مولاناابوالکلام آزاد ۔ عہد رفتہ کاروشن ستارہ

حسین نرمل

بلاشبہ قائداعظم محمد علی جناح اورعلامہ محمد اقبال جیسے عظیم لوگ ہمارے محسن اور راہنما تھے ۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عہد ساز شخصیات ہمارے عہد رفتہ کے روشن ستارے ہیں۔ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہمارے ہاں ہرسال ان عظیم رہنماووں کو سرکاری اور عوامی سطح پر یاد بھی کیا جاتاہے اوران کے حق میں بہت کچھ لکھا بھی جاتاہے ۔ لیکن بعض اوقات میں اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا برصغیر پاک وہند کی تاریخ فقط انہی دوتین شخصیات سے تشکیل پاتی ہے یا اس سلسلے میں ہمارے پاس روشن ستارے اور بھی ہیں؟

اس سوال کاجواب مجھے یوں ملتاہے اور سچی بات بھی یہی ہے کہ ایسی عبقری شخصیات کے حوالے سے پاک وہندکے مسلمانوں کی تاریخ بہت روشن ہے۔ البتہ یہ اور بات ہے کہ کانگریس اور مسلم لیگ یا سرحدات کی عینک لگا نے کے بعد ہم نے اپنے بے شمار روشن ستاروں کوایسابھلا دیاہے کہ اب غلطی سے بھی ان کانام لینانہیں چاہتے۔ بقول شاعر
تو ہی نادان چند کلیوں پر قناعت کرگیا۔۔۔ ورنہ گلشن میں علاج تنگئی دامان بھی ہے

ہمارے حافظوں سے محو ہونے والوں ان روشن ستاروں میں ایک ستارہ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ہیں ۔مولانا آزاد نہ صرف برصغیر کی چوٹی کے سیاستدانوں میں سے ایک تھے بلکہ وہ اپنے وقت کے متبحر عالم دین اور غیر معمولی ادیب اور انشاء پرداز بھی تھے ۔

مولانا سیاست کے میدان میں اس وقت وارد ہوئے جب ہندوستان مکمل طور پر انگریز سامراج کے قبضے میں جاچکاتھا اور 1905میں لارڈ کرزن بنگال کی تقسیم کا فیصلہ کرنے لگے تھے۔ لارڈ کرزن کے اس فیصلے پر اُسی زمانے میں ایک زبردست سیاسی وانقلابی جوش پیدا ہوا تھا۔ یہیں سے مولانا کے دل میں انقلابی سیاست نے انگڑائی لی تھی اورپھر یہیں سے انہوں نے ہندو انقلابیوں کے ایک گروپ کو جوائن کرلیا۔ 1916 میں انگریزی حکومت نے مولانا کوگرفتار کرکے انہیں رانچی جیل میں قید کردیاجہاںپر وہ چار سال تک رہے۔

چاربرس بعد رہائی ملنے کے بعد مہاتما گاندھی سے ان کی پہلی ملاقات ہوئی جس کے بعدوہ باقاعدہ طور پرہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت گانگریس میں شامل ہوگئے اور مرتے دم تک اسی پلیٹ فارم سے وہ متحدہ ہندوستان کے دفاع اور انگریز وں کی مخالفت میں اپنی آواز بلند کرتے رہے ۔مولانا کی زندگی پر نظر ڈالنے کے بعداس بات کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ انگریزی سرکارکے خلاف وہ ایک ایسی توانا آواز تھی جو اسٹیج سے تقاریرکی صورت میں بھی بلند ہوتی تھی اور ماہنامہ ”الہلال و البلاغ ” کی تحریروں کی شکل میں انگریزوں کیلئے دردسرثابت ہوئی ۔انگریزوں کے خلاف اسی مزاحمت کی بنا پر مولانا آزادکوچھ مرتبہ قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے سے واسطہ پڑا ۔پہلی مرتبہ ان کو اس وقت گرفتار کرکے رانچی جیل میں ڈال دیاگیا جب ان کی عمر ستائیس سال تھی ۔

پھر 1921،1931،1932اور1941میں یکے بعد دیگرے مسلسل ان کو جیل کی کٹھن اور آزمائشی زندگی سے پالا پڑا ۔قلعہ احمد نگر جیل سے لکھے گئے اپنے ایک خط میں مولانا لکھتے ہیں کہ ستر سالہ زندگی میںگویا انہوں نے ہرسات دن میں سے ایک دن قید کے اندر گزارا ہے ”۔سیاسی میدان میں مولانا کا ہمیشہ مطمح نظردوچیزیں رہیں ، ایک ہندوستان کو انگریزی استعمار سے آزادی دلوانا اور دوسرا ہندوستان میں مسلمانوں اور ہنددوں کا اتحاد ۔ اگرچہ مسلم لیگ کی قیادت کے مطابق مسلمانوں کی فلاح ایک الگ اسلامی ریاست میں پنہان تھی لیکن مولانا آزاد کے خیال میں منقسم ہندوستان میںمسلمانوں کا ہر اعتبار سے خسارہ تھا اور ان کا وجود خطرے میں پڑسکتاتھا۔وہ سمجھتے تھے کہ تقسیم کے عمل سے گزر کر مسلمانوں کو مستقبل میں گوناگوں نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔

اس بارے میں مولانانے شورش کاشمیری کو ”چٹان ” کیلئے ایک مفصل انٹرویو بھی دیا تھا جس میں انہوں نے تقسیم کے حوالے سے بے شمار پیش گوئیاں کی تھیں ۔ مولانا ابوالکلام آزاد محض ایک سیاستدان ہی نہ تھے بلکہ اپنے وقت کے جید عالم دین بھی تھے ۔ اردو ، فارسی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ ساتھ ان کی عربیت بھی اتنی اچھی تھی کہ قلیل عرصے میں عربی کے کتب خانے چھان لیے ۔ ترجمان القرآن کے نام سے قرآن مجید کی تفسیر لکھی اور کمال کی لکھی ۔

اٹھارہ سال کی عمر میں اسلامی توحید اور مذاہب عالم ” کے نام سے کتاب لکھی جس میں انہوں نے اسلام کی وسعتوں کا جائزہ لیاہے اور لکھا ہے کہ یورپ اور ایشیا کے تمام مذاہب اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح خلافت کے مسئلے پر بھی انہوں نے لکھا اور” کشش مادہ اور کشش عشق” کے نام سے ایک رسالہ لکھا۔ بارہ سال کی عمر میں انہوں نے جلال الدین سیوطی کے ایک رسالے ”نوراللہ فی الخصائل الجمعہ ” کا ترجمہ کیااور پھر اس کے بعد علامہ سیوطی کے ایک اور رسالے ”انیس البیب فی الخصائص الحبیب ” کا ترجمہ کیا۔اسی طرح علامہ غزالی کی کتابوں ”منہاج العابدین،فنون امام غزالی بھی ترجمہ کیا۔

اسی لئے تو مولانا انور شاہ کاشمیری نے جب ان کو دارالعلوم دیوبند میں مولانا نانوتوی اور حضرت شیخ الہند کے قبور کے پاس دیکھاتو فی البدیہہ فرمانے لگا ”وہ دیکھو علم ٹہل رہاہے ”۔ دیکھاجائے تودوسری طرف مولانا کمال کے مترجم اور غیرمعمولی ادیب اور انشاء پرداز تھے۔قلعہ احمد نگر جیل میں اسارت کے دوران لکھی گئی کتاب ” غبار خاطر ” مولانا کی ایک ایسی حسین نثری کاوش ہے جس میں انہوںکمال کا نثر شامل کیاہے ۔ماہنامہ ” الہلال نے مولانا آزاد کو ایک نئی شناخت دی اور یہ شاہکار ماہنامہ ان کی صحافتی معراج تھی ۔الہلال ہی کی برکت تھی کہ نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں پر ان کا ماضی منکشف ہوا بلکہ انہیں نئی راہیں تلاش کرنے کا گُر بھی سیکھنے کو ملا۔ الہلال کے مضامین سے الرجی انگریزی سرکار نے جب اس پر پابندی لگادی توبعدمیں مولانا نے البلاغ کے نام سے ایک اور ماہنامے کا اہتمام کیاجو بھی ہر حوالے سے اپنی مثال آپ تھی ۔مولانا کی اسی بے باک گویائی کے متعلق مولانا حسرت موہانی فرمانے لگے،

جس زمانے میں سب تھے مہر بلب۔۔۔ ایک گویا تھے ابوالکلام آزاد

طبیعت جب فارسی شاعری کی طرف مائل ہوگئی تو ”تومل ودُمن ” کے وزن پر فارسی مثنوی لکھنے کا آغاز کیا لیکن ناتمام رہ گئی ۔1902میں فرہنگ جدید کے نام سے انہوں نے مرزا غالب کی قاطع برہان اور ہدایت قلی ناصری کے طرز پر تھاایک فارسی لغت بھی مرتب کیا۔شورش کاشمیری کے مطابق اگرچہ مولانا آزاد نثر اور علامہ اقبال نظم کے شہسوار تھے لیکن سچ یہ ہے کہ مولانانے شعر لکھنے میں بھی طبع آزمائی کی اور غزلوں کاایک دیوان بھی شائع کیا جوکہ بدقسمتی سے اب تک مفقود ہے ۔

مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے مولانا کو ہمیشہ اپنا مرشد کہا کرتے تھے اور فرماتے کہ ” ابوالکلام میں ابوذر کا فقر، علی کا استغناء ، صدیق کا عشق ، فاروق کا دبدبہ اور عثمان کی حیا اور امام احمد بن حنبل کی استقامت رچی ہوئی ہے۔غرض مولانا ابوالکلام آزاد مسلمانان ہند کیلئے وہ بیش بہا عطیہ تھے جنہوں نے اپنی ستر سال کی مختصر زندگی میں قوم کیلئے صدیوں کا کام نمٹا کر رحلت فرماگئے ،
بھلا سکیں گے نہ اہل زمانہ صدیوں تک ۔۔۔ مری وفا کے مری فکر وفن کے افسانے۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    مولاناآزادکی ایک زبردست اچھائی یہ تھی کہ وہ غیرمتعصب ” مولانا” تھے۔اخباروکیل نے ،جس کے ایڈیٹر مولاناآزاد تھے، مرزاغلام احمد صاحب آف قادیان کی وفات پر مندرجہ ذیل اداریہ شائع کیا:۔

    ۔”وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس
    کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے۔ جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیِں۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شور قیامت ہو خفتگان ہستی کو بیدار کرتا رہا۔ یہ تلخ موت یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنے والے کی ہستی تہہ خاک پنہاں کردی۔ ہزاروں لاکھوں زبانوں پر تلخ کامیاں بن کر رہے گی اور قضا کے حملے نے ایک جیتی جاگتی جان کے ساتھ جن آرزوںا اور تمناوں کا قتل عام کیا ہے صدائے ماتم مدتوں اس کی یادگار تازہ رکھے گی۔
    ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہوا ہمیشہ دنیا میں میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عام پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دینا میں انقلاب پیدا کرکے دکھاجاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رحلت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو، ان تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرادیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہوگیا۔
    ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے کہ وہ عظیم مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آئیندہ بھی جاری رہے۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کرچکا ہےاور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کرچکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اس لئے کہ وہ وقت ہرگز لوح قلب سے نسیا منسیا نہں ہوسکتا جب کہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے تھے۔
    ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔ انہوں نے مدافعت کا پہلو بدل کر مغلوب کو غالب بنا کے دکھا دیا ہے۔
    اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی خاص خدمت سرانجام دی ہے۔ ان آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعوی پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کس درجہ تک وسیع ہوجائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔ آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلی خواہش محص اس طرح مذہب کے مطالعہ میں صرف کردے۔”۔اخباروکیل ۔

    عبدالرزاق ملیح آبادی نے ذکر آزاد میں مولانا آزاد کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے جو ایک صاحب نے بذریعہ خط طلب کیا تھا۔ سوال سے ظاہر تھا کہ سائل کسی طرح مولانا کو احمدیوں کی تکفیر پر مجبور کر رہا ہے۔ جواب میں مولانا جو دلائل دے کر تکفیر سے اجتناب کیا وہ پڑھنے کے لائق ہیں۔ اسی ضمن میں مولانا آزاد کے قادیان کے سفر کا ذکر بھی ہوا ہے۔

    جب سن 1930 کی دہائی میں احرار کی یورش اپنے عروج پرتھی، مولانا آزاد پر کئی تکفیری طبقوں کی طرف سے احمدیوں کو اسلام سے خارج قرار دینے پر زور ڈالا گیا لیکن انہوں نے اپنا دامن اس داغ سے محفوظ رکھا۔

    بیشک آپ ایک روشن ستارہ تھے۔

    بتایا جاتا ہے کہ مولاناصاحب کے ابھائی ابو نصر آہ بھی احمدی تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *