آمرانہ رویوں کے خلاف مزاحمت کا روشن استعارہ 

نسائی ادب کو ایک نئی جہت عطا کرنے والی شاعرہ، ادیبہ اور سیاسی کارکن فہمیدہ ریاض کی زندگی نہ صرف آمرانہ رویوں کے خلاف جدو جہد کرتے گزری بلکہ اُن کی شاعری نے عورت کو جراتِ اظہار کے لیے ایک توانا لہجہ بھی عطا کیا۔

اردو ادب میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے والی قد آور شاعرہ فہمیدہ ریاض اٹھائیس جولائی سن 1946 میں میرٹھ میں پیدا ہوئی تھیں۔ والد کی ملازمت سندھ منتقل ہونے کے سبب اُن کا خاندان بھی سندھ منتقل ہو گیا اور پھر تقسیم ہند کے بعد یہیں بس گیا۔

پاکستان میں فوجی آمر ضیاالحق کے دور اقتدار میں فہمیدہ ریاض پر کئی طرح کے مقدمے دائر کیے گئے اور انہیں ملک چھوڑ کر بھارت جانا پڑا۔ بھارت میں وہ سات برس مقیم رہیں۔

فہمیدہ ریاض اپنی کم عمری ہی سے اظہار میں بے باکانہ اور نڈر طرز بیان کی حامل تھیں۔ پاکستان میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور آیا تو فہمیدہ نے طلبہ یونینوں پر پابندی کے خلاف بہت لکھا۔ فہمیدہ نے ’آواز‘ کے نام سے ایک اردو رسالہ بھی نکالا تھا جسے ضیاالحق کے دور میں بند کر دیا گیا تھا۔  

فہمیدہ کی پہلی کتاب ’پتھر کی زبان‘ کا سن 1965 میں شائع ہونا اردو ادب کا ایک تاریخی واقعہ تھا۔ تاریخی اس لیے کہ اس مجموعہ کلام میں چند ایسی نظمیں تھیں جنہوں نے نوجوان قارئین کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔ مثلاﹰ ایک نظم’’ تم اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو اور سو جاؤ‘‘ اسی طرح ایک اور نظم کہ،’’ مری چنبیلی کی نرم خوشبو ترا بدن ڈھونڈنے چلی ہے۔‘‘

ایک خاتون کی جانب سے رومان کا ایسا اظہار، پڑھنے والوں کے لیے جہاں اچنبھے کی بات تھی وہیں اردو ادب میں ایسے بے باک نسائی لہجے کا متعارف ہونا ایک خوشگوار واقعہ بھی تھا۔

اسی تناظر میں ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے معروف شاعر اور دانشور افتخار عارف نے کہا،’’ نوجوان خاص طور پر اُن کی پہلی کتاب کو لیے لیے پھرتے تھے۔ ’اوبجیکٹی فیکیشن آف وومن‘ کے خلاف پہلی نظم جو اردو میں کسی نے لکھی ہے تو وہ فہمیدہ ہیں۔ تاہم اُن کی دوسری کتاب ’بدن دریدہ‘ کا ذائقہ بالکل مختلف تھا۔ خواہ وہ فروغ فرخ زاد ہوں یا سلویا پلاتھ یا اس قد کی کوئی اور شاعرہ، فہمیدہ کی دوسرے مجموعہ کلام کی شاعری مذکورہ خواتین شاعرات میں سے کسی سے کم تر درجے کی نہیں ہے‘‘۔

اردو ادب میں فہمیدہ ریاض کے کام کی فہرست یوں تو بہت طویل ہے لیکن ایک بڑا کام جو انہوں نے کیا وہ مولانا جلال الدین رومی کی شاعری کا منظوم ترجمہ تھا۔ رومی کے جذبے کی شدت اور گرمئی عشق کو فہمیدہ نے انہی کے قالب میں سمونے کی کوشش کی ہے۔

فہمیدہ ریاض کی اردو ادب میں خدمات پر بات کرتے ہوئے افتخار عارف نے کہا،’’ فہمیدہ کے ادبی سنگ میلوں میں سے ایک فروغ فرخ زاد کی شاعری کا ترجمہ کرنا بھی ہے۔ فہمیدہ نے انگریزی ادب سے بھی بہت سے تراجم اردو میں کیے اور علالت کے باوجود وہ مسلسل کام میں مصروف تھیں۔ ‘‘ افتخار عارف کا کہنا تھا کہ فہمیدہ کا خاصہ تھا کہ وہ کسی کی خوشنودی کے لیے نہ کچھ کہتی تھیں نہ کرتی تھیں ۔ جو وہ درست سمجھتی تھیں اس کا اظہار برملا کر دیتی تھیں۔

فہمیدہ کی آخری کتاب ’تم کبیر‘ ہے جس میں انہوں نے اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر ایک دلگیر نظم تحریر کی ہے۔ یہ نظم ایک فن پارے کی حیثیت رکھتی ہے۔

فہمیدہ ریاض کے انتقال پر ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے معروف شاعرہ ثروت زہرا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’ فہمیدہ ریاض اردو ادب میں توانائی کی وہ لہر تھیں جس نےپورے زمانے کو اور خاص طور پر ہم لکھنے والی عورتوں کو متاثر کیا اور راستہ دیا۔ وہ فرد کی سطح پر بہت بڑی عورت تھیں۔ وہ سماج کو تبدیل کرنے میں ہمہ وقت منہمک رہتی تھیں۔ اور اگر ہم سماجی اور پاکستان کی ادبی فضا کے حوالے سے دیکھیں تو  فہمیدہ نے اپنی ذاتی زندگی کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سماجی، ادبی اور سیاسی فضا کے اعتبار سے، اور خاص طور پر تراجم کے حوالے سے عالمی ادب پر جیسے متاثر کن نقوش چھوڑے ہیں وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے‘‘۔

فہمیدہ کی کتابوں میں پتھر کی زبان، بدن دریدہ، دھوپ، خطِ مرموز، کھلے دریچے سے،آدمی کی زندگی، کلیات ’سب لعل و گہر‘ اور ’ یہ خانہ آب و گِل‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ ایاز اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کے تراجم اور ناول بھی اُن کی ادبی خدمات کا حصہ ہیں۔

فہمیدہ ریاض اگرچہ اکیس نومبر کو اپنے چاہنے والوں اور مداحین کو چھوڑ کر راہی عدم ہوئیں لیکن اُن کے بولتے لفظ سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ 

حسن مجتبیٰ لکھتے ہیں کہ فہمیدہ ریاض۔ نیلے پیلے غباروں کی طرح ہوا میں معلق بن کر نہیں بلکہ دھرتی اور دھرتی کے دکھوں سے جٖڑ کر رہی۔ اسکی پاداش میں اس نے بڑے بڑے دکھ اٹھائے۔کبھی جلاوطنی تو کبھی کیا ۔پھر وہ جام ساقی کیس میں انکے دفاع کی گواہ تھی کہ زیر بندش سندھی کتابوں اور جرائد پر۔ قائد عوام کی حکومت کی طرف سے پابندی پر سندھی ادیبوں اور مدیروں کی طرف سے قاضی اکبر کے حکومتی ٹربیونل کے سامنے وکیل۔ مجھ سے وہ جب بھی ملی ہم نےہمیشہ سندھی میں بات کی۔ فہمیدہ کو میں اردو سےزیادہ سندھی ادیب سمجھتا ہوِں۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے اس نے شادی بھی ایک سندھی سی کی تھی۔آج سندھیوں سمیت تمام مظلوم لوگ اپنی ایک دوست سے محروم ہوگئے۔

DW/Web Desk

One Comment

  1. سبحان اللہ ۔۔۔ فہمیدہ ریاض صاحبہ کو زبان اور علاقائی سوچ کے دائروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ روشن خیال تھیں اور وہ رنگ، نسل، مذہب اور اسی طرح کے دیگر حدود و قیود سے ماورا تھیں۔ فہمیدہ ریاض کا حوالہ بس انسانیت کا حوالہ ہے۔ ان کا اس جہان فانی سے گزرنا ترقی پسند سوچ کے لئے سانحہ تو ہے مگر ان کی مٹی سے بھی روشنی پھوٹتی رہے گی۔
    فہمیدہ ریاض صاحبہ ۔۔ آپ دلوں میں زندہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *