اُستاد گُلزارعالم ۔مُغنیءانقلاب

جہانزیب کاکڑ

اُستاد گلزار عالم کا شمار گِنتی کے اُن چند خوش نواؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی  مترنم اورمنفرِد آواز سے پشتو گائیکی کو نہ صرف بامِ عروج عطاکیابلکہ شایدپہلی بار اِسے باقاعدہ طور پر، مقصدیت ، ترقی پسندی  اور سیاسی لب ولجہ سے بھی روشناس کرایا۔۔

اُستاد گُلزار عالم15اکتوبر 1959 کو محلہ سرابانان پشاورمیں پیداہوئےابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریب ہائی سکول نمبر 4 سے  سےحاصل کی۔ثانوی تعلیم کیلئے گورنمنٹ کالج اور اعلیٰ تعلیم کیلئے یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہفائن آرٹسمیں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی کی تعلیم کو بوجوہ پایہء تکمیل تک نہیں پہنچا سکے۔

بچپن سے فنِ موسیقی وگائیکی کی طرف مائل رہے ۔ کبھی کبھار دوستوں کی نجی محفلوں میں گایا کرتے تھے۔اپنی مسحور کُن آواز  سے داد و تحسین سمیٹتے رہے۔ دوستوں کےاصرار اورذاتی دلچسپی کے پیشِ نظرباقاعدہ طورپرفنِ موسیقی کی طرف راغب ہوئے ۔ جہانِ فن کے نامور اساتذہ سےکسبِ فیض کیاجن میں اُستاد مہدی حَسن خاں،غلام علی، اُستاد عنایت علی سُلطانی،اُستادعبدُالحق اوراُستادنواب کے نام بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔

بسا اوقات  ، گلوکاروں کے ساتھ مشکل یہ پیش آتی ہے کہ آواز تو سُریلی مگر سُروں کا انتخاب ناقِص۔ کہیں سُروں کا انتخاب عُمدہ تو کلام کا انتخاب ناقِص مگر اُستاد گلزار عالم  کے ہاں  سُریلی آواز سے  لے کر کلام اورسُروں کےانتخاب تک تمام چیزیں ایک  توازن  کیساتھ  چلتی نظر آتی ہیں۔ نامور شُعرا کے منتخب کلام کو اِس کمال خوبی کیساتھ موزوں سُروں کےقالب میں ڈھالاکہ سننے والے کے ذہن میں بجا طور  پر شاعر کا  ذہنی ومزاجی پسِ منظر  بھی گردِش کرنے لگتا  ہے اور  ایک سنجیدہ سامع کو بےاختیار کہہ اُٹھنے کے سوا کوئی چارہ  نہیں رہتا کہ ایسے کلام کوشایدانہی سُروں اور ایسی ہی گائیکی کی ضرورت تھی۔
بقولِ غالب:۔

دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اُس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دِل میں ہے۔

اُستاد نے معیار کیساتھ ساتھ مقداری طور پر بھی پشتو موسیقی کے خزانہ میں بیش  قیمت اضافہ کیا ۔ کم وبیش ایک ہزارالبم ریکارڈ کرائے جو کلاسیکل شُعرا سے لیکر جدید  شُعرا  تک کے  منتخب کلاموں پر مشتمل ہیں،جن میں،رحمان بابا،خوشحال خان خٹک،حمید بابا، غنی خان، حمزہ بابا، اجمل خٹک،رحمت شاہ سائل،قلندر مومند، صاحب شاہ صابِر،شمسُ القمر اندیش اور اکرامُ اللّٰہ گران کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
اُستاد نے پشتو اَدب کے تقریباََ تمام مروجہ اصناف کی گائیکی  میں طبع آزمائی کی جن میں غزل،نظم،ترانہ،ٹپہ،چاربیتہ،اولسی سندرہ، کاکڑئ شامل ہیں، بالخصوص غزل،
نظم، سندرہ اورترانہ کے میدان میں اپنے ہُنرکے جوہر آزمائے جس میں وہ ممکنہ حد تک کامیاب رہے

خالص گائیکی کے علاوہ اُستاد گلزار عالم  نے فنِ موسیقی اور فنِ سیاست کے باہمی رشتےکوبھی خوب نمایاں کیا۔اُستاد نے فنِ موسیقی وگائیکی کو فقط تفریحِ طبع کے طور پر نہیں بلکہ  اِسے مظلوم  و محکوم انسانوں کی بیداریء شعور کے  لئے بطورِ ہتھیاراِستعمال کیا اور ثابت کیا کہ فنکار بھی معروضی حالات اور سماجی زندگی کی حقیقتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور یہ کہ فن بھی آخری تجزیے میں معروضی اور سماجی  حقیقتوں  سے جنم لیتااور دوبارہ اِن پر اثر انداز ہوتا ہے لہذاہ فنکار کو  بھی زبانِ فن کے زریعے سماجی اونچ نیچ اور معاشی نابرابری کے مروجہ نظام  کے خلاف جدوجہد میں مظلوم  و محکوم انسانوں  کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہنا چاہیئے۔

یہ ضیائی مارشل لا کا تاریک دور تھا جب اُستاد نے رحمت شاہ سائل کا لکھا انقلابی ترانہ:۔

راواخلٸ بيا دانقلاب سرہْ نشانونه
ليونو زلمو!۔
دا خاورہ انقلاب غواړي 
د اذادئ انقلاب

ترجمہ:۔
تھام لو سُرخ عَلَم انقلاب کے
جوشیلے جوانو!۔

یہ دھرتی انقلاب چاہے
انقلاب ! جو آذادی کا ضامِن ہو۔

گایا___ یہی وہ ترانہ تھا جو امیرِ شہر ِکے آشیانہءصبر پربجلی بن کرگِری جس کی پاداش میں اُستاد نہ صرف پاکستان ایئر فورس کی اپنی مُستقل ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ تین مہینے کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑا۔ مگر اُس کےباوجوداُستادکےانقلابی جوش وخروش  میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ اِسی طور ترقی پسند  تقریبات بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کے جلسوں میں رحمت شاہ سائل ،اجمل خٹک،قلندر مومند،اور حبیب جالِب جیسے انقلابی شُعرا کے ترانوں سے نوجوانوں کا لہو گرماتے رہے۔اِن کے گائے ہوئے ترانوں میں سے حبیب جالِب کا لکھا انقلابی ترانہ

خطرہ ہے زرداروں کو
گِرتی ہوئی دیواروں کو  

خطرے میں اسلام نہیں۔

بھی خاصا مشہور ہوا۔

فنِ موسیقی کے ذریعے   روشن خیالی اور سیکیولراندازِفکرکو عام کرنے کی پاداش میں اُستادکوبہت ساری تکالیف سے گزرنا پڑا۔متحدہ مجلس عمل خیبرپختونخوا 2002کے دورِحکومت میں اُستاد پرعرصہِ حیات تنگ کیا گیا،اِنکے آلاتِ موسیقی توڑ دیئے گئے۔اِس پر مستزاد یہ کہ اَغوا برائے تاوان کا ناجائز الزام لگا کر اِن کے معصوم بچوں کو پابندِسلاسُل کیاگیا۔

بالآخرحالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر پشاور سے کوئٹہ  منتقل ہو گئے۔کئی سالوں تک  تنگدستی  اورکسمپُرسی کی حالت میں رہے۔عوامی نیشنل پارٹی کی دورِحکومت میں دوبارہ پشاور منتقِل ہو گئے مگر ظلم وجبر کی داستان یہیں پر ختم نہیں ہوئی ایک بار پھر فتویٰ گردی سے کام لیتے ہوئے، رجعت پسندوں نے اِنکی نجی جائداد پر قبضہ کر لیا اور انہیں واجب القتل قرار دیا ۔شومئِ تقدیر  سے  ایک بار  پھر ہجرت پر مجبور ہوئےاور اِن دنوں افغان دارُالحکومت کابُل میں زندگی کے شب و روز بسر کر رہے ہیں۔فنِ موسیقی کی بدولت اُستاد کو دُنیا بھر کی سیاحت کا بھی موقع مِلا۔امریکہ سے لیکریورپ بھراورمشرقِ وسطیٰ تک کاسفر کیا۔ 

یوں تو اُستاد نے فنِ موسیقی میں بہترین کارکردگی کی بنیادپربیشُمار ایوارڈ حاصِل کیے جن میں تمغہء حُسنِ کارکردگی، باچا خان اَمن ایوارڈ ،خیبر بینک ایوارڈ شامِل ہیں مگر ایک ایوارڈ جس پر اُستاد کو دِلی طور پر ناز ہے،وہ ہے 1994کا آل پاکستان میوزک فیسٹیول مقابلہ منعقدہ پاکستان ٹیلی ویڏن کراچی، جس میں ملک بھر سے مہان ہنر مندوں نے حصّہ لیا تھا مگر اِسے اُستاد گُلزار عالم ہی جیت کر ایوارڈ اپنے نام کر گئے۔
ریاستیں  ہمیشہ سے اپنے منظورِ نظر اور درباری مشاہیرِفن کو نوازتی رہی ہیں اور ریاستی بیانیے سے اختلاف کرنے والوں کو عقوبت خانوں میں ڈالتی رہی ہیں، یہی وجہ ہےکہ اُستاد گلزارعالم جیسےاہلِ ہُنر اگرچہ حکومتی اور درباری حلقوں میں  پذیرائی حاصل نہ کر  سکے مگرعوام اور ترقی پسند حلقوں  میں  بے پناہ مقبولیت ضرور حاصل کر گئے ۔ وہ وقت بھی دُور نہیں جب درباری اہلِ فن وہنرکانام ونشان تک مٹ جائیگااوراُستاد گلزار عالم جیسے انقلابی خوش نواؤں کا نام عوامی تاریخِ موسیقی میں سُنہرے حروف سے لکھا جائیگا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *