شاہی شکاری، سفارت کاری اور پردیسی پرندوں کا قتل عام

حسن مجتبیٰ

بچپن میں ایک نظم پڑھی تھی، جس کی ایک سطر تھی ’’پرندوں اور پردیسیوں کے کیسے مسکن کیسے مدفن؟ تب تو یہ نظم سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب حالات دیکھتا ہوں تو خود کہنا پڑتا ہے،
پردیسی پرندوں کے کیسے مدفن کیسے مسکن؟

جی ہاں! پردیسی پرندہ بے چارہ تلور، جو کوئی چار لاکھ فضائی کلومیٹر عمودی اُڑان کے بعد پاکستان کے شاہی مہمانوں کے ہاتھوں شکار ہونے آتا ہے۔ پاکستان میں شکار کا موسم ہے اور خلیجی ریاستوں کے امیر ہوں کہ سعودی عرب کے شہزادے، وہ اپنے تربیت یافتہ شکروں اور بازوں کے ذریعے ان پردیسی پرندوں کا شکار کرتے ہیں۔ غیر ملکی مہمان اپنے خصوصی طیاروں میں آتے ہیں اور اپنی رینج رورز، لینڈ روورز اور جیپوں کے ہمراہ خیمہ زن ہوتے ہیں۔ پھر وہ رحیم یار خان کا گلمرگ ہو کہ چولستان، بھکر کہ جھنگ، سندھ کا خان گڑھ ہو کہ صحرائے تھر میں جت ترائی، ننگر پارکر ہو کہ بلوچستان کا سبی، ڈاھڈھر ہو یا پھر چاغی، خلیجی و سعودی شاہی شکاری اور ان کی فور وہیلز ایس یو ویز ملک کی ان حصوں کے گویا لینڈ اسکیپ کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔

اگرچہ سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کی ہوئی ہے لیکن شاہی مہمانوں کے شان میں تلور کا شکار لگتا ہے پیارے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے۔ لگتا یوں بھی ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں’’مثبت‘‘ خبر کا اطلاق نہ فقط ’انسانی شکار‘ بلکہ پرندوں کے شکار کی خبروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

پاکستانی میڈیا میں تلور کے بے دریغ شکار کی خبریں مکمل بلیک آؤٹ کر دی گئی ہیں۔ جب شاہی شکاریوں کا استقبال وزیر اعظم عمران خان خود وزیر اعظم ہاؤس میں کریں تو پھر کیسی خبر اور کہاں کی خبر؟

مجھے پاکستان میں سندھ کے شہر حیدر آباد سے صحافی اسحاق منگریو ٹیلیفون پر بتا رہا تھا۔ اسحاق منگریو ماحولیات اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کئی برسوں سے کام کر رہا ہے۔ وہ انیس سو نوے کی دہائی میں تلور کے شکار کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست گزار بھی رہا تھا۔

اس مرتبہ پردیسی تلور کے ’خونی استقبال‘ کو برادر ملکوں کے حکمران اور شیوخ خود اترے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمران ولی عہد محمد بن سلمان خود تو نہیں آئے لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ ترکی میں سعودی صحافی کے شکار پر شہزادہ خود ’پھنسا‘ ہوا تھا۔ گزشتہ برس سعودی شہزادے اور گورنر تبوک فہد بن عبدالعزیز کو اجازت نامہ جاری کیا گیا، جس نے دو سال قبل چند ہفتوں میں اکیس سو تلور شکار کیے تھے۔ تلور کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے میدانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں یہ پردیسی پرندے وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے آتے ہیں۔

قطر کے شہزادے تو کئی برسوں سے ننگر پارکر کے قریب کیمپ لگاتے آ رہے ہیں۔ گزشتہ برس جب تھر میں قحط آیا ہوا تھا، تو مقامی لوگوں کو ان کے جانوروں کے لیے چارہ اور ان کے لیے پانی و اناج بھی ایک شہزادے نے ہی مہیا کیا تھا۔ اسی سالہ قطری شہزادہ تلور کے گوشت کا شوقین بتایا جاتا ہے۔

لیکن خلیجی ریاستوں اور امیر عرب شیوخ و شہزادوں کا شکار و شوق بس اتنا ہی پرانا ہے، جتنی ان کی تیل سے پیدا ہونے والی اچانک خوشحالی۔ لیکن ان عرب شہزادوں اور حکمرانوں کے اس شوق سے اپنے ملک کی قسمت اور سیاست کو بدلنے اور اسے بطور ’سفارتی ہتھیار‘ استعمال کرنے کا رواج ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت میں ڈالا تھا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے امیر شیخ زاید بن سلطان النہیان کو شکار کی سہولت فراہم کرتے ہوئے انہیں رحیم یار خان کے علاقے میں محل اور ایئر اسٹرپ بنوا کر دی تھی۔ یہ اب بھٹو خاندان پر تحقیق کرنے والے لکھاریوں نے بھی لکھا ہے کہ اس سے شیخ زاید بن سلطان النہیان اتنا خوش ہوا کہ انہوں نے نہ فقط لاڑکانہ میں خواتین کے لیے شیخ زاید ہسپتال بنوایا بلکہ بھٹو خاندان کو دبئی میں مراعات بھی فراہم کیں۔

اسی طرح اس وقت کے یونائٹیڈ بنک کے سربراہ اور پھر بی سی سی آئی کے بانی آغا حسن عابدی نے بھی خلیجی حکمرانوں کے شوق و شکار کو اسی طرح بڑھاتے ہوئے اپنے بنکوں کو مضبوط کیا تھا۔ نواز شریف اور ان کے اس وقت کے احتساب بیورو کے سیف الرحمان کے قطر کے حکمرانوں سے تعلقات گویا اب قطری رسم الخط بن چکے ہیں۔ ریاستی ادارے بھی سول حکمرانوں سے پیچھے نہیں۔

رحیم یار خان، ٹھٹھہ کے پاس میرپور ساکرو اور سپر ہائی وے پر خلیجی حکمرانوں کے محل ان کے شوقِ شکار کا پتا دیتے ہیں۔ اگرچہ ان علاقوں کے غریب عوام کو فائدہ بھی ہوا ہے لیکن پردیسی پرندوں سے خون آشامی کے علاوہ ان شکاری کیمپوں میں کئی وارداتیں اور سانحے بھی پیش آئے۔ کئی برس پہلے ٹھٹہ کے پاس دو چھوٹی بچیاں جنسی حملوں کا بھی شکار ہوئیں تھیں۔ ان کے ایسے سانحے پر سندھی زبان کے معروف شاعر آکاش انصاری کی ایک نظم ’’آمی پھاپی کے نام‘‘ نعت کے صورت میں لکھی گئی، جو آج بھی مشہور ہے۔

رحیم یار خان اور سوہاآرا پارک میں فوجی اور آئی ایس آئی کے پہرے ہیں۔ پھر وزیر اعظم عمران خان کا شیخ محمد بن النہیان کا سرخ قالین پر رائل کمانڈ استقبال اور پردیسی پرندوں کے خونِ ارزاں کے بدلے پیٹرو ڈالر کا قصہ زبان زد عام ہے۔

یہ شکاری کیمپ پاکستان کی سیاست اور اقتدار کے کھیل میں کشش ثقل بن چکے ہیں کہ خان گڑہ مہر کا دورہ زرداری بھی کر چکے ہیں اور عمران خان کو بھی سرداروں نے جلسے کی دعوت دے رکھی ہے۔

سوچ رہا ہوں کہ وسطی ایشیا سے ہمارے دیس کو آنے والے ان پرندوں کا بھی وہی روٹ ہے، جو زمانہ قدیم میں صوفیوں کا تھا۔ اب منطق الطیور کے خالق فرید الدین ہوتے تو پردیسی پرندوں کے ساتھ پیش آنے والی ایسی خونریزیوں پر موت الطیور لکھتے۔

DW.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *