آئی بسنت ،پیارا اڑنت

طارق احمدمرزا

الفریڈنوبل نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا تھاتاکہ اسے استعمال کرکے زمین سے معدنیات کھودنکالی جائیں،سنگلاخ چٹانوں کوہموارکرکے شاہراہیں بنائی جائیں،پہاڑوں میں سرنگیں بنائی جائیں تاکہ دشوارگزارسفر کو آسان بنایاجاسکے اور توڑے جانے والے پتھروں کو تعمیرات میں استعمال کیاجائے،دریاؤں سے نہریں نکال کر زرعی پیداواربڑھائی جائے ۔لیکن افسوس کہ یہی ڈائنامائٹ تخریب کاروں کے ہتھے چڑھ کر بموں،بارودی سرنگوں اور خود کش جیکٹوں کی شکل میں اب تک کئی ملین قیمتی جانوں کاضیاع کرچکا ہے۔اورسوچنے والا سوچتا ہے کہ کاش الفریڈنوبل نے یہ منحوس چیز نہ ہی ایجادکی ہوتی تو کتنا اچھاہوتا۔

بسنت ایک ایسا رنگ برنگا،ہلکا پھلکا،خوشگوار،پرمسرت،گدگدانے والاشرارتی اور بے ضررقسم کاتہوارہواکرتاتھالیکن تخریب کاروں کی ایک نئی قسم کے ہتھے چڑھ کربے ہنگم شور ہاؤ ہو، نمود ونمائش،انفرادی اور قومی دولت کے ضیاع،دوسروں کی ماؤں بہنوں، بیٹیوں سے غلیظ قسم کی چھیڑچھاڑ،غنڈہ گردی حتیٰ کہ قتل مقاتلوں پر مشتمل ایک مکمل درجہ کے طوفان بدتمیزی اور عذاب کی شکل اختیار گیا۔

بسنت میں ہونے والی پتنگ بازی بھی غلیظ اورسفاک ذہنیت کے ہاتھوںیرغمال ہوگئی۔بوکاٹا کی آواز سے ڈرلگنے لگ گیاکیونکہ پسے ہوئے شیشوں سے ملمع ڈوروں یاڈور کی بجائے باریک میٹل کی تارکے استعمال سے معصوموں کی گردنیںکٹنے لگ گئیں تھیں۔ بسنت منانے کی آڑمیں خون کی ہولی کھیلنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہ ر ہا تھا۔آئی بسنت پالا اڑنت کا مطلب آئی بسنت،گردن کٹنت،پیارااڑنت بن گیا تھا۔ہرسال کتنے ہی والدین کے درجنوں پیارے لاہوریوںکی بسنت کی بھینٹ چڑھتے جارہے تھے۔اورسوچنے والے سوچنے لگ گئے تھے کہ کاش برصغیرکوقدرت بسنتی موسم سے محرو م ہی رکھتی توکتنا اچھا ہوتا۔ جٹ کوپیالہ کیا مل گیا تھاکہ پانی پی پی کراپناپیٹ ہی پھاڑ بیٹھا۔

چنانچہ صرف ایک سال سنہ ۲۰۰۵ء میں انیس افرادہلاک اور 200 سے زائدزخمی ہوئے۔جبکہ لاہورالیکٹرک سپلائی کمپنی کے اعدادوشمارکے مطابق گنجان آبادشہری علاقوں میں اڑائی جانے والی پتنگوں کی وجہ سے ایک بلین روپے سے زائد کانقصان ہوااور15,566 مرتبہ بجلی کی سپلائی منقطع ہوئی۔مجھے کہنے دیجئے کہ جولوگ کلچرولچر،ثقافت وقافت،نام نہادزندہ دلان لاہور اور لہورلہوراے وغیرہ کے سطحی سلوگنوں کے حوالے سے بسنت کے اس خونی تہوارکی اجازت دینے کے حالیہ اعلان پرخوشی کااظہارکرتے نظرآرہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو سالِ نو سنہ ۲۰۱۹ کی بسنت کے موقع پر نئی جانیںلینے کا پروگرام بنارہے ہیں۔ گویاخودکش حملہ آوروں کو الفریڈنوبل کے ایجادکردیڈائنامائٹ کی سپلائی بحال کرنے کی بات کی جارہی ہے۔کلچراورثقافت مہذب اور ذمہ دارقوموں کے لئے ہوتی ہے۔ستر کی دھائی نے ہمارا کلچر،تہذ یب، اخلاق،کردار،سماج سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا۔

اسی لئے اکتوبر۲۰۰۵ء میں سپریم کورٹ نے پتنگ سازی اورپتنگ بازی پر پابندی لگادی تھی۔اگلے برس سپریم کورٹ نے مارچ کے مہینے میں پندرہ دن کے لئے بسنت منانے کی اجازت دی تھی لیکن پھر پنجاب کے اس وقت کے وزیراعلی ٰچوہدری پرویزالٰہی صاحب نے دوبارہ اس پرپابندی عائدکردی تاہم بعدمیںصرف چوبیس گھنٹوں کے لئے پتنگ بازی کی اجازت دے دی گئی تھی۔پھربھی پولیس ذرائع کے مطابق ان چوبیس گھنٹوںمیں پتنگ بازی نے سات افراد کی جان لے کرہی چھوڑی جبکہ دس زخمیوں کو ہسپتال کی راہ دکھلائی۔

سنہ ۲۰۰۹ء میں پنجاب حکومت نے امتناع پتنگ بازی کاترمیمی ایکٹ منظورکیا۔اس قانون کے تحت بسنت منانے کی اجازت مقامی انتظامیہ اورپولیس دے سکتی ہے۔قانون کے تحت پتنگ بازی میں ہرقسم کی تیز دھار ڈور کے استعمال کی ممانعت کی گئی ہے۔سنہ ۲۰۱۲ء میںچیف جسٹس ثاقب نثارصاحب نے بسنت اور پتنگ بازی سے متعلق سنہ ۲۰۰۵ء کے سوموٹونوٹس کونبٹاتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ پنجاب حکومت ۲۰۰۹ کے ترمیمی ایکٹ پرپوراپوراعمل درآمدکرواتے ہوئے اپنی ذمہ داری پربسنت اورپتنگ بازی کی اجازت دے سکتی ہے۔

دیکھنا یہ ہے جس ملک میں عیدین،محافل میلادونعت خوانی حتیٰ کہ نمازجنازہ وتدفین کے اجتماعات بھی خو ن سے رنگ دیئے جاتے ہیں،وہاں کی ثقافتی سرگرمیاں اور تہوارکس حد تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔

چین کے مشرقی صوبہ شین ڈونگ میں ہرسال مارچ یااپریل میں انٹرنیشنل کائٹ(پتنگ) فیسٹیول منایاجاتا ہے۔اس کااہتمام ایک بڑے سٹیڈیم کے اندر کیاجاتا ہے جس میںاسی ہزارافراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔فیسٹیول میںحصہ لینے کے لئے ہرسال تقریباًچالیس مختلف ممالک سے پتنگ باز اور سیاح اس فیسٹیول میں شامل ہوتے ہیں۔پتنگ بازی کے مقابلوںکے علاوہ علاقائی ثقافتی شو،ڈرامے وغیرہ بھی منعقدہوتے ہیں اورفوڈ سٹال بھی لگتے ہیں۔

یہ فیسٹیول دویاتین دن تک جاری رہتاہے لیکن وہاں سب کی جانیں بھی محفوظ رہتی ہیں اورعزتیں بھی۔اگرنہیں رہتیں توفقط اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کلمہ گو اصراف پسند زندہ دلان کے ہاتھوں محفوظ نہیںرہتیں !۔
٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *