہوئی ہیں۔

یہ ایم کیو ایم کے ابھرنے اور ضیا کی آمریت کی بھرپور جوانی کے دن کی سیاہ راتیں تھیں ۔ بسم اللہ بھائی کا کاروباراریب قریب ٹھپ ہوچکا  تھا کہ سیاسی سرگرمیاں تو چاردیواریوں میں بھی اکثر نہیں کی جا سکتی تھیں۔ لیکن ایم ایم بلوچ کی پہلے سے ہی ہیوی ڈیوٹی بڑھتی گئی تھی کہ آئے دن جلسے جلوس اور ان پر لاٹھی چارج وغیرہ ہوتی رہتی۔ ہنگاموں کا دور دورہ تھا۔ ہم بھائی خان کی چاڑھی اور پکہ قلعہ کے بیچ میں رہتے تھے۔ رہتے کیا تھے بس پرندوں کی طرح رات کو بسیرا کرتے۔ ان ہی راتوں میں گھروں سے ٹیلی ویثرن پر اس زمانے میں میڈم نورجہاں کی آواز میں آتی ہوئی  وہ غزل آج بھی دل کو چھید کیے ہوئے ہے:۔

میں تیرے سنگ کیسے چلوں ساجنا

تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا۔

میں اور محسن زیادہ تر شعر شاعری ایک دوسرے کو سناتے۔ خوب اردو ادب اور سندھی کی کتابیں پڑھتے اور باقی آوارہ گردیاں کرتے وہ بھی ایسی ویسی۔ بقول احمد فراز:۔

یہ زخم ہیں ان دنوں کی یادیں

جب آ پ سے دوستی بڑی تھی

چاوڑی کے نیچے کیفے فردوس یا پھر اسٹیشن روڈ پر حبیب ہوٹل  پر اٹھنے بیٹھنے  والے شعرا اور انجمن قاتلان شب میں ہمارے ہمراہ یا ہم ان کے ہمراہ ہو  لیتے وہ اردو نظم کے نہایت ہی جدید شاعر اور پیارے انسان احسن سلیم تھے۔ احسن سلیم کسی بنک میں کام کرتے تھے۔ انکی ایک نظم کی سطر ہے ۔

جوئے میں ہاری ہوئی آنکھیں” ۔

یا کہ “کبوتروں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں

کہ وہ مسجد کے دھوپ زدہ صحن میں کھلی مباشرت کرتے ہیں”

 کیا نظم کہی تھی اس نے۔ الا! کہ یہ خوبصورت انسان اور شاعر احسن سلیم مر گیا جس نے لکھا تھا:۔

موت میٹھی چاندنی

شبنم سے  بھیگے  جسم پر

پھولوں   کی چادر اوڑھ کر

خوابوں میں بچھڑے فاصلوں

کے روبرو آنے کا نام۔۔

پکے قلعے والی چڑھائی پر صبح شام سنگ مرمر  کے پتھروں پر قبروں  کے کتبے بنانے والے کاریگروں کے ہاتھوں میں چھیننیوں اور ہتھوڑیوں کی آوازیں مسلسل بہتی موسیقی کی طرح  آر ہی ہوتی ہیں۔ وہاں ایسے کتبوں کے بنانے والوں میں اردو کا ایک لاجواب غزل اور نعت کا شاعر بھی تھا اور شاید اب بھی ہو۔ ایک شاعر اور بھی تھا۔ وہ تھا تو ہمارا دوست لیکن اسے پتہ نہیں کیا عود کر آئی  اس نے ضیا الحق کی مدح میں بھی ایک شعر لکھ مارا تھا۔

۔’’اے ضیا الحق تمہارے نام کا روشن چراغ۔۔۔

اس شہر میں ضیا الحق کا مداح صرف قیوم چریا  ہی نہیں تھا۔

لیکن محسن مہران پر شعر لکھتا رہا۔

وہ بھی کیا انسان تھے۔ نا مساعد حالات کتنے بھی ہو لیکن ادبی رسالہ نئی قدریں نکالتے رہے۔ فنون اوراق نیا دور، اور نئی قدریں یہ ان دنوں کے

ادبی جریدے تھے۔

جب ملک ہوا تقسیم

اپنے کو کیا ملا یارو

ایک اختر انصاری

وہ بھی اکبر آبادی۔

بس یارو اپن کو محسن سلیم ملا۔

قصہ المختصر جو آج مجھے جو کرنا ہے کہ پھر محسن سلیم کی دوستی مجھ سے زیادہ سندھی قوم پرستوں سے ہو گئی۔ اردو ادب کے ساتھ وہ سندھی ادبکے بھی رسیا ہوگئے۔ پھر میں نے دیکھا انکی محبت سندھو دریا سے اور اسکے پار ببول کے درخت تلے بیٹھے   اتنے ہی بوڑھے  مہا ساگر جی ایم سید سے ہو گئی۔  محسن سلیم بھی اپنے بھائی لوگوں (خون کے رشتوں والے) کی طرح چاہتا تو وہ پکے قلعے اور چاوڑی کے اردگرد کی تنظیم ایم کیو ایم  سے متاثر ہوتا  لیکن اس نے اپنا قبلہ سن (جی ایم سید کا گاوں)  کو مانا۔محسن اکیلا نہیں تھا۔ ایسے کئی تھے۔یعنی کہ “ان آنکھوں کی مستی کے میخانے ہزاروں ہیں۔

کچھ روز قبل  پھر اس میخانے پر کئی ہزار میخوار اکٹھے  ہوئے ہیں کہ اس سندھو دریا کے پار ایک اور  انسانی سندھو دریا کی سالگرہ تھی ۔

سترہجنوری۔ محسن اکیلا نہیں ایسے کئی بے شمار اردو بولنے والے سندھی یا کئی  زبانیں بولنے والے  لوگ اس صوفی لاکوفی لیڈر کے چاہنے والے ہیں ۔ ان پر پھر کبھی سہی۔

آج وہ سب یو ٹیوب بن گیا جو کل حیدرآباد میں ہواوں کی لہروں پر دور کسی گھر سے ٹیلی ویثرن سے آرہا ہوتا تھا:۔

ہوا چلی بھی نہیں اور بکھر گئے ہم تم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *