جمہوری سماج ميں ہر قسم کی سوچ کی اجازت ہونا چاہيے

واشنگٹن میں لبرل، قوم پرست اور پروگریسیو پاکستانیوں کے ’ساتھ فورم‘ کا سالانہ اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں ملکی سیاست میں فوج کی مداخلت، گم شدہ افراد اور دیگر اہم امور پر مختلف آراء سے جڑے افراد نے تبادلہء خیال کیا۔

اس کانفرنس کے منتظم سابق پاکستانی سفیر برائے امریکا اور معروف مصنف حسين حقانی اور ڈاکٹر محمد تقی تھے اور یہ ایسا تیسرا اجتماع تھا۔ اس سے پہلے دو کانفرنسيں لندن ميں منعقد ہوئی تھيں۔ اس کانفرنس ميں انسانی حقوق، آزادیء اظہار رائے، سياست ميں شدت پسند تنظيموں کو شامل کرنے کی ریاستی منصوبہ بندی، صحافيوں اور بلاگرز کی جبری گمشدگیوں، بلوچستان ميں ’لاپتہ افراد‘ کے مسئلے، فوج اور عدالتوں کی حکومتی امور ميں مداخلت، پشتون تحفظ موومنٹ، اٹھارہويں ترميم ، ڈيموں کی تعمير اور ان سے جڑے مسائل، سرائیکی صوبے کے وجود کی اہميت، سی پيک، ہزارہ برادری کے حقوق اور اس کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں، عسکری آپریشنز، احتسابی کميٹی کے قیام اور گلگت بلتستان کی آئينی حیثیت جيسے اہم موضوعات پر بات کی گئی جب کہ ان موضوعات پر ایک مشترکہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔

اس کانفرنس میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امریکا میں پاکستان کے سابق سفير حسين حقانی نے کہا، ’’جمہوری معاشرے ميں ہر قسم کی رائےکی اجازت ہونا چاہيے، صرف پاکستان ميں ہی رياستی اداروں سے اختلاف رکھنے والوں کوغدار قرار دے ديا جاتا ہے۔‘‘

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے اس کانفرنس کو پاکستان کے خلاف اور اس ملک کو ’کم زور کرنے کی ايک سازش‘ بھی قراردیا گیا جب کہ اس اجتماع کے موقع پر چند افراد نے اس کانفرنس کے ہال کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت میں حسین حقانی کا کہنا تھا، ’’ايک ايٹمی طاقت کو اگر پڑھے لکھے ستر اسّی لوگوں کے جمع ہونے سے خطرہ ہے، اور اس سے ’ان کا‘ کھيل بگڑ جانے کا احتمال ہے، تو پھر تمام افراد کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک بہت ہی کمزور کھيل ہے، اور پھر يہ سوال بھی اٹھنا چاہيے کہ اگر ايسا ہے، تو جن اداروں کو ہم اپنے تحفظ اور استحکام کا باعث سمجھتے ہيں کیا وہ واقعی مضبوط ہيں؟‘‘

پاکستان میں موجودہ حکومت پر فوج سے قربت کے الزامات بھی تواتر سے لگتے رہے ہیں، جنہیں وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت مسلسل رد کرتے آئے ہیں۔ اس حوالے سے حسین حقانی کا کہنا تھا، ’’ملٹری اور سول حکومت کے ایک صفحے پر ہونے کا یہ مطلب نہيں کہ سويلين حکومت گھٹنوں پر گر کر عسکری قيادت کی ہر بات پر عمل کرے۔‘‘

اس کانفرنس ميں امریکی کانگریس کے ڈیموکريٹ رکن بريڈ شرمن نے بھی خطاب کيا۔ شرمن امریکی کانگریس کی ايشيا کميٹی کے ایک اہم رکن بھی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، ’’پاکستان ميں سويلين حکومت اور فوج اور دونوں کے آپس کے تعلقات اور طاقت کی کشمکش کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ امريکا پاکستان کا خیر خواہ ہے اور ناخواندگی اور دہشت گردی جيسے مسائل پر ہمارا موقف بالکل صاف ہے۔‘‘

DW.COM

One Comment

  1. ایک بہت ہی معقول بات بیان کی گئی ہے کہ

    ’ايک ايٹمی طاقت کو اگر پڑھے لکھے ستر اسّی لوگوں کے جمع ہونے سے خطرہ ہے، اور اس سے ’ان کا‘ کھيل بگڑ جانے کا احتمال ہے، تو پھر تمام افراد کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک بہت ہی کمزور کھيل ہے، اور پھر يہ سوال بھی اٹھنا چاہيے کہ اگر ايسا ہے، تو جن اداروں کو ہم اپنے تحفظ اور استحکام کا باعث سمجھتے ہيں کیا وہ واقعی مضبوط ہيں؟

    اسی بیان کو کرداروں کی ترمیم کے ساتھ دوبارہ پڑھیں تو

    ’ايک واحد سپرطاقت کو اگر پڑھے لکھے ستر اسّی لوگوں کے جمع ہونے سے نہیں بلکہ ایک نحیف نزار عافیہ صدیقی سے خطرہ ہے، اور اس سے ’ان کا‘ کھيل بگڑ جانے کا احتمال ہے، تو پھر تمام افراد دنیا کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک بہت ہی کمزور قوت کا کھيل ہے، اور پھر يہ سوال بھی اٹھنا چاہيے کہ اگر ايسا ہے، تو جن جابر اداروں کو ہم اپنے زمانہ کے تحفظ اور استحکام کا باعث سمجھتے ہيں کیا وہ واقعی مضبوط ہيں؟

    جناب عالی آپ کو سوچنے کی اجازت ہے تو اس کے ساتھ اجازت اظہار کی ہو تب فائدہ ہے۔ مجھے عافیہ کے معاملہ میں وہی معلومات حاسل ہیں جو جج نے اس کے فیصلہ میں لکھی ہیں۔ اور ایک قانون کا طالب علم ہوتے اتنی لمبی سزا ایک بظاہر مہذب ملک میں کوئی جج دے سکتا ہے تصور سے بالا ہے۔ بغیر کسی جذبہ کے محض قانونی پہلو سے عرض ہے کہ یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے جس کے سامنے دنیا بے بس ہے۔ اور “جنگل کا قانون” ہرگز ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *