احساس عدم تحفظ کا شکار اکثریت ہے اقلیت نہیں


علی احمد جان

امریکا بہادر کا موجودہ صدر بھی یکتائے روزگار ہے۔ایسے لوگ بھی صدیوں میں کہیں ایک آدھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ سو سال کے مستقبل کی پیشگی منصوبہ بندی کی شہرت رکھنے والے امریکا کی ترقی کے عروج کا کمال ہے کہ ان کو ایک ایسا شخص ملا ہے جس کے دوسرے لمحےکے فیصلے کا پتہ نہیں چلتا۔ صدر ٹرمپ کبھی صبح ناشتے کی میز پر شمالی کوریا کے میزائل بوائے کو یاد کرتے ہیں تو کبھی آدھی رات کو پاکستان ان کے خواب میں آتا ہے۔
ان کے پالیسی ساز ادارے بھی ان کی چھوڑی ہوئی پھلجڑیاں سمیٹ سمیٹ کر تھک گئے مگر صدر صاحب نے اپنی خو نہیں بدلی۔ دنیا کے ہر کونے میں اتھل پتھل کرنے والے پانچ کونوں والی عمارت کے مکین، امریکی جاہ و حشمت کی علامت سفید گھر کی غلام گردشوں میں گھومنے والے اور دنیا کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچانے والے خارجہ امور کے افسران امریکی خاتون اول کوہی کوسنے دیتے رہتے ہیں جو ایک گھر میں ساتھ رہنے کے باوجود اپنے شوہر نامدار سے میلوں کے فاصلے پر رہتی ہے جس کا سارا غصہ (فرسٹریشن ) دنیا کی واحد سپر پاور کا صدر ٹویٹر پر نکالتا ہے تو ان کے لیے باعث خجالت بن جاتا ہے۔
ٹرمپ صاحب نے یوں تو ہمارے وزیر اعظم کو ایک الفت نامہ بھی بھیجا ہے جو ہمارے ہاں دور عمرانی کی دیگر دستاویزات کے ساتھ تاریخی قرار پایا ہے جس میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پہلی بار فرمائش کی گئی ہے۔ پہلے اس طرح کی امریکی فرمائشوں کو ڈو مور کہا جاتا تھا مگر آج کل نئے پاکستان میں ایسے سفارتی خط کو درخواست کہا جاتا ہے جس میں تعاون کی فرمائش کی گئی ہو۔ امریکی امداد تو صدر ٹرمپ نے کیا دینا تھی جس نے پاکستان کی مزدوری کے پیسے بھی روک دئے ہیں ، ان کی خواہش ہے کہ امریکی ڈالر بھی ہمارے لیے حرام قرار پائے۔مگر ہمارے وزرا جب سے اقتدار میں آئے ہیں سوٹ اور ٹائیاں نکال کر بیٹھے ہیں کہ کب بیضوی دفتر سے عشائیے کا بلاوا آئے۔
پچھلے دنوں صدر ٹرمپ کو ایک صبح یہ خیال بھی گزرا کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کا خیال نہیں رکھتا جس کی وجہ سے یہاں اقلیتین خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں تحفظات کے اظہار سے تو ایک لمحے کے لئے یوں لگا کہ گویا صدر ٹرمپ انتخابات ہی اقلیتوں کے ووٹ سے جیتے ہوں جس میں افریقن امریکی، ایشائی نسل کے امریکی، مسلمان اقلیت اور میکسیکو سے تلاش معاش کے لیے آئے ہسپانوی زبان بولنے والے سب ان کی انتخابی مہم کا ہراول دستہ رہے ہوں۔ صدر ٹرمپ نے میکسیکو کے ساتھ لگی امریکی سرحد پر دیوار اٹھانے کے اپنے ارادے کو بھی انتخابی مہم کا ایجنڈا اس لیے بنایا تھا کہ امریکا کے اندر رہنے والے میکسیکو کے مہاجرین اپنے ملک کی خفیہ پولیس اور سرحدی محافظوں کے ہاتھوں ہراساں نہ ہوں۔ امریکا میں پناہ لینے والے والدین سے ان کے زیر کفالت بچے الگ کرنے کے احکامات بھی ٹرمپ نے نہیں بلکہ کسی اور نے دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ کو شاید نہیں معلوم کہ پاکستان میں اقلیتیں نہیں بلکہ اکثریت ہمیشہ عدم تحفظ کا شکار رہی ہے۔ شروع میں ہمارے ہاں بنگالی بولنے والے اکثریت میں تھے جو ہمیشہ عدم تحفظ کا شکار رہے اور الگ ہوئے۔ دنیا میں تو اقلیت کو اکثریت سے شکایت رہتی ہے مگر پاکستان میں ایسا ہوا کہ اکثریت نے اقلیت سے چھٹکارا حاصل کیا۔ اب بھی سرائیکی بولنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی آبادی ہیں مگر وہ پھر بھی ہمیشہ عدم تحفظ کے شاکی نظر آتے ہیں۔حالانکہ تبدیلی والی سرکار نے سرائیکیوں میں سے بھی ایک اور اقلیتی گروہ سے گوہر نایاب کو اٹھا کر ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا مگر پھر بھی وہ اپنا صوبہ الگ کرنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ہمارے ہاں کبھی کسی مذہبی اقلیت نے عدم تحفظ کی شکایت نہیں کی اور اپنے مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے ہڑتال یا مظاہرہ نہیں کیا۔ مگر سواد اعظم شاکی ضرور ہے کہ اس کے عقائد اور اعتقادات کو اقلیتوں اور چھوٹے مذہبی گروہوں سے خطرہ لاحق ہے۔ کبھی سواد اعظم کہلانے والے اسلام آباد اور راولپنڈی کو ہفتوں تک بند کیے رکھتے ہیں اور کبھی پورے ملک میں پہیہ جام اس مطالبے کے ساتھ کرتے ہیں کہ ملک کی اقلیتوں کی چیرہ دستیوں سے ان کو بچایا جائے۔
ٹرمپ صاحب نہ جانے کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔حالانکہ ان کے اپنے ملک میں بھی سفید فام نسلی اکثریت اور پروٹسٹنٹ مسیحی اکثریت کو دیگر چھوٹے نسلی گروہوں، کیتھولک چرچ اور مسسلمان پناہ گزینوں سے درپیش خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے وہ صدر امریکا بن گئے ہیں۔
پاکستان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ یہاں عورتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں مگر حقائق اس کے بھی برعکس ہیں۔ ہماری عورتوں کو مردوں کے ہاتھوں میں اٹھائی بندوقوں سے اتن خطرہ نہیں جتنی ان کے سروں پر رکھے دوپٹے سے مردوں کو ہے جس کے ڈھلکنے سے ملک کی نصف آبادی کی غیرت اور ایمان کو ایک دم خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
ہمارے مرد آج تک موروثی جایئداد پر قابض رہے مگر کسی عورت کو کبھی کوئی شکایت نہیں رہی مگر اب ایک قانون کے زریعے عورتوں کو وراثت میں حق دیا گیا ہے تو ہمارے مردوں کو ایک دم احساس عدم تحفظ ہونے لگا ہے۔ ہمارے مردوں کو احساس عدم تحفظ ہی عورت کی وجہ سے ہے کہ اس نے کپڑے کیسے پہننے ہیں، کتنے پہننے ہیں، شادی کب کرنی ہے کیسے کرنی ہے، گھر سے کیسے نکلنا ہے اور رہنا کیسے ہے مگر مجال ہے آج تک کسی عورت کو مردوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ درپیش ہوا ہو۔
پوری دنیا کی پارلیمانی جمہوریتوں میں اکثریتی جماعت سے اقلیتی یا چھوٹی جماعتوں کو خطرہ ہوتا ہے کہ بڑی جماعت من مانی نہ کرے مگر پاکستان میں ایسا ہر گز نہیں۔ ہماری اکثریتی جماعت ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل جیسی چھوٹی جماعتوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے کہ کہیں وہ اس کے پیروں تلے قالین نہ کھینچ لیں۔ پاکستان کی حکمران اکثریتی جماعت پی ٹی آئی اپنے حریف مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو بیک جنبش قلم اڈیالہ جیل میں بند کرکے تین ہزار ارب ڈالر ملک میں واپس لانا چاہتی ہے مگر اس کے لیے اس کی کشتی کے پتوار مینگل، ایم کیو ایم اور پی ٹی ایم کے داوڑ اور علی وزیر کے ہاتھوں میں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ عدم تحفظ کا شکار ہوتی مگر پی ٹی آئی کو اندر ہی اندر یہ خوف رہتا ہے کہ جانے کب اس کی کشتی کے ناخدا اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور ان کی نیا ڈوب جائے۔
لسانی، مذہبی اور صنفی اقلیتوں کے علاوہ نظریاتی اور دیگر اقلیتوں کو  بھی کوئی شکایت نہیں مگر اکثریت کو ان کے وجود سے خطرہ ضرور ہے۔ کہیں چوراہے پر بھیک مانگتے کسی خواجہ سرا کے بغیر آستینوں کے بازو سے گاڑیوں میں بیٹھی شرفا کی اکثریت کے ایمان اور غیرت کو خطرات درپیش ہیں اور کہیں ’ماڈرن آنٹیوں‘ کی جلائی موم بتیاں 90 فیصد آبادی کی نمائندگی کے دعویدار مومنین کے دلوں میں ایمان کی حرارت کم کر دیتی ہیں۔ نیو ائیر اور ویلنٹائن ڈے منانے والے نوجوانوں کی اقلیت سے تو ہماری عدالتوں کے ایمان کو بھی خطرہ ہے۔
خدا خدا کر کے ہم نے امریکا کی مدد اور آشیرباد سےاشتراکی نظریات رکھنے والی اقلیت پر قابو پالیا تھا مگر اب ملحدین اقلیت کی عفریت سر اٹھا رہی ہے جس سے پوری قوم کی قوت ایمانی کو خطرہ ہے۔ امید ہے بہت جلد امریکا بہادر اس پر قابو پانے میں بھی ہماری امداد کو پہنچے گا جب اس کو معلوم ہوگا کہ الحاد پھیلانے میں بھی کسی اور اشتراکی ملک کا ہاتھ اور ساتھ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *