تاریخ تفخر نہیں ، تفکر کا نام ہے

علی احمد جان

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہمارے کرہ ارض کو اپنے سورج سے  ٹوٹ کر جدا ہوئے کم و بیش دو ارب سال کا عرصہ ہوا ہے۔ سورج سے ٹوٹ کر جدا ہونے والے آگ کے گولے کو ٹھنڈا ہو کر برفانی دور میں داخل ہوئے بھی ڈیڑھ ارب سال سے زیادہ بیت گئے اور کئی برفانی ادوار کے آخری دور کو اختتام پزیر ہوئے بھی پچاس ہزار سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔

ہر برفانی دور کے آغاز اور اختتام کے دوران انواع قسم کی مخلوقات کا جنم ہوا اور مٹ گئیں۔ مختلف جگہوں سے دریافت ہونے والے ہڈیوں کے ڈھانچے اور کھوپڑیاں ہی ان مخلوقات کے قد و قامت اور انواع کا پتہ دیتی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے انسان نما مخلوق کی کھوپڑیاں جو پہلے کے برفانی ادوار کی ملی ہیں وہ  بھی ہماری نوع سے مختلف ہیں اور ہماری نسل انسانی بھی موجودہ دور کی پیداوار ہے اور شاید اسی دور کے اختتام پر مفقود ہوجائے۔  

ہم جس انسانی تاریخ کی بات کرتے ہیں وہ آخری برفانی دور کے بعد کا زمانہ یعنی آ خری پچاس ہزار سالوں کی بات ہے۔ اس دور کی ارتقائی تاریخ بھی ایک سائنسی موضوع ہے جس پر ماہرین ارضیات ، نباتات و حیوانات اپنے انداز میں بات کرتے ہیں جو مذہبی اساطیر سے مختلف ہے  اس لئے ہماری زیر بحت تاریخ صرف سماجی ارتقاء تک محدود ہے۔ سماجی طور پر بھی ہم تاریخ کو مذہبی اساطیر سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم برفانی دور سے پتھر  اور کانسی کے ادوار کے ارتقاء کو دیکھنے کے بجائے اپنی مرضی کا نقطہ آغاز منتخب کرتے ہیں  جو موجودہ حقائق  کا ارتقائی جائزہ لینے میں  سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اساطیر میں  انسان کی کرہ زمین کے کسی خاص علاقے میں پہلی بارآمد پر تیقن رکھنے والوں کی سمندر پار براعظم امریکہ اور اسٹریلیا میں انسانی بستیوں کے سوال پر خاموشی یا برازیل کے جنگلات میں بسنے والوں  کاان کی اساطیر سے تعلق  نہ جوڑ پانا اس بات کی دلیل ہے کہ انسانوں کی ارتقائی تاریخ کا اساطیری داستانوں سے حقائق کا تعلق کم ہے یا نہیں ہے۔

تاریخ صرف ان کو یاد رکھتی ہے جنھوں نے انسانی تمدن کے ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اس کے باوجود ہم گاڑی میں سفر کرتے ہوئے اس گاڑی کے پہیہ کے موجد کو نہیں جانتے اور نہ ہی لکھتے پڑھتے ہوئے کاغذ کے بنانے والے کو جانتے ہیں مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ آج علم و ہنر کے اجتماعی ورثے میں شامل ایسی سب ایجادات اور کاوشیں انسانی عقل کے ہی کارہائے نمایاں ہیں وگرنہ  مافوق الفطرت اساطیری کرداروں کا کوئی کارنامہ نہیں۔

انسانی تاریخ کا آغاز بھی انسانوں کے پتھر کے دور کےغاروں سے نکل کر بستیاں آباد کرنے اور شکار کے پیچھے مارے مارے پھرنے سے نکل کر کاشت کاری کرنے اور جانوروں کے سدھانے کے دور سے ہوتا ہے جب لوگوں کے مل جل کر رہنے کے لئے قواعد و ضوابط کی ابتدا ء ہوئی۔

ہم زمانہ قدیم کےصرف ان قواعد و ضوابط سے واقف ہیں جو تحریری شکل میں محفوظ ہوئے ہیں  اور ہم تک پہنچ پائے ہیں۔ ایسے محفوظ مخطوطات میں بابل یا آج کے اعراق کے پتھروں پر لکھے حمورابی  کے ضوابط مکمل شکل میں ہم تک پہنچے اس لئے  تاریخ میں مکمل سماجی ضابطے کے آغاز کو بابل یا حمورابی سے ہی منسوب کیا جاتا ہے اور تاریخ میں یاد رکھا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والی سمیری تہازیب سے ہی  ابراہیمی ادیان کا آغازہوا ۔ ابراہیمی ادیان کے الٰہیاتی تصورات  نے نسل انسانی کے انداز فکر کو متاثر کیا مگر وہ تاریخ سے زیادہ اساطیر میں زندہ ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کی لائی شریعت کے دس الٰہی احکامات نے  ایک ضابطہ حیات کی شکل  اختیار تو کیا مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا نیا حکم  نہیں تھا جو بابل اور مصر کی تہازیب میں پہلے سے عمل پذیر نہیں رہا تھا۔ دریائے نیل یا سمندر کے دو حصوں میں تقسیم ہوکر موسیٰ ؑ کے لئے راستہ بنانے اور نوحؑ کے طوفان کی کہانی نے آنے والی نسلوں کے  اعتقاد ات کو تو مضبوط کیا مگر ایسے واقعات کے سائنسی شواہد کی تلاش آج بھی جاری ہے۔

حضرت عیسیٰ ؑ کے جنم اور مصلوب ہونے کی کہانی اساطیر میں نہایت تفصیل سے بیان کی گئی ہے مگر تاریخ کے اوراق ان واقعات کے ذکر سے خالی ہیں۔  حضرت عیسیٰؑ کے دنیا سے اٹھائے جانے کے پندرہ سو سال بعد  ان کی پیدائش سے منسوب عیسوی تقویم یورپ میں مقبول ہوا اور تاریخ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے قبل اور بعد کے زمانوں میں تقسیم ہوئی۔ پچیس دسمبر کو دنیا حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے دن کے طور پر مناتی تو ہے مگر  ان کی پیدائش اسی روز ہونا بھی حتمی نہیں اور اس تاریخ کے مستند ہونے پر بحث ابھی تک تھمی نہیں۔

کرہ ارض پر انسانی تمدن اور سماجی ترقی کے ادوار یعنی پتھر کے زمانے سے پیتل کے زمانے میں داخل ہونا اور شکار سے کاشتکاری اور پھر صنعتی دور کا سفراساطیری کرداروں اور آسمانی صحیفوں کے مرہون منت نہیں بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی انسانی کاوشوں کا ثمر ہے۔  اساطیر اور آسمانی صحیفوں نے صرف نئے ذرائع پیداوار کے ساتھ بدلتے حالت کے مطابق  بدلتی اخلاقی اور سماجی قدروں کے تعین میں کردار ادا کیا ۔ اسی طرح فلسفیوں نے بھی بدلتے حالات میں انسانی سوچ و فکر کی حدود کو وسعت  دینےیا محدود کرنے کی کوشش کی جس نےانسانی سماج کی ترقی کے اگلے منازل کو سہل یا اور زیادہ مشکل بنا دیا ۔  

حقیقت تو یہ ہے کہ پتھر کے دور سے نکلنا اس وقت تک ممکن نہیں تھا جب تک انسان نے پیتل اور لوہے کو دریافت نہیں کیا تھا اور اس کے آلات ایجاد نہیں کئے تھے ۔ شکار کے دور سے کاشتکاری کی طرف آنا ممکن نہیں تھا جب تک انسان نے فصل کے بیچ بو کر اگانے کی حکمت کو دریافت نہیں کیا تھا اورچاند، سورج اور موسموں کے زمین پر اثرات کا مشاہدہ کرکے اس کے مطابق اپنی حکمت عملی نہیں بنائی تھی۔

گو کہ انسان نے اس ترقی کو اپنی کاوش سے زیادہ چاند، سورج اور موسموں کی کرامات سے منسوب کرکے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان معبودوں کا انسان کی اس بارے میں راہنمائی کرنا صرف اساطیر میں ہے اور تاریخ میں کہیں ثابت نہیں۔

انسان نے جب تک بادبانی کی حکمت کو نہیں سمجھا تھا اس کے لئے دنیا کی تسخیر ممکن نہیں تھی اور نہ ہی پہیہ کے ایجاد کے بغیر ترقی کے رفتار کو بڑھا نا ۔ لیکن ترقی کی اس رفتار کو بھی پہیوں کے بعد پر اس وقت لگے جب انسان نے انجن کو ایجاد کیا۔  یورپ میں ایجاد ہونے والے دخانی انجن نے انسانی سماج کو کاشتکاری سے صنعتی دور میں داخل کردیا اور اب سماجی قدریں صحیفوں اور فلسفیوں کی عائد کردہ حدود و قیود سے زیادہ اپنی سوجھ بوجھ کی متقاضی ہیں اور یوں جمہوریت یا اجتماعی سوچ و فکر سے انفرادی سوچ پر مبنی سابقہ تمام نظام ہائے سماج کو بدل دیا گیا ہے۔

 صنعتی ترقی کے بعد خلائی دور اور اس کے بعد کے زمانوں کے لئے صحیفوں اور فلسفیوں کے مخطوطات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی سائنسی تحقیق اور مشاہدات سے استفادہ کرنا ہوگا اس لئے تاریخ  کو بھی تفخر کے لئے نہیں بلکہ تفکر کے لئے پڑھنا اور سمجھنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *