نئے دور کے انسان کا المیہ کیا ہوگا ؟

بیرسٹر حمید باشانی

مستقبل قریب میں انسانی سماج کو ایک نئی قسم کی عدم مساوات کا خطرہ درپیش ہے۔ یہ حیاتیاتی عدم مساوات ہے، جو ہمارے سماج میں ایک نئی اور خوفناک قسم کی طبقاتی تقسیم پیدا کرے گی۔ ایسا بائیوٹیکنالوجی اور عالمی اشرافیہ کے اشتراک سے ہو سکتا ہے۔ اس نئے نظام میں عام آدمی بالکل ہی بے بس اور بے کار ہو جائے گا۔ چنانچہ انسان کو اب ایک نئی لڑائی درپیش ہے۔ یہ خوف ناک صورت حال ہے۔

اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر حریری اپنی نئی کتاب میں لکھتا ہے کہ گزشتہ چند عشروں کے دوران پوری دنیا میں لوگوں کو بتایاگیا کہ بنی نوع انسان معاشی و سماجی مساوات کی طرف گامزن ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جاتا رہا کہ عالمگیریت اور جدیدٹیکنالوجی ہمیں اس منزل تک پہنچائے گی۔ مگر آثاریہ ہیں کہ اس منزل پر لے جانے کے بجائے شائد اکیسویں صدی ہمیں انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ نابرابر سماج کی طرف لے جارہی ہے۔ اگرچہ عالمگیریت اور انٹرنیٹ مختلف ممالک کے درمیان موجودخلیج کو پاٹ رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف طبقات کے درمیان تضادات کو بھی ابھار رہے ہیں۔ اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دنیا عالمگیریت اور عالمی اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر بھی نمایاں ہیں، جن سے لگتا ہے کہ یہ نسل بائیولاجیکل کاسٹ یعنی حیاتیاتی ذاتوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ 

ہماری اس دنیا میں عدم مساوات کا آغاز پتھر کے زمانے سے ہوا تھا۔ تیس ہزار برس پہلے شکار پر گزارا کرنے والا انسان اپنے پسندیدہ افرادکومرنے کے بعدہاتھی دانت اور دوسری قیمتی اشیا کے ساتھ دفن کرتا تھا۔ مگر عام لوگوں کے حصے میں خالی قبرہی آتی تھی۔ اس کے باوجود شکار کے زمانے کا انسان کسی بھی اور سماج سے زیادہ مساوات پسند اور یک طبقاتی تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس بہت کم جائداد ہوتی تھی۔ اورطویل مدتی عدم مساوات کے لیے جائداد کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ 

زرعی انقلاب کے بعد نجی ملکیت میں کئی گناہ اضافہ ہوا ، اور اس کے ساتھ عدم مساوات بھی بہت بڑھ گئی۔ انسان نے زمین، درخت اور اوزار کی نجی ملکیت حاصل کرنی شروع کی ،جس سے سخت قسم کا طبقاتی اورمراتب وار یعنی ہائرارکی نظام وجود میں آیا۔ اشرافیہ کے ایک چھوٹے سے گروہ نے دولت پر نسل در نسل اجارہ داری کا نظام قاہم کر لیا۔ عام آدمی نے اس نئے بندوبست کو فطری بلکہ آسمانی حکم کے طور پر قبول کر لیا۔ پادریوں ، شاعروں اور فلسفیوں نے پوری دنیا میں انتہائی صبر آزما انداز میں یہ وضاحت پیش کرنی شروع کی کہ انسانی جسم کی طرح معاشرے کے سب افراد برابر نہیں ہو سکتے۔ پاوں کو سر سے نیچے رہ کر ہی چلنا ہوتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوچ بھی بدلی۔

جدید دور میں مساوات تقریبا ہر ایک انسانی سماج کے لیے ایک مثالی آدرش بن گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ لبرل ازم اور کمیونزم کے نئے نظریات تھے، اور دوسری بڑی وجہ صنعتی انقلاب تھا، جس نے عام آدمی کو بہت بڑی اہمیت بخش دی۔ چونکہ صنعتی معیشت کا دارمدار عام آدمی پر تھا، اور صنعتی دور کی فوجوں کا انحصار عام سپاہیوں پر، چنانچہ آمریتوں اور جمہوریتوں دونوں نے عوام کی صحت، تعلیم اور فلاح و بہبودپر خرچ کرنا شروع کیا۔ عوام پر یہ وسائل انہوں نے اس لیے خرچ کرنے شروع کیے کہ ان کوپیداوار کے لیے لاکھوں صحت مند ہاتھوں اور دماغوں کی ضرورت تھی جو ان کی فیکٹریوں اور ملوں کو چلا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مورچوں میں لڑنے کے لیے لاکھوں صحت مند سپاہیوں کی ضرورت تھی۔ 

اکیسویں صدی کی ابتدا میں لوگوں کو توقع تھی کہ سماج میں مساوات کے فروغ کا عمل تیز ہوگا۔ خصوصا ان کا خیال تھا کہ عالمگیریت سے خوش حالی آئے گی ، جس سے تیسری دنیا کے غریب ممالک کو بھی وہ مواقع اور مراعات مل جائیں گی، جو فن لینڈ اور کینیڈا جیسے ممالک کے لوگوں کو حاصل ہیں۔ ایک پوری نسل یہ وعدہ سنتے ہوئے پروان چڑھی۔

مگراب ایسے لگتا ہے کہ یہ وعدہ شاید پورا نہ ہو سکے۔ عالمگیریت نے سماج کے ایک بڑے حصے کو ضرور فائدہ پہنچایا ہے، مگر سماج کے اندر اور مختلف سماجوں کے درمیان عدم مساوات میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عالمگیریت کے فوائد دونوں ہاتھوں سے سمیٹے ہیں ، جبکہ دوسری طرف کروڑوں لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور وہ خوشحالی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ۔ آج دنیا کے ایک فیصد امیر دنیا کی نصف دولت کے مالک ہیں۔ اور اس بھی بڑی خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا کے ایک سو امیر لوگوں کے پاس چار ارب لوگوں سے زیادہ دولت ہے۔ 

یہ صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ دولت مند لوگ بائیوٹیکنالوجی میں ترقی کا فائدہ اٹھا کر معاشی عدم مساوات کو حیاتیاتی عدم مساوات میں بدل سکتے ہیں۔ دولت مند اب تک اپنی دولت سے صرف سماجی رتبہ خرید سکتے تھے، لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ جلد ہی زندگی خریدنے کے قابل جائیں۔ زندگی یعنی عمر میں اضافے کے لیے میڈیکل سائنس کا استعمال ایک مہنگا کام ہو گا ، جس سے صرف دولت مند استفادہ کر سکتے ہیں۔ غریب سائنس کی ان مہنگی اور کم یاب خدمات سے فائدہ اٹھا نہیں سکتا، جس سے ہو سکتا ہے انسان حیاتیاتی ذاتوں میں تقسیم ہو جائے۔ 

پوری انسانی تاریخ میں دولت مند اور آشرافیہ طبقات یہ سمجھتے رہے کہ وہ زیادہ با صلاحیت ہیں، اسی لیے تو ہر چیز ان کے کنٹرول میں ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ ماضی کے ایک کسان اور شہزادے میں صلاحیتوں کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا۔ شہزادے کی برتری امتیازی قوانین اور نظام کی مرہون منت تھی۔ تاہم ہو سکتا سال اکیس سو تک بائیو ٹیک کی وجہ سے امیر زیادہ زہین اور تخلیقی ہو جائے۔ ایک بار جب یہ فرق شروع ہو گیا تو اسے ختم کرنا مشکل ہو گا۔ اگر دولت مند لوگ اپنی بے تحاشا دولت سے اپنے لیے ایک خوبصورت تن اور بہترین دماغ خرید سکتے ہیں۔ اور اس کے استعمال سے امیر و غریب کا فرق بڑھ سکتا ہے۔ 

تو پھر سن اکیس سو میں دنیا ایک فیصد نا صرف دنیا کے امیر ترین لوگ ہوں گے ، بلکہ وہ خوبصورتی، تخلیقی صلاحیتوں اور صحت کے اعتبار سے بھی باقی اکثریت سے بہتر ہوں گے۔ اس طرح جب عام آدمی کی وہ اہمیت ختم ہو جائے گی، جو اسے آج حاصل ہے تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ریاست بھی عام آدمی کی صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود پر اتنا خرچ نہ کرے جو آج ہو رہا ہے۔ تو پھرعام آدمی کا مستقبل چھوٹی سی اشرافیہ کے رحم کرم پر ہوگا؟ 

ہو سکتا ہے فرانس اور نیوزی لینڈ اور کچھ دوسری فلاحی ریاستیں پھر بھی عوامی بہبود کا کام جاری رکھیں، مگر امریکہ جیسی ریاستوں میں اس موقع سے فائدہ اٹھا کرلوگوں کی سہولیات کو واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ تیسری دنیا کی ترقی پذیر ممالک میں عام آدمی کی اہمیت کم ہونے سے عدم مساوات آسمان کو چھو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمگیریت دنیا میں اتحاد کے بجائے انسان کو مختلف درجوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔ گویا عالمگیریت سرحدیں ہٹا کر دنیا کو افقی طور پر متحد کرے گی، مگر انسان کو عمودی طور تقسیم کر کے رکھ گی۔ 

بیسویں صدی میں صنعتی انقلاب سستے مزدور، خام مال ، اور منڈی کے لیے عام لوگوں پر انحصار کرتا تھا۔ لیکن اکیسویں صدی کی پوسٹ انڈسٹریل تہذیب آرٹیفیشل انٹلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت اور بائیو انجنئیرنگ پر انحصار کرنا چاہتی ہے۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ بائیوٹیک اور بے تحاشا دولت کے امتزاج سے عالمی اشرافیہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی تن سازی کر سکتی ہے۔ اپنی مرضی کی شکل و عقل اور تخلیقی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔ اپنی مرضی کے جین کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ اس طرح طبقہ اشرافیہ دنیا میں بے مثال اورلا محدود طاقت اور برتری حاصل کر سکتا ہے۔ بے تحاشا دولت کے استعمال سے ایک نیا طبقاتی سماج پیدا ہوسکتا ہے، جس میں عام آدمی کی وہ جگہ اور اہمیت نہیں ہو گی، جوصنعتی دور نے اسے بخشی تھی، یا جو آج اسے حاصل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *