لیڈروں کو نگلتا سیاسی بلیک ہول

سلمان حیدر

کراچی کی سیاست میں قتل و غارت گری کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ رضا علی عابدی کے قتل میں مختلف اگر کچھ ہے، تو وہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی انجینئرنگ کے نتیجے میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے والی سیاسی طاقتوں کے بعد پیدا ہونے والا خلا ہے۔

اس خلا کو اسمبلی کی سیٹوں کی حد تک تو مختلف سیاسی جماعتوں نے پُر کر دیا ہے لیکن ان پارٹیوں کی عوام میں جڑیں کتنی گہری اور مضبوط ہیں اس کا اندازہ بھرپور ریاستی طاقت سے جاری آپریشن اور ایم کیو ایم لندن کے بائیکاٹ کے دوران ہونے والے الیکشن سے لگانا شاید بہت مناسب نہیں ہو گا۔

رضا علی عابدی اگرچہ ایم کیو ایم لندن کا حصہ نہیں تھے اور ان کے قتل کے سنائی دینے والی بلند آہنگ سرگوشیوں نے ان کے قتل کی ذمہ داری بھی حسب معمول ایم کیو ایم لندن پر ڈالنا چاہی لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر اس شدید آپریشن کے بعد، جس میں ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکن جبری لاپتہ اور گرفتار ہیں، ایم کیو ایم لندن کو ہی اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور جبر کے ماحول میں انسانی حقوق کی پامالی کے سینکڑوں واقعات سے بھرپور اس آپریشن کے جاری رہنے اور اس پر اندھا دھند اخراجات کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟

اگر ایم کیو ایم لندن کے مبینہ مسلح نیٹ ورک کا خاتمہ، جو اس آپریشن کا ہدف ہونا چاہیے تھا، نہیں کیا جا سکا تو سیاسی توڑ پھوڑ، الطاف حسین کے چہرے کے ذرائع ابلاغ پر آنے پر پابندی، ایم کیو ایم کے فلاحی نیٹ ورک کے خاتمے اور اسے بطور سیاسی جماعت ان گنت ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا کیا مقصد تھا؟

کراچی میں ماضی قریب کی دو بڑی سیاسی جماعتیں طالبان کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ اور ریاست کے آپریشن کے نتیجے میں اپنے کارکنوں اور مقامی لیڈر شپ سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ اس صورت حال میں کراچی میں، جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے، اس کے نتیجے میں مذہبی سیاسی جماعتوں اور شدت پسند عناصر کے درمیانے طبقے میں سیاسی جگہ بنا لینے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ایسی صورتحال میں رضا علی عابدی کا قتل بہت افسوسناک ہی نہیں بلکہ کراچی میں پیدا کیے گئے رہنمائی کے بحران کو جاری رکھنے کی شعوری کوشش نظر آتی ہے۔ رضا علی عابدی اہل تشیع سے تعلق رکھنے کے باوجود ایم کیو ایم جیسے غیر مذہبی پلیٹ فارم کا پس منظر رکھنے کی وجہ سے ایک غیر متنازعہ لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھے، جو اپنی سیاست میں مذہبی رواداری اور لسانی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کے قائل تھے۔

ایم کیو ایم پر الزامات کی بھرمار کے باوجود ان کا دامن اتنا صاف تھا کہ اندھا دھند گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے زمانے میں بھی ان پر قتل و غارت تو کیا کرپشن کا الزام لگانا بھی ممکن نہیں ہو سکا۔ وہ صرف ایم کیو ایم کے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے کارکنوں کے لیے ہی فکرمند نہیں تھے بلکہ مجھ سے ذاتی رابطوں کے دوران انہوں نے اس سلسلے میں پشتون حلقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا بلکہ میری طرف سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کے خاندانوں کی لسانی تقسیم سے بالاتر ہو کر منظور پشتین کے کراچی جلسے میں شرکت کے مشورے کو بھی سراہا۔

اس امر کی ضرورت پاکستان میں کسی ایک سیاسی جماعت یا لسانی گروہ کو نہیں بلکہ سب سیاسی طاقتوں کو ہے تاکہ جبر کے اس تسلسل کو توڑا جا سکے، جس نے لوگوں کو آج تک نہ صرف تقسیم کر رکھا ہے بلکہ جو اس تقسیم کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی ممکنہ آواز کو دبانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنانے پر تیار ہے۔

DW.COM

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *