زندگی سے موت تک کا سفر

شبانہ نسیم

(انگریز دور کے ایک مقدمے کی روداد)

جون 1917ءکی گرم صبح آٹھ بجے کمرہ عدالت لوگوں سے کچھا کھچ بھرا ہواہے اور ان کی آپسی کھسرپھسر ایسی محسوس ہو رہی ہے جیسے بہت سی مکھیاں اپنی پسندیدہ خوراک کے مل جانے کے باعث اس پر ٹوٹ پڑی ہوں اور خوشی سے شور مچارہی ہوں ۔اچانک جج صاحب کے چیمبر کا دروازہ کھلتا ہے تو لمحے بھر کیلئے کمرے میں سکوت چھاتا ہے لیکن پھر سے وہی بھنبناہٹ اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے جسے جج صاحب اپنا ہتھوڑا مار کر خاموش کراتے ہیں ۔لوگ اب اشارے کنایوں میں ایک دوسرے سے مخاطب ہیں ۔

دراصل آج کمرہ عدالت میں شہر کی کئی طوائفیں اپنی ایک مار دی جانے والی ساتھی کے قتل کی گواہی دینے کیلئے جمع ہیں ۔ جیسے ہی گھڑی آٹھ بجکر دس منٹ بجاتی ہے تو ساتھ ہی عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے ۔سب سے پہلے گلنار بائی نامی خاتون کو کٹہرے میں طلب کیا جاتا ہے اور اسے وہ بیان کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جو اس نے کوہ نور بائی کے قتل سے پہلے اور بعد میں دیکھا ۔گلنار بائی ایک تیس سالہ خوبرو خاتون ہے تاہم اس کی کلائیاں جابجا نشانات سے بھری ہوئی ہیں ۔جسم کے کٹنے اور جلائے جانے کے نشانات اگرچہ بڑی حد تک مندمل ہو چکے ہیں لیکن ان کی لمبائی کا اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ کہنی سے آگے جا کر قمیض کی آستین میں غائب ہو چکے ہیں۔

گلنار بیگم کاجسم عدالت میں موجود زیادہ تر نیک افراد کی رائے کے مطابق چلتا پھرتا دعوت گناہ ہے چونکہ اسکا سینہ بڑی حد تک ابھرا اور تنا ہوا ہے ۔ کچھ ایسے مسکین بھی یہاں موجود ہیں جو اس کے حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے بیٹھ چکے ہیں تاکہ کہیں ان کی شرافت کا جنازہ ان کے لباس کے ابھار سے ہی نکل جائے۔ گلنار ایک بے حد تیز طرار کوٹھے والی کی طرح پان چبا کر آئی ہے تاہم عدالت کے احترام میں ابھی اس کے منہ گلوری نہیں لیکن اسے اس کی شدید طلب ہے ۔ جج صاحب اس سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں بی بی بتاؤ اس دن تم نے کیا دیکھا۔ گلنار کچھ فکر مند دکھائی دیتی ہے اور کمرہ عدالت میں ادھر ادھر نظر دوڑاتی ہے جیسے کوئی ان دیکھی طاقت اسے ڈرا رہی ہو ۔

جج صاحب اس مرتبہ اس کی ہمت بندھا کر کہتے ہیں کہ اسے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ محفوظ ہے ۔ گلنار جوکہ اپنی ساتھی کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا ارادہ کر چکی ہے ہمت باندھ کر بیان کر نے لگتی ہے ۔گلنار بیگم کہتی ہے میرا نام کبھی فاطمہ تھا لیکن اب گلنار بائی ہے ہم تین کم سن لڑکیاں تھیں جب ہمیں اس کوٹھے پر لایا گیا ۔تین لڑکیاں بعد میں لائی گئیں ہم سبھی تقریباًہم عمر تھیں لیکن کوہ نور ہم میں چھوٹی تھی ۔ ہم سلیمان نامی شخص اس کی بیوی زرینہ اور بیٹی آرزو کے کوٹھے پر کام کرتی ہیں ۔ اس کوٹھے کا نام سرور محل ہے جس کے تین فلور ہیں پہلے فلور پر سلیما ن اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے دوسرے فلور پر چار کمرے ہیں جنھیں بیڈ رومز کے طور پر سجایا گیا ہے وہ ہمارے دھندے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور تیسرے فلور پر ایک بڑا سا ہال ہے جسے ایک بڑے کمرے کی شکل میں تعمیر کیا گیا اور اس کا ایک اکلوتا دروازہ ہے جس سے ہمیں اندر داخل کیا جاتا ہے یا کام کیلئے باہر نکالا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اس کمرے میں ایک سوراخ بھی نہیں ہے ہمیں سورج کی روشنی بھی دیکھنے کی اجازت نہیں ہے اس گھر میں باورچن تارا بائی بھی ہے جو ہمارے کیلئے کھانا پکاتی ہے ۔ وکیل استغاثہ سوال کرتا ہے کہ تم لوگ وہاں سے بھاگ کیوں نہیں جاتیں آج بھی تو عدالت آئی ہو اس سے پہلے کیوں قانون کی مدد نہیں لی اگر تم وہاں قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو؟ اس پرگلنار بیگم بتاتی ہے کہ ان میں اگر کبھی کسی لڑکی کے منہ سے بھی ایسی بات نکل جائے تو سزا کے طور پرسلیمان کسی برتن میں پیشاب کرکے اپنی بیوی اور بیٹی کی مدد سے انھیں زبردستی پلاتا ہے اور اگر کوئی نا پیئے تو اس پر وحشیانہ تشدد کیا جاتا ہے ۔اس نے بتایا کہ ہمارے جسم کا صرف وہ حصہ جو کسی مرد کے استعمال کی جگہ ہے بس وہی مار سے بچا ہوا اس کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر زخم نہ لگائے گئے ہوں اگر یقین نہیں ہے تو میں اپنے کپڑے اتار کر بھی دکھا سکتی ہوں جس پر کمرہ عدالت میں یک بیک استغفار اور گشتی عورت کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں جنھیں جج صاحب اپنے ہتھوڑے کے بل پر قابو کرتے ہیں ۔

گلنار پھر سے شروع ہوتی ہے اور بتاتی ہے کہ انیس فروری کی سہہ پہر جب کوہ نور کے کمرے میں تیسرا کسٹمر جاتا ہے تو وہ اسے بتاتی ہے کہ وہ بیمار ہے اور اس قابل نہیں کہ اس کے ساتھ ہم بستری کر سکے ۔ وہ شخص یہ بات سن کر باہر آجاتا ہے اور آرزوجو کہ خود بھی ایک جسم فروش عورت ہے مگر کوٹھے مالکان کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اسے ان چھ خواتین کی انچارج بنایا گیا ہے ۔دوپہر دو بجے سے لیکر رات گئے تک اس کی ڈیوٹی ہے کہ جیسے ہی کوئی کسٹمر آئے وہ اسے کمرے میں داخل کر کے باہر سے تالا لگائے اور جب وہ چلا جائے تو لڑکی کو اندر رکھ کر پھر سے تالا لگا دے لیکن جب وہ خود کسی کسٹمر کے ساتھ ہو تو یہ زمہ داری تارا بائی کے سپرد ہو جاتی ہے ۔پس جب کسٹمر نے باہر آکر آرزو کو یہ بتایا کہ کوہ نور بیمار ہے اور اس کا کام نہیں کر سکتی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی اور اسے کہا کہ وہ واپس جا کر غیر فطری طریقے سے اپنا کام پورا کرے لیکن اس شخص نے کہا کہ وہ اسے تنگ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی پیسے واپس لینا چاہتا ہے اور وہاں سے چلا جاتا ہے ۔

چونکہ اب وہ گلنار پر یقین کرنے لگے تھے اس لیئے اسے فارغ اوقات میں پہلے اور دوسرے فلور پر خاموشی سے گھومنے پھر نے کی اجازت حاصل تھی شایدیہی وجہ رہی ہو کہ اس نے یہ تمام ترکاروائی اپنی آنکھوں سے دیکھی ۔ گلنار ماتھے پر سوچ کی گہری لکیریں لئے پھر سے بات کا سلسلہ جوڑتے ہوئے کہتی ہے کہ اس شخص کے گھر سے جاتے ہی آرزو بھاگتی دوڑتی کوہ نور والے کمرے میں جاتی ہے اور اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتی ہوئی باہر لاتی ہے اور اس دھان پان سی لڑکی کو اپنی چھڑی جو اس نے بلا ضرورت لڑکیوں پر برسانے کیلئے رکھی ہوئی ہے دھنک کے رکھ دیتی ہے اور جب میری برداشت نے جواب دیدیا اور میں نے اس سے کہا کہ خدا کیلئے اسے چھوڑ دو یہ مر جائے گی تو اس نے اسی چھڑی سے میری دھلائی شروع کر دی اور میرے کپڑے اتروا کر مجھے تیسرے فلور پر اس قبر جیسے کمرے میں پھینک دیا اتنی مار کھا کر ٹھنڈے فرش پر وہ بھی بنا کسی کپڑے کے بیٹھنا۔

یہ کہتے ہوئے غیر ارادی طور پر گلنار بیگم کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے جیسے وہ جون کی گرمی میں بھی فروری کی اس رات کی سردی اپنے برہنہ دکھتے اعضاءپر محسوس کر رہی ہو۔ سسکی بھر کر وہ پھر سے کہنے لگی کہ اس رات پتہ نہیں کس وقت باقی لڑکیاں دھندے سے فارغ ہو کر کمرے میں سونے آئیں تو انھوں نے مجھے بیہوش پایا پھر مجھے گرم بستر میں ڈالا۔ جب مجھے ہوش آیا تو اس وقت رات کے دو بج رہے تھے چار لڑکیاں موہنی، نجی(نجمہ) ، سمی اور رانی میں ارد گرد کھڑی تھیں اور دور سے چیخوں کی آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی تھیں جیسے ہی میرا ذہن سوچنے سمجھے لائق ہوا توپہلا خیال مجھے نور کا ہی آیا میں نے بمشکل اپنی ساتھی لڑکیوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ شام سے ہی وقفے وقفے سے اسے پیٹا جا رہا ہے ۔خیر انہوں نے مجھے اشارے سے چپ رہنے اور سوجانے کا کہا جس کا مطلب صاف تھا کہ کمرے کے باہر ضرور کوئی ہے اور اگر ہم میں سے کسی نے بھی سونے کے علاوہ کوئی حرکت کی تو بہت برا سلوک ہوگا پس سب ہی سوتی بن گئیں ۔

صبح سلیمان نے آکر ہمیں اپنے پیر کی ٹھوکر سے جگایا تو ہم نے ایک طرف نور کو بھی کمرے کے فرش پر بیہوش پڑے پایا۔ اس کے جسم نے نچلے حصے پرایک سکرٹ نما کپڑا تھا جبکہ اوپری دھڑ بالکل برہنہ تھا اور اس کے بال بری طرح بے حال تھے جنھیں نوچ نوچ اس چوٹی سے نکالا گیا تھا ۔ اس کے جسم پر جابجا لچکیلی بید کی چھڑی سے بننے والے لمبے سرخ اور ابھرے ہوئے نشانات اور نیل تھے اس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور وہ مشکل سے سانس لے پا رہی تھی ۔یہ کوئی دن ایک بجے کا وقت تھا جب ہمیں گھر کے نچلے حصے میں لایا گیا ہمیں ناشتہ دیاگیا لیکن نور کو کچھ نہ دیا گیا ۔ بیس فروری دن دو بجے کے قریب سلیمان نے ہمیں ایک کمرے میں قید کر کے اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ مل کر نور کو اپنا پیشاب پلایا جسے وہ تھوکتی رہی اس دوران زرینہ نے نور کی ٹانگیں رسی سے باندھ کر اس کے بازو کس کے پکڑ رکھے تھے جبکہ آرزو نے اسے بالوں سے جکڑ رکھا تھا تاکہ وہ کوئی حرکت نہ کر سکے ۔

اتنے میں دھندے کا وقت ہو گیا اور کسٹمر آنے لگے انھوں نے لڑکیوں کو دوسری منزل پر کمروں میں بند کیا اور گاہکوں کو ایک ایک کر کے اندر بھیجنے لگے ۔سلیمان اور اس کی بیوی جب گاہکوں کے ساتھ مول تول میں مصروف تھے اور آرزو بھی کسٹمر کے ساتھ جا چکی تھی تو تارا بائی اس کمرے میں داخل ہوئی جہاں ایک طرف میں بند تھی جبکہ ہال میں نور بیٹھی تھی اس وقت اس کے جسم پر ایک پیلے رنگ کی ساڑھی تھی اور ناجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی کہ اس نے اٹھ کر خود تارا بائی سے کہا کہ وہ اسے چابیوں کا گھچھا دے جو آرزو اسے تھما کر گئی ہے تاکہ وہ تالا کھول کر اپنے کسٹمر کے ساتھ کمرے میں جا سکے ۔تارا بائی جو کہ باورچی خانے تک ہی محدود تھی گزشتہ ڈیڑھ دن سے جاری کاروائی سے یکسر لا علم تھی نے چابیاں اس کے حوالے کر دیں نور نے موقع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے باہر جاتی سیڑھیوں پر دوڑ لگا دی اتنے میں تارا بائی کو اس بات کا علم ہو گیا اور اس نے شور مچانا شروع کر دیا ۔

تارابائی کا شور سن کر سلیمان اور اس کی بیوی گلی میں شور کرنے لگے اتنے میں انکے پالتو دلال فضل اور رحیم بھی آگئے اور نور کے پیچھے بھاگے۔ اتنی مار کھائی ہوئی بھوکی لڑکی زیادہ دور نہ بھاگ سکی اور گر گئی سلیمان کے دونوں کارندے اسے اٹھا کر واپس لے گھر لے آئے۔جیسے ان دونوں نے نور کو ہال میں زمین پر پٹخا تو زرینہ اور آرزو نے اسے ٹھوکروں پر دھر لیا اور ایسی زبان کا استعمال کیا جسے سننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔اس پر وکیل استغاثہ نے پھر سے لقمہ دیا تم نے کچھ کیوں نہ کیا تم بھی تو وہیں تھی؟اس پر گلنار بیگم نے ہنکارہ بھرا اور گویا ہوئی کہ ایک تو میں کمرے بند تھی اور دوسرا ایسے حالات میں اونچی سانس بھی لینا میرے لئے جہنم کا دروازہ کھٹکھٹانے کے برابر تھا۔ ایک طویل سانس لینے کے بعد اس نے پھر سے سلسلہ کلام جوڑا اور بتایا کہ وہ کوئی شام آٹھ بجے کا وقت تھا جب نجو گھر میں داخل ہوا جس سے سلیمان نے ایک پیکٹ منگوایا تھا اس نے وہ پیکٹ کھول کر چیک کیا اور نجو کو پیسے دیے اور کہا کہ مال ٹھیک ہے اور اسے چلتا کیا۔

ایک طرف منہ میں پان کی گلوری نہ ہونے کے باعث گلنار کی حالت عجیب تھی تو دوسری طرف لوگوں نے اس کو گھور گھور کر مصیبت میں مبتلا کر رکھاتھا ۔ مگر چونکہ وہ تہیہ کر کے آئی تھی اس لئے بے چینی محسوس کرنے کے باوجود وہ اپنا کام مکمل کر رہی تھی جیسے یہ سب عدالت کو بتانا اس کا سب سے بڑا فرض ہے۔ لوگوں کی کاٹ دار نظروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نے ایک مرتبہ پھر کہنا شروع کیا کہ وہ بے آواز روتی پتہ نہیں کب اسی کمرے میں سو گئی اور اس کی آنکھ رات کے گیا رہ بجے پھر نور ہی کی چیخ سے کھلی جب وہ التجا کر رہی تھی کہ اسے اتنی سزا نہ دی جائے ۔بارہ بجے سبھی لڑکیوں کوگھر کے نچلے حصے میں لایا گیااور اسی کمرے میں بند کر دیا گیا جہا ں وہ خود قید تھی۔ اتنے میں ان تینوں نے نور کو موٹے بان سے بنی چارپائی پر اسی کی ساڑھی کے ساتھ باندھ دیا اس کی پوزیشن کچھ اس طرح تھی کہ اس کی دونوں ٹانگیں چارپائی کی دونوں لمبی لروں کے ساتھ بندھی ہوئے تھی بازو سرھانے کے پائیوں کے ساتھ بندھے تھے۔

پھر سلیمان ہاتھ میں وہی پیکٹ پکڑے اندر داخل ہوا جو شام کے وقت نجو نے اسے لا کر دیا تھا جب انھوں نے پیکٹ کھولا تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس میں کاسٹ سوڈا تھا۔ سلیمان نور کے پیٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور زرینہ کاسٹ سوڈے کی مٹھیاں بھر بھر کر اس کے پائیویٹ پارٹس میں ٹھونسنے لگی ہم اندر چیخنے لگیں مگر انھوں نے اپنا کام جاری رکھا البتہ نور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی۔جب وہ اس کے جسم میں اتنی بڑی مقدار میں اس قدر خطرناک مواد بھر چکے تو اسے چاپائی سے کھول کر رات تقریباًدو بجے اس کمرے میں پھینک گئے جہاں ہم تھیں اور یہ یاد دہانی بھی کرائی گئی کہ اگر کسی کو ایسی بیماری ہوئی اور اس نے ایسی حرکت کرنے کی کوشش کی تو انجام اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہوگا اور خاموشی سے سو رہنے کا کہا گیا۔ہم نے سونے کی اداکاری میں عافیت جانی ۔

اگلے دن صبح کے گیارہ بجے ہمیں جاگ جانے کا حکم ملا اس وقت نور تکلیف کے کرب سے کراہ رہی تھی۔ اتنے میں سلیمان پھر سے ایک گندے کپ میں پیشاب کرکے اسے پلانے کیلئے لے آیا،جس پر نور نے التجا کی کہ اسے پیشاب نہ پلایا جائے اس کے سینے میں شدید جلن ہے اسے سوڈا واٹر دیا جائے اس کی حالت چونکہ بڑی حد تک غیر ہو رہی تھی اس لئے سلیما ن نے اس کیلئے نجو سے سوڈا واٹر کی بوتل منگوائی لیکن وہ اس کے حلق سے نہ اتر سکی اور ادھر ادھر بہہ گئی پھر اس کے منہ میں شراب ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن اسے بھی وہ نہ پی سکی اور اسکا دم نکل گیا۔گلنار نے بتایا کہ اسے نورکی ہلاکت کا اس وقت پتہ چلا جب اس نے شام کے سات بجے سلیمان کو اپنے ساتھ میت اٹھانے والی ڈولی جسے چار مردوں نے اٹھا رکھا تھا لے کر گھر میں داخل ہوتے دیکھا ۔سلیمان کے ہاتھوں میں تدفین کیلئے استعمال ہونے والے سامان کا ایک تھیلا بھی تھا۔سلیمان اس کی بیوی اور بیٹی نے جتنی جلدی ممکن ہو سکتا تھا نور کی میت کو تیار کر کے گھر سے روانہ کر دیا ۔

لیکن گلی میں گشت کرتے سپاہیوں نے رات کی تاریکی میں خاموشی سے میت لے جانے والوں کو روک کر ان سے موت کی وجہ پوچھی اور شک کی بنیاد پر میت کو واپس کوٹھے پر لیجانے کا حکم دیا تاکہ وہ موت کی وجہ کے حوالے سے اپنی تسلی کر سکیں ۔اسی دوران یہ بات سامنے آئی کہ نور طبعی موت سے نہیں مری بلکہ اسے بھیانک موت خود دی گئی ہے ۔ اسی لمحے میں ہم لڑکیوں نے بھی اس موت کا حساب لینے کا ارادہ کیا اور اس ارادے کے باعث ہی میں آج یہاں لوگوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھری عدالت میں مجود ہوں ۔جج صاحب میں نہیں جانتی یہاں سے نکلنے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوگا مگر اب میرا دل اس حد تک تو مطمئن ہے کہ اگر میں اپنی ساتھی کی زندگی نہ بچا سکی تو کم از کم اس کے ساتھ اتنا برا سلوک کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر چکی ہوں ۔یہ کہ کر گلنار وٹنس باکس سے باہر آگئی اور جج نے مقدمے کو اگلی تاریخ کیلئے ایڈجرن کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *