جبری گمشدگی کا ایشو اور قومی ضمیر

ایمل خٹک

بلوچ مسنگ پرسنز کیلئے جاری دھرنا شدید سردی اور خراب موسم کے باوجود کوئٹہ میں تاحال جاری ہے اور مختلف حوالوں سے وقتا فوقتا میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خبریں چلتی ہیں ۔ مین سڑیم میڈیا کی بلیک آوٹ کے باوجود بیرونی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دھرنے کی خبریں چلتی رہتی ہیں ۔ تازہ حوالہ قانون نافذ کرنے والے ادروں کی جانب سے دھرنے کو بزور ختم کرنے کی کوشش تھی جو ناکام ہوگئی ۔ کچھ دن پہلے پشتون تحفظ موومنٹ کے راہنما منظور پشتین نے دھرنے سے اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ جانے کی کوشش کی مگر بلوچستان میں ان کے داخلے پر پابندی لگاتے ہوئے حکومت نے کوئٹہ ائیر پورٹ سے انہیں ڈی پورٹ کیا۔

انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے مِسنگ پرسنز یاجبری گمشدگی کا ایشو پاکستان کا ایک اہم ایشو ہے ۔ اور ڈس کورس یعنی قومی مباحثے کا اہم حصہ بن گیا ہے ۔ یہ ایشوکیا ہے ؟ یہ ایشو کیوں اہم ہے ؟ اور ریاستی ادارے اس ایشوکو حل کرنے سے اجتناب کیوں برتتے ہیں اور اسے بزور دبانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟ عوامی دباؤ کے باوجود اس مسلے پر حکومت کیوں بے بس نظر آرہی ہے ؟ اس ایشو کو دو حوالوں سے اٹھایا جارہا ہے ۔ ایک تو دہشت گردی کے الزام میں ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں جن کے حق کیلئے آمنہ جنجوعہ کی سراہی میں ڈیفنس آف ھیومن رائٹس پاکستان نامی تنظیم آواز اٹھا رہی ہے ۔ جبکہ دوسرے سیاسی بنیادوں پر جیسے بلوچ ، سندھی ، مہاجر اور پشتون لاپتہ افراد ہیں ۔ جن کی بازیابی یا حقوق کیلئے بلوچ وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز , پشتون تحفظ مومینٹ اور کئی دیگر قوم پرست گروپ تحریک چلا رہی ہے۔

سیاسی اور سول سوسائٹی اداروں کے باربار مطالبات اور دباؤ پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2010 میں جسٹس ریٹائرڈ منصور عالم کی سربراہی میں جبری گمشدگی کے حوالے سے پہلی انکوائری کمیشن بنائی۔ دوسری انکوائری کمیشن مارچ 2011 میں جسٹس فضل رحمن کی سربراہی میں قائم کی گی ۔ اور گزشتہ سات سال سے انکوائری کمیشن ان فورسڈ ڈس اپیئرنس کام کر رہا ہے ۔ کمیشن کے پاس مارچ 2011 سے تیس ستمبر 2018 تک 5507 کیسز آئے جن میں 3555 کیسز پر کاروائی کی گی ۔ 2789 افراد کا پتہ لگایا گیا جبکہ 846 افراد کے کیسز کو یا نامکمل ایڈریس یا وہ جبری گمشدگی کی کٹیگری میں نہیں آتے تھے اس وجہ سے ان کے ناموں کو مِسنگ پرسنز کے فہرست سے نکالا گیا ۔

جہاں تک خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کےجبری گمشدگی کا تعلق ہے تو کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ گمشدگی کے کیسز خیبر پشتونخوا (2093 ) ، دوسرے نمبر پر سندھ (1383) تیسرے نمبر پر پنجاب (1135) چوتھے بلوچستان ( 132) اور پانچویں نمبر پر فاٹا (102) سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ سول سوسائٹی کمیشن کی جبری گمشدہ افراد کی اعداد وشمار کو چیلنج کرتی ہے ۔ ان کے مطابق گمشدہ افراد کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ اسلئے کمیشن کی اعداد وشمار کئی حوالوں سے نامکمل اور مسلے کی شدت کی درست عکاسی نہیں کرتی ۔ بدقسمتی سے جبری گمشدگی کا سلسلہ ابھی تک بند نہیں ہوا بلکہ گمشدگی کی تازہ واقعات بھی رپورٹ ہورہے ہیں ۔ سال 2018 میں صرف اگست کے مہینے میں 59 کیس درج ہوئے۔

سب سے زیادہ جبری گمشدگی خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں سے ہے ۔ خود فوجی ترجمان نے حال ہی میں بتایا کہ پی ٹی ایم نے حکومت کو سات سے نو ہزار مِسنگ پرسنز کی فہرست دی ہے ۔مسنگ پرسنز کے کیسز میں پشاور ھائی کورٹ نے قانونی شرائط اور میرٹ کے مطابق بڑے جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں ۔عدالتی دباؤ پر 2011 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھ ہزار جبری گمشدہ افراد کو خصوصی حراستی مراکز میں منتقل کرنا شروع کیا۔ جنوری 2014 تک تین ہزار لاپتہ افراد کا پتہ لگایا گیا اور 1270 کو آزاد کرایا گیا ۔ پی ایچ سی کی ویب سائیٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اگست 2018 کی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریباً دو ہزار افراد پیتام، فضاگٹ، ملاکنڈ ، کوھات ، لکی مروت ، غلنئ اور لنڈی کوتل کے مخصوص حراستی مراکز میں بند ہیں ۔ ۔

جبری گمشدگی کے حوالے سے جو بھی تحقیق یا عدالتی کاروائی ہوئی ہے تو اکثر مِسنگ پرسنز کو اٹھانے اور غیرقانونی حراست میں رکھنے کے عمل میں ریاستی ادارے ملوث پائے گئے ہیں۔ ان اداروں کو جن افراد پر کسی جرم کا شبہ یا شک ہوتا ہے مروجہ قانونی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اٹھاتے ہیں اور انہیں خفیہ تفتیشی مراکز میں رکھتے ہیں ۔ بعض جبری گمشدہ افراد دوران تفشیش بدترین تشدد یا تفشیش کے بعد پرسرار حالت میں مارے جاتے ہیں ۔ اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانے میں پھینکی جاتی ہیں۔ ملک کا آئین اور قانون شہریوں کو غیرقانونی حراست اور تشدد سے تحفظ اور کسی بھی الزام یا شک کی صورت میں ان کے خلاف انصاف پر مبنی قانونی کاروائی کی ضمانت دیتا ہے ۔ اور ان کو صفائی اور اپنی دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ جبک جبری گمشدہ افراد کی کیسوں میں ماورائے قانون اور عدالت عمل ہوتا ہے۔ اس عمل کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں ۔

جس طرح نقیب اللہ محسود اور طاہر داوڑ کے کیسز میں ہم نے دیکھا کہ اکثر بیگناہ افراد کو اٹھایا جاتا ہے اور ان کو مارا جاتا ہے ۔ اکثر ان کو اٹھانے یا حراست میں لینے کیلئے کوئی مروجہ قانونی طریقہ یعنی ایف آئی آر یا عدالتی ریمانڈ نہیں لی جاتی۔ دونوں کیسوں میں ہم نے شدید عوامی ردعمل دیکھا ۔ چونکہ طاہر داوڑ ایک فرض شناس پولیس افسر تھے اس وجہ سے ان کی بہیمانہ شہادت سے پشتون سرکاری افسران خاص کر پولیس میں غم وغصہ اور بددلی پھیلی ہے ۔ ناحق اور بیگناہ خون جب اور جہاں بھی بہتا ہے اس سے نفرت کی تخم ریزی ہوتی ہے۔ اور عوام میں نفرت اور مایوسی بڑھتی ہے ۔ ماورائے عدالت اور قانون اقدامات سے اداروں کی ساکھ خراب اور عوام اور اداروں کے بیچ دوریاں بڑھتی ہیں۔

جبری گمشدہ افراد کے حق میں اور ان کی بازیابی یا ان کے ساتھ قانونی سلوک کیلئے جو افراد یا ادارے آواز اٹھاتے ہیں ان کو حراساں کیا جاتا ہے ڈرایا دھمکایا جاتا ہےاور پابند سلاسل کیا جاتا ہے ۔ غیرقانونی کام کرنے والوں کو غلط کام سے روکنے یا متاثرہ افراد کی داد رسی کی بجائے ریاستی ادارے الٹا بے انصافی کی نشاندہی اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بسا اوقات مِسنگ پرسنز کے کیسز میں عدالتی کاروائی یا فیصلے ریاستی ادروں کی خفگی کا باعث بنتے ہیں اور دبے الفاظ یا کھلم کھلا اس پر ناراضگی کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

ریاستی ادارے اکثریہ تاثر دیتے ہیں کہ گمشدہ افراد کے حق میں آواز آٹھانے والے دہشت گرد کے حامی اور دہشت گرودں یا قانون توڑنے والے افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اگر گرفتاری یا حراست قانون اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہو تو کسی کو بھی کسی شہری کی گرفتاری یا حراست میں لینے پر اعتراض نہیں ہے۔ زیادتی یا بے انصافی کی صورت میں کوئی بھی شہری عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مروجہ قانونی طریقہ کار یہ عدالتی کاروائی کو بالائے طاق کر کسی کو اٹھایا جاتا ہے ۔ بغیر مروجہ قانونی کاروائی کے کسی شہری کا اغوا یا قتل جرم ہے ۔ قانون پسند معاشروں میں چاہے مقصد کتنا ہی اعلی اور ارفع کیوں نہ ہو کسی کو بھی قانون کو بالائے طاق رکھ کر شہریوں کو اغوا یا قتل جرم سمجھا جاتا ہے ۔ جرم جرم ہوتا ہے چاہے ریاستی ادارے کریں یا شہری کریں ۔ اگر کوئی قانون اور آئین کو نہیں مانتا تو یہ سراسر بدمعاشی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *