آج کا انسان فیک نیوز کے زیر اثر آرہا ہے

بیرسٹر حمید باشانی

جھوٹ اگر ایک بار بولا جائے تو وہ جھوٹ ہی رہتا ہے ، مگر یہی جھوٹ اگر ہزار بار بولاجائے وہ سچ بن جاتا ہے۔ یہ بات ایک بد نام زمانہ نازی پروپیگنڈسٹ جوزف گوئبلز نے کہی تھی۔ یہ بات محض اس لیے غلط نہیں ہے کہ یہ سیاسی تاریخ کے ناپسندیدہ ترین کرداروں میں سے ایک کے ساتھ منسوب ہے۔ بلکہ یہ بات اس لیے غلط ہے کہ یہ حقیقت کے مناٖفی ہے ۔ جھوٹ بار بار دہرانے سے سچ نہیں بن جاتا۔ اس کے بر عکس کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ ان کا جھوٹ سچ بن گیاہے۔

گوئبلز، ہٹلر اور ان کے ساتھیوں کا یہی المیہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ جھوٹ کو بار بار دہرا کر سچ بنا سکتے ہیں۔ جرمن اور سفید فام نسل کو دنیا کی برتر نسل بنا سکتے ہیں۔ فاشزم کو ایک انسان دوست نظام ثابت کر سکتے ہیں۔ دنیا کی ہر فوج کو شکست دے سکتے ہیں۔ ہر ملک پر قابض ہو سکتے ہیں۔ فاشزم جب عروج پر تھا توکچھ وقت کے لیے یہ سب سچ لگنے لگا تھا۔ مگر جب تاریخ نے کروٹ لی تو دنیا مختلف تھی۔ ہٹلر کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ خود سوزی پرمجبور ہوا۔ اور فاشزم پر ایسا خود کش حملہ کیا کہ اس نام لینا آج بھی یورپ کے کئی ملکوں میں قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ 

یہ صرف ہٹلر تک ہی موقوف نہیں۔ دنیا کا ہر آمر اس المیے سے گزرا ہے۔ آمر جب طاقت کے حصار میں قید ہو۔ اس کے اردگرد خوشامدی اور مسخرے جمع ہوں۔ اس کی زبان سے نکلی ہوئی گالی کو بھی اقوال زریں قرار دیتے ہوں، تو حکمران خود فریبی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کو سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ لگنے لگتے ہیں۔ 

یہ ایک المناک بات ہوتی ہے۔ وقتی طور پر ہی سہی سچ پچھلی نشستوں پر چلا جاتا ہے۔ اس لیے گوئبلز کی بات کو غلط قرار دینے کے باوجود جھوٹ کی طاقت سے ڈرنا چاہیے۔ جھوٹ باطل ہے، مگر بد قسمتی سے ایک تباہ کن طاقت رکھتا ہے۔ اس سے انکار بھی خود فریبی ہے۔ خصوصا ہمارے دور میں جب طاقت، دولت کے زور پر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے مظاہرے عا م ہیں۔ ہم مابعدا لصداقت دور میں رہتے ہیں۔ ما بعد الحقیقت یا سچائی سے بعد کے زمانے میں زندہ ہیں۔ اس زمانے میں بڑے بڑے جھوٹ تخلیق ہوتے ہیں، جو حقیقت بن کر ہمارے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔

اس دور میں فیک نیوز کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ میڈیا آن لائن اشتہارات کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ تاکہ وہ آن لائن ریونیو پیدا کر سکے۔ اگر ایک جھوٹا مواد یا جھوٹی خبر میں لوگوں کے لیے کشش ہے۔ اس سے دیکھنے اور سننے والوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس سے مالی فائدہ ہوتا ہے تو فیک نیوز چلانے میں کوئی حرج نہیں سمجھی جاتی۔ اب فیک نیوز کے ذریعے انتخابات جیتے جاتے ہیں، حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔ لیڈر بنائے جاتے ہیں، لیڈرگرائے اور تباہ کیے جاتے ہیں۔ 

چنانچہ یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ ہمارے ارد گرد بہت جھوٹ ہے۔ بے شمار افسانے ہیں۔ جعلی اور جھوٹی خبریں عام ہیں۔ ہم آئے دن اس کے کھلے مظاہرے دیکھتے ہیں۔ فروری 2014 میں روس کے ایک سپیشل یونٹ نے یوکرین پر حملہ کیا۔ کئی اہم تنصیبات پر قبضہ کر لیا۔ حملہ آور کسی فوجی یونیفارم یا نشان کے بغیر تھے۔ روسی حکومت نے اس بات کی واضح تردید کی کہ ان حملہ آوروں کا سرکار یا فوج سے کوئی تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کچھ شہریوں کا زاتی و انفرادی فعل ہو سکتا ہے، جنہوں نے شائد کسی طرح کھلی منڈی سے روسی ساخت کے ہتھیار اور آلات خرید لیے ہوں۔ 

روسی قوم پرست جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مگر پوسٹ ٹروتھ کے اس عہد میں وہ اپنے جھوٹ کا یہ جواز ڈھونڈ سکتے تھے کہ یہ چھوٹا ساجھوٹ ایک بڑے مقصد کے لیے ہے۔ روس ایک جائز جنگ میں مصروف ہے۔ اور ایک جائز مقصد کے لیے مرنا مارنا درست ہے۔ اور ایک جائز اور بڑے مقصد کے لیے جھوٹ بولنے میں بھی کوئی برائی نہیں۔ اور وہ بڑا مقصد روس کی حفاظت ہے۔

روسیوں کی قومی متھ یافرضی داستان یہ ہے کہ روس ایک مقدس وجود ہے ، اوردشمن اس کو تباہ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ قدیم منگول، پولز، سویڈز، نپو لین اور ہٹلر سے لیکر نیٹو تک تاریخ میں کئی قوتوں نے روس کے جسم کے ٹکڑے کر کہ اس کے بطن سے جعلی ممالک بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم پوسٹ ٹروتھ کہ اس ہیبت ناک دور میں زندہ ہیں۔ اس دور میں چند عسکری واقعات ہی نہیں، جعلی تاریخ اور جعلی قوم تک پیدا کی جا سکتی ہے۔ 

پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن کوئی نئی چیزیں نہیں ہیں۔ ایک قوم کے وجود سے انکار اور پوری پوری جعلی قومیں تیار کرنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سال 1931 میں جاپانی فوج نے چین پر حملہ کرنے کے لیے خود اپنے آپ پر جعلی حملہ کیا۔ اور مینچوکو کے نام سے جعلی ملک پیدا کیا ۔ چین خود اس بات سے انکار کرتا آرہا ہے کہ تبت کبھی کوئی خود مختار ملک تھا۔ آسٹریلیا میں برطانوی نو آبادی کو جواز بخشنے کے لیے پچاس ہزار سال پرانی اصلی النسل یا دیسی باشندوں کی تاریخ کو مٹایاگیا۔ 

بیسویں صدی کی ابتدامیں ایک صیہونی نعرہ عام ہوا۔ بے زمین لوگوں کی غیر آباد زمین پر واپسی۔ مقامی عرب فلسطین آبادی کے وجود سے انکار اور اسے نظر انداز کیا گیا۔ سال1969 میں اسرائلی وزیر اعظم گولڈا مئیر نے کہا فلسطینی نام کے لوگ نہ اس زمین پر تھے اور نہ ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی ایک ممبر نے فروری2016 میں کہا کہ پلسٹائن نام کی کوئی قوم ہو ہی نہیں سکتی ، چونکہ لفظ پی عربی زبان میں موجود ہی نہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ سے ہی پوسٹ ٹروتھ عہد میں رہاہے۔ انسان کی طاقت کا راز ہی افسانہ تراشنا اور اس پر یقین کرنے میں ہے۔ پتھر کے دور سے ہی لیکر فرضی داستانیں ہی تھیں جس نے انسان کو متحد رکھا۔ انسان کی داستان تراشی اور داستان گوئی ہی تھی، جس کی وجہ سے اس نے یہ سیارہ فتح کیا۔ اس پر ایک مشترکہ نظام قائم کیا۔ ہم واحد مخلوق ہیں جو لاکھوں اجنبی لوگوں سے تعاون کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم افسانے تخلیق کر سکتے ہیں، ان کو وسیع پیمانے پر پھیلا سکتے ہیں، اور لاکھوں کو ان پر یقین کرنے پر قائل کر سکتے ہیں۔ جب سب ایک ہی داستان پر یقین کرتے ہیں تو ہم ایک ہی قانون کو مانتے ہیں، اور ایک دوسرے سے موثر تعاون کرتے ہیں۔ ملک اور قومیں تشکیل دیتے ہیں۔

آج کا انسان فیک نیوز کے زیر اثر آرہا ہے۔ وہ نئے مغالطوں کا شکار ہو رہا ہے۔ مگر یہ سلسلہ نیا نہیں ہے۔ تاریخ میں کئی صدیاں لاکھوں انسانوں نے اپنے آپ کو مختلف مغالطوں کے اندر مقید کیے رکھا ۔ انہوں نے کئی روایتی قصے کہانیوں کی سچائی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ صدیوں سے سماجی حلقوں میں معجزوں ، جن بھوت اور چڑیلوں کی کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں۔ ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں جن کی کوئی سائنسی شہادت موجود نہیں ، اس کے باوجود لاکھوں لوگ ان کہانیوں پر یقین کرتے ہیں۔ کچھ جھوٹی کہانیاں ہمیشہ باقی رہتی ہیں، اور نسل در نسل ان پر یقین کیا جاتا ہے۔ 

قدیم دور میں صرف کچھ مذاہب نے ہی فرضی داستانیں نہیں اپنائیں۔ سیاست میں بھی ایسے ہی ہوا۔ فلسفے اور تاریخ میں میں بھی فرضی قصے کہانیاں چلتی رہیں۔ کمیونزم، فاشزم اور لبرل ازم میں بھی افسانہ تراشی ہوتی رہی۔ تو پوسٹ ٹروتھ حقیقت میں ہے کیا ؟ پوسٹ ٹروتھ کی عام تعریف یہ ہے کہ اس دور میں عوامی رائے سازی میں حقائق سے زیادہ جذبات اور ذاتی عقائد کا دخل ہوتا ہے۔ اس کا مظاہرہ ہم نے کئی بار دیکھا۔ کبھی انتخابات میں اور کبھی ریفرینڈم میں۔

امریکی انتخابات اور برطانوی ریفرینڈم اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندھی ہے کہ جزبات اور زاتی عقائد حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے دور کے لوگ حقائق پر مبنی دلیل کے بجائے وہ دلیل تسلیم کرنے کو ترجیع دیتے ہیں، جو ان کے جذبات اور خیالات سے میل کھاتی ہو ، چنانچہ آنے والے وقتوں میں ہمارے سماج کو نئے اور زیادہ پیچیدہ چلنجز کا سامنا ہوگا۔ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *